Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / (حضرت خواجہ غریب نوازؒ) خواجہ کا چلّہ، تاریخی پس منظر

(حضرت خواجہ غریب نوازؒ) خواجہ کا چلّہ، تاریخی پس منظر

ڈاکٹر عقیلؔ ہاشمی
اسلام دین فطرت ہے اور داعی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ کا ایک ایک لمحہ ہدایت کا مینارئہ روشن سے جدا نہیں۔ اولیاء اللہ اسی چراغِ نور سے اپنی زندگیوں کو تابناک بناتے ہیں اور یہی اسلام کے نقیب کتاب و سنت کی حکمتوں کے معدن ہیں جن کے خزانوں سے خلق خدا تقویٰ و پرہیزگاری کے گوہر آبدار حاصل کرتی ہے جب کہ صوفیہ کرام مشائخ عظام اور امر و نواہی کی پابندی کے ساتھ ساتھ علم معرفت کے حصول کے خواہاں ہوتے ہیں اور اس علم معرفت کا دائرہ بہت وسیع ہے اس میں حسنات اور سیّات دونوں شامل ہیں۔ حرض و ہوا نفس کی خواہشات، محاسبہ حقائق کی تلاش عرفان، علم، زہد، ورع، تقرب محبت، مشاہدات غرض بہت ساری باتیں ایمان و ایقان سے متعلق ہیں اس کے لئے یکسوئی توجہ انہماک تنہائی یا عزلت نشینی یا پھر خلوت جسے عرف عام میں چلّہ کشی کہا جاتا ہے ضروری ہے اس تمہید کا منشاء مذکورہ بالا عنوان خواجہ اجمیریؒ سے موسوم چلّہ واقع مغلپورہ کے تاریخی پس منظر کو بتلانا ہے۔ قبل اس کے اس چلّہ کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں گفتگو میں مناسب ہوگا کہ اس چلّہ کشی کی حقیقت کی وضاحت کی جائے۔ دراصل لفظ ’’چھلہ‘‘ غلط ہے۔ صحیح لفظ ’’چلّہ‘‘ یعنی چہل روزہ خلوت نشینی صوفیہ کے نزدیک اس کا مقصد پابندی اوقات کی مشق ہے۔ اس چالیس (40) دنوں کی خصوصیت کے بارے میں قرآن اور حدیث سے استفادہ کیا جاسکتا ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں چلّہ یا اربعین کی تخصیص پائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ قرآن مجید میں لفظ اربعین چار سورتوں میں آیا ہے۔ سورہ بقرہ، سورہ مائدہ، سورہ اعراف اور سورہ احقاف۔ سورہ اعراف میں ارشاد حق تعالی ہے ’’ووعدنا موسی ثلاثنین لیلۃ‘‘ الخ  ترجمہ: ہم نے موسیٰ علیہ السلام سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور ہم نے اس کو دس راتوں کے ساتھ پورا کیا اس طرح وہ اپنے پروردگار کے پاس چالیس راتوں تک رہے۔ (پارہ: 9)

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ ’’جس نے چالیس دن اللہ کے واسطے خالص کردئیے (خلوص کے ساتھ ذکر الٰہی عبادات میں مصروف رہا) تو حکمت کے چشمے اس کے دل سے پھوٹیں‘‘۔ چنانچہ اولیاء کبار بزرگان دین عبادت و ریاضت کے سلسلے میں چلّہ کشی کا التزام رکھتے تھے یہ بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تقلید و پیروی ہی تو ہے۔ آپ سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یادِ الٰہی کے لئے غار حِرا تشریف لے جاتے اور وہاں مسلسل کئی کئی رات دن قیام فرماتے۔ ایسے وقتوں میں نزولِ وحی حق تعالیٰ کا واقعہ ظہور پذیر ہوا۔ الحمد للہ صوفیہ کرام امت خلوت نشینی یا چلہ کشی کے بارے میں متفق ہیں کہ یہ اخلاص کا ستون ہے۔ حضرت ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں ’’میں نے خلوت سے زیادہ اور کوئی چیز اخلاص پیدا کرنے والی نہیں دیکھی‘‘۔ حضرت شبلیؒ کا ارشاد ہے ’’خلوت کو اپنے پر لازم کرلے اور اپنے نام کو مٹادے جب تک کہ تجھے موت نہ آجائے‘‘۔ حضرت یحییٰ بن معاذ رازیؒ کہتے ہیں ’’خلوت صدیقین کی آرزو ہے اور یہ خلوت نشینی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سچی پیروی ہے، اس سے روشن ضمیری، ذکر الٰہی کی حلاوت، صفائے نفس، تقریبِ حق نیز کشف و جذب بقا پیدا ہوتا ہے۔ اس میں اعمال حسنہ منکرات سے نفس کی روک تھام ارکان اسلام نماز، روزہ نیز تلاوت قرآن، وقت مقررہ پر اذکار و اوراد کا اہتمام ممکن ہے، ان تمام امور کی ادائیگی میں کسی قسم کا تساہل و تکاہل سرزد نہیں ہوتا، بندہ خلوت میں دل کے ساتھ زبان سے بھی ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کا ورد مسلسل کرتا ہے اس کے ذریعہ وہ قائم بالذات ہوجاتا ہے اور غیر کا محتاج نہیں رہتا۔ شاید اسی کا نام مکاشفہ مشاہدہ اور معائنہ بھی ہے اور یہی خلوت نشینی یا چلّہ کشی کا منتہائے مقصود ہے۔ اس منزل پر حضرت سلطان  الہند خواجہ اعظم خواجہ معین الدین چشتی سنجری اجمیریؒ کی شخصیت مہتم بالشان نظر آتی ہے کہ آپ حضرت خواجہ عثمان ہارونیؒ سے بیعت کے بعد آپ ہی کے ہمراہ دمشق وغیرہ  کے بعد حرمین شریفین کا قصد فرمایا، حضرت عثمان ہارونیؒ کی تعلیمات سے فارغ ہوکر وطن واپس ہوئے پر کچھ دنوں کے بعد حج کا ارادہ کیا مدینہ منورہ میں حاضری دی اور سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اذنِ باطنی کا اشارہ پا کر ہندوستان کے لئے چل پڑے۔ ہرات، بلخ سے غزنی آئے وہاں سے ہندوستان کی جانب روانہ ہوئے۔ اولاً ملتان پھر لاہو رمیں حضرت سیدنا ابوالحسن علی بن عثمان بن علی جلابی والہجویریؒ کے آستانے پر معتکف ہوئے، اس چلّہ کشی مکمل ہونے پر یہاں سے دہلی جاتے ہوئے یہ مشہور شعر فرمایا  ؎
گنج بخش فیض عالم مظہر نورِ خدا
ناقصاں را پیر کامل، کاملاں راہ رہنما
دہلی میں حضرت خوجہ اعظم کا قیام مختصر رہا وہاں سے آپ اجمیر تشریف لائے۔ آپ کے دست حق پرست پر لاکھوں لوگ ایمان سے مشرف ہوئے اور یہیں 6؍ رجب المرجب 633ھ مطابق 1236ء واصل بحق ہوئے آپ کا آستانہ زیارت گاہ عام و خاص ہے۔ روضۂ مبارک پر حضرت خواجہ حسین ناگوریؒ نے گنبد اور دیگر تعمیرات کروائیں، ہر دور ہر زمانے میں شاہان وقت امیر امراء نیز صاحبان ربط و نسبت کا اژدہام رہتا۔
آپ کے تبرکات سے فیضیابی کا معاملہ یہ ہے کہ آج بھی آپ کے آثار کے تحفظ کی ضمن میں دنیا بھر خصوصاً ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آپ کے نام سے منسوب چلّے قائم کئے گئے ہیں، چنانچہ حیدرآباد فرخندہ بنیاد جس کو مدینۃ الاولیاء بھی کہا جاتا ہے اسی شہر کے محلہ مغلپورہ میں حضرت سلطان الہند خواجہ غریب نوازؒ کے نام سے موسوم چلّہ قائم ہے جس کا تاریخی پس منظر کچھ اس طرح ہے۔

دکن میں سلسلۂ ابو العلائیہ کے بانی حضرت شاہ محمد قاسم ابوالعلائی المعروف شیخ جی حالیؒ اپنے پیر و مرشد حضرت میاں عزت اللہ شاہ صاحبؒ قبلہ کے حکم پر بعہد نواب میر نظام علی خاں آصف جاہ ثانی حیدرآباد آئے اور (29) برس تبلیغ دین رشد و ہدایت کی خدمت انجام دی اور 29؍ ربیع الثانی 1233ء کے زمانہ نواب میر اکبر علی خاص آصف جاہ ثالث وصال فرمایا، آپ کے جانشین حضرت سید عمر علی شاہ ابوالعلائیؒ کے اجازت یافتہ خلیفہ نواب محمد زبردست خاں ابوالعلائی نبیرئہ نواب زبردست خاں قصوری مقرب خاص نظام الملک آصف جاہ اول نواب میر قمر الدین خاں، قلعہ ایلگندل کے قلعدار و سہ ہزاری منصبدار، اجمیر شریف حاضر ہوئے۔ حضرت غریب نوازؒ کے فیوض و برکات عنایتوں سے مالا مال واپسی پر جھونجھوں حضرت عمر علی شاہ صاحب قبلہ کی قدمبوسی کرتے ہوئے تبرکات خواجہ اعظمؒ کے علاوہ حضرت عمر علی شاہ ابوالعلائی سے بھی مزید تبرکات غریب نوازؒ کے خواہش مند ہوئے حضرت ممدوح نے تبرکات خواجہ سلطان الہند کو اس شرط کے ساتھ عطا فرمایا کہ انہیں نہایت اہتمام و احترام سے رکھیں۔ نواب محمد زبردست خاں ابوالعلائی ان بیش بہا مقدس تبرکات کو لیکر حضرت سید عمر علی شاہ ابالعلائیؒ کے ہمراہ حیدرآباد پہنچے اور اپنی دیوڑھی سے متصل ایک نہایت شاندار عمارت 1247ھ مطابق 1832ء میں تعمیر کروائی اور اس کا نام ’’خواجہؒ کا چلّہ‘‘ رکھا اس عمارت میں تبرکات غیرب نوازؒ کے ساتھ ساتھ آثار شریف حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی محفوظ کردئیے اور اپنی جاگیرات سے ایک قابل لحاظ رقم اس کے انصرام کے لئے مختص کردی ہر سال ماہ رجب عرس خواجہ اعظمؒ کے موقعہ پر سہ روزہ تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا یعنی 5؍ رجب کو جلوس صندل مبارک درگاہ شریف شیخ جی حالیؒ ابوالعلائی قبلہ سے حضرت سید عمر علی شاہ ابوالعلائی کے سرکردگی میں خواجہ کا چلّہ پہنچتا اور مراسم عرس ادا کئے جاتے، حضرت عمر علی شاہ ابوالعلائی کے انتقال کے بعد بحیثیت سجادہ حضرت فرزند علی شاہ ابوالعلائی، حضرت صوفی کریم الدین حسینی ابوالعلائی اور ان کے بعد حضرت صوفی شاہ محمد صابر علی ابوالعلائیؒ نے جلوس صندل کی قیادت فرمائی اور مراسم عرس انجام دئیے۔ ادھر سلاطین آصف جاہی بھی حضرت خواجہ اعظمؒ سے اپنی مکمل عقیدت کے ساتھ خود کو وابستہ رکھا، آصف جاہ ششم نواب میر محبوب علی خاں نے ایک فرمان کے ذریعہ خواجہ کا چلّہ کے انتظامات کو صرف خاص کے تحت کردئیے لیکن سجادہ نشین جلوس صندل کی قیادت مراسم عرس شریف کی ادائیگی کی خدمت سجادگان حضرت شیخ جی حالیؒ ابوالعلائی کے تفویض رہی، آصف جاہ سادس 6؍ رجب المرجب کو بہ نفس نفیس حاضر ہوتے تھے جب کہ نواب میر عثمان علی خاں آصف جاہ سابع بھی تا حیات اسی طریق پر عمل پیرا رہے۔
حسب عملدارقدیم۔ بہ اہتمام ایچ ای ایچ دی نظامس ٹرسٹ اوقاف کمیٹی اس سا ل بھی سلطان الہند خواجہ غریب نوازؒ کا سالانہ سہ روزہ عرس شریف زیر نگرانی صوفی شاہ محمد مظفر چشتی ابوالعلائی سجادہ نشین خواجہ کا چلّہ بصد ادب و احترام۵تا۷  رجب المرجب ۱۴۳۷ مطابق 13 تا 15 اپریل 2016عقیدت و محبت سے منایا جاتا ہے۔ جس میں عوام و خواص کی کثیر تعداد شریک ہوکر فیوض و برکات خواجہؒ سے خود کو مالا مال کرتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT