Wednesday , December 12 2018

حضرت خواجۂ اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

ڈکٹر محمد سراج الرحمن

ڈکٹر محمد سراج الرحمن

اولیاء اللہ اور اہل اللہ کا معنی ’’اللہ تعالیٰ کا مقرب ترین بندہ‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والے ان بندوں کی علامات یہ ہیں کہ ان کے دل میں سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کا ڈر نہیں ہوتا، نہ ان کو کسی بات کا حزن و ملال ہوتا ہے، ان کی ہر حرکت اور ہر ادا سے ایمان کی روشنی جھلکتی ہے اور وہ بڑے متقی و پرہیزگار ہوتے ہیں۔ اگر کسی بندۂ مؤمن میں مذکورہ علامات پائی جائیں تو سمجھو کہ وہ اللہ کا ولی ہے۔

امت مسلمہ کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکا، ولایت کا سلسلہ جاری ہے۔ وحی کا سلسلہ ختم ہوچکا، الہام کا سلسلہ جاری ہے۔ معجزات کا سلسلہ ختم ہوچکا، لیکن کرامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس امت کے علماء اور اولیاء اللہ کارِ نبوت یعنی تبلیغ اسلام کے وارث ہیں، جو تاقیام قیامت دعوت دین حق اور اسلام کو عام کرنے میں خلوص دل سے مصروف رہیں گے۔ یہ منصبی ذمہ داری اولیاء اللہ ہر دور میں بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔
ہندوستان میں جب حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے چالیس مریدوں کے ساتھ قدم رکھا تو اس وقت باطل پرستوں اور بت پرستوں کا ہر طرف غلبہ تھا۔ حضرت خواجہ اجمیری سمندر جیسی سخاوت، آفتاب جیسی شفقت، زمین جیسی تواضع اور پہاڑ جیسی استقامت کے پیکر تھے۔ ان ہی اوصاف سعیدہ کے ساتھ آپ نے اس وقت کے کٹر بت پرستوں کا مقابلہ کیا، راجاؤں کی حکمرانی کو اُکھاڑ پھینکا اور سلطان شہاب الدین غوری کو فتح عظیم دِلاکر ہندوستان میں دین حق کی تبلیغ و اشاعت کا اہم کارنامہ انجام دیا۔ آپ کے دربار سے ہندو مسلم دونوں سیراب ہوتے رہے، اس طرح آپ کے دست مبارک پر لاکھوں غیر مسلموں نے حلقہ بگوش اسلام ہوکر جہنم کی آگ سے نجات حاصل کی۔

حضرت خواجہ اجمیری نے دین اسلام کی اشاعت کے لئے اپنی پوری زندگی صرف کردی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمان کئی صدیاں گزرنے کے باوجود آپ کی خدمات کو فراموش نہیں کرسکے، جب کہ دنیاوی حکمرانوں کو لوگ صدی دو صدی کے بعد فراموش کردیتے ہیں۔ حضرت سلطان الہند نے دین کی اشاعت کے لئے جو جدوجہد کی ہے، اس کا ثواب آپ کے نامۂ اعمال میں قیامت تک لکھا جاتا رہے گا۔ آپ نے لوگوں کو دین حق کی دعوت دی، لوگوں کا رشتہ رب العالمین سے جوڑا اور بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ راست دِکھائی۔ ان تمام لوگوں کی نمازیں، تسبیحیں، عبادتیں، ذکر و اذکار، شب بیداری، روزوں کا اہتمام، قرآن پاک کی تلاوت، نوافل کی ادائیگی، صدقہ و خیرات، یعنی جس طرح لوگوں کو ان کے نیک اعمال کا ثواب ملتا ہے، اسی طرح نیک اعمال کی ترغیب دینے والے کو بھی ثواب عطا کیا جاتا ہے، جب کہ نیک اعمال کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ یعنی نیک اعمال کی ترغیب دینا اور لوگوں کو راہ راست پر گامزن کرنا داعی کے حق میں ثواب جاریہ ہے، جس کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں قیامت تک لکھا جاتا رہے گا۔ داعی اول نے زید کو نیکی کی ترغیب دی، زید نے اپنی اولاد کو ترغیب دی، زید کی اولاد نے اپنی اولاد کو نیکی کی ترغیب دی، یعنی نیکیوں کا یہ سلسلہ جب تک جاری رہے گا، داعی اول کے نامۂ اعمال میں ثواب کا اضافہ ہوتا رہے گا۔ تب ہی تو رب العالمین نے داعی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’اور یقینا(اے محبوب! آپ کے لئے) ہر آنے والی گھڑی، پہلی سے (بدرجہا) بہتر ہوگی‘‘ (سورۃ الضحیٰ) یعنی دعوتِ دین کا کام ثواب جاریہ ہے، جس کا نفع داعی کو قیامت تک ملتا رہے گا۔ لہذا امت مسلمہ کی یہ منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کام کو آگے بڑھائیں اور نصرتِ الہٰی کے مستحق بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی اشاعت کا جذبہ عطا فرمائے اور اس کام میں عملی طورپر حصہ لینے کی توفیق بخشے۔ (آمین)

نصیحتیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’میری امت اس وقت تک سرسبز رہے گی، جب تک کہ تین خصلتیں اس میں باقی رہیں گی۔ ایک یہ کہ جب وہ بات کرے تو سچ بولے، دوسری یہ کہ جب وہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرے تو انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دے، تیسری یہ کہ جب اس سے رحم کی درخواست کی جائے تو وہ کمزروں پر رحم کرے‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمانو! اگر تم چھ باتوں کا ذمہ لے لو تو میں تمہارے لئے جنت کا ذمہ لیتا ہوں۔ ایک یہ کہ جب تم بولو تو سچ بولو، دوسرا یہ کہ جب تم وعدہ کرو تو اس کو پورا کرو، تیسرا یہ کہ جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت نہ کرو، پانچواں یہ کہ ظلم سے اپنا ہاتھ روکے رکھو، چھٹا یہ کہ اپنے جذبات نفسانی کی باگ ڈھیلی نہ ہونے دو‘‘۔ (مرسلہ)

TOPPOPULARRECENT