Sunday , June 24 2018
Home / مذہبی خبریں / حضرت حارث بن صمہ ؓ کوبیئر معونہ کے واقعہ میں شہادت کا اعزاز

حضرت حارث بن صمہ ؓ کوبیئر معونہ کے واقعہ میں شہادت کا اعزاز

آئی ہرک کا تاریخ اسلام اجلاس،ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی اورپروفیسرسید محمدحسیب الدین حمیدی کے لکچرس

حیدرآباد ۔4؍مارچ( پریس نوٹ)رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میدان بدر میں قریش کے پڑائو کے قریب والے چشمہ کے پاس مسلمانوں کو خیمہ زن ہو نے کا حکم دیا ۔مسلمانوں نے وہاں حوض بنا کر پانی کا ذخیرہ محفوظ کر لیا۔حضور اقدسؐ کے لئے میدان کارزار کے شمال مشرق میں ایک بلند ٹیلہ پر نمایاں جگہ سائبان تیار کیا گیا جہاں سے تمام میدان جنگ کا بہ آسانی مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔حضورؐ نے اس عریشہ پر تشریف رکھ کر میدان کا معائنہ کیا۔اس شب کہ جس کے ختم پر جنگ بدر ہوئی، رسول اللہؐ صحابہ کرام کو ساتھ لئے اور ان تمام مقامات کی نشاندہی کر دی جہاں مشرکین مکہ قتل ہونے والے تھے۔ چنانچہ مسلم شریف میں ہے کہ حضور انورؐ نے جس جگہ جس کا متقل ہونا فرمایا تھا دوسرے دن اس کی لاش سرموفرق کے بغیر اسی جگہ دیکھی گئی۔اس شب حضور اقدسؐ اس میں داخل ہوئے اور عبادات میں مشغول ہو گئے۔حضرت علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں کہ اس رات سبھی نے کچھ نہ کچھ نیند لی لیکن رسول اللہؐ نے رات بھر نماز اور دعاء میں گزار دی۔صبح ہوئی تو قریش مقابلہ کے لئے سامنے آئے۔ انھیں ٹیلہ سے نیچے اترتے دیکھ کر رسول اللہؐ نے دعا فرمائی کہ ’’یا اللہ! یہ قریش ہیں۔ یہ اپنے فخر و غرور کے ساتھ آئے ہیں،تیری مخالفت کرتے ہیں اور تیرے رسول کو جھٹلاتے ہیں۔یا اللہ! میں تیری اس مدد کا طالب ہوں جس کا تونے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے۔‘‘ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح 9 بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور 11.30بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ ’1292‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے پہلے سیشن میں سیرت طیبہ کے تسلسل میں واقعات غزوہ بدر اور دوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت صحابی رسولؐ اللہ حضرت حارث بن صمہ انصاریؓ کے احوال پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے اجلاس کا آغاز ہوا۔اہل علم حضرات اور باذوق سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔صاحبزادہ سید محمد علی موسیٰ رضا حمیدی نے اپنے خیر مقدمی خطاب میں تاریخ اسلام کے اہم نکات و ادوار پر مختصر اور جامع تقریر کی۔مولانا مفتی سید محمد سیف الدین حاکم حمیدی کامل نظامیہ و معاون ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک آیت جلیلہ کا تفسیری مطالعاتی مواد پیش کیا۔پروفیسرسید محمد حسیب الدین حمیدی جائنٹ ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک حدیث شریف کا تشریحی اور ایک فقہی مسئلہ کا توضیحی مطالعاتی مواد پیش کیا بعدہٗ انھوں نے آئی ہرک انگلش لکچر سیریز کے ضمن میں حیات طیبہؐ کے مقدس موضوع پراپنا’1024‘ واں سلسلہ وار لکچر دیا۔ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوے ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت بتایا کہ حضرت حارث بن صمہؓ نے قبل ہجرت، مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ حاضر ہو کر شرف ایمان پایا وہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار کے لائق فرد تھے۔ان کا سلسلہ نسب چھ واسطوں سے نجار تک پہنچتا ہے حضرت حارثؓ ، صمہ بن عمرو کے فرزند تھے آپ کی کنیت ابو سعید تھی۔ رسول اللہؐ نے ان کا دینی بھائی چارہ حضرت صہیبؓ رومی سے کردیا تھا جس پر دونوں حضرات ہمیشہ شاداں و مفتخر رہے۔ حضرت حارثؓ نے اپنی پوری زندگی رسول اللہؐ کی خدمت عالیہ میں گزار نے کا شرف پایا۔ وہ مقربان خاص میں شمار کئے جاتے تھے رسول اللہؐ کی خاص توجہ اور نگاہ رحمت ان کی خوش بختی کا سبب تھی۔حضرت حارث بن صمہ ؓ شجاعت و بسالت میں فخر روزگار ، دلیری اور بہادری میں یگانہ اور مہارت حرب میں آپ اپنی مثال تھے غزوہ بدر کے موقع پر مقام روحاء میں مجروح ہو جانے کے سبب واپس بھیج دئے گئے تھے لیکن حضور انورؐ نے انہیں بدر کے ثواب اور حصہ میں شامل رکھا یہ ان کے لئے منفرد اعزاز تھا کہ برکات بدر میں انہیں شریک رکھا گیا۔ غزوہ احد میں نہایت نازک لمحات میں بھی پوری ثابت قدمی سے اعداء دین کا سامنا کیا ۔ ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے کہا کہ حضرت حارث بن صمہؓ کو شہادت پانے کی دلی تمنا تھی جو بیر معونہ کے معرکہ میں پوری ہوئی۔ اس سانحہ میں کثیر تعداد میں مسلمان شہید کر دئے گئے تھے۔ حضرت حارثؓ بن صمہ مبلغین اسلام کی اس جماعت میں شامل تھے۔ اشقیاء نے ان پر اپنے تیروں کی بارش کر دی جو حضرت حارثؓ کے بدن کے ہر حصہ میں پیوست ہو گئے آپ نے اس حالت میں بھی اللہ تعالی کے حضور سجدہ ریزی کی سعادت پائی اور جاں بحق ہو گئے ۔حضرت حارثؓ کے دو فرزند حضرت سعد اور ابو جہم تھے حضرت حارثؓ نے قبول اسلام کے بعد پوری زندگی آقائے دو جہاں کے در اقدس پر گزار دی اور خاتمہ آپ کی تمنا کے موافق شہادت پر ہوا۔اجلاس کے اختتام سے قبل حضرت تاج العرفاءؒ کا تحریر کردہ سلام بحضور خیر الانام ؐپیش کیا گیا۔ ذکر جہری اور دعاے سلامتی پر آئی ہرک کا’1292‘ واں تاریخ اسلام اجلاس اختتام پذیر ہوا۔الحاج محمد یوسف حمیدی نے ابتداء میں تعارفی کلمات کہے اور آخر میں محمد مظہر اکرام حمیدی نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT