Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حضرت خواجہ معز الدین ترکی ؒ علم و عرفان کے پیکر تھے

حضرت خواجہ معز الدین ترکی ؒ علم و عرفان کے پیکر تھے

حضرت مولانا خواجہ معز الدین ترکی رحمتہ اللہ علیہ کا اصل اسم مبارک سید محمد ہے۔ لیکن عرفیت میں مولانا معز الدین ترکی کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ کا تبحر علمی مسلمہ ہے یہ بات بھی عام ہے کہ آپ کو ترکستان کی بادشاہت حاصل تھی۔ تلاش حق میں آپ نے حکومت کو ٹھکرا کر ہندوستان کا رُخ کیا اور دہلی پہنچ کر حضرت خواجہ نظام اولیاء محبوب الہی رحمتہ اللہ علیہ کے حلقہ ارادت میں شامل ہوگئے۔ اپنی عمر کے آخر حصہ میں پیر ومرشد کے ارشاد کی تکمیل کے لئے دکن تشریف لائے اور بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہلی کے قیام کے زمانہ میں حضرت مولانا معز الدین ؒ اور حضرت تاج الدین نجفی ؒ اپنے باہمی تعلقات کے باعث ہمیشہ ہم خیال رہے اور دونوں کی آپسی یگانگت کا نتیجہ تھا کہ جب حضرت مولانا معز الدین صاحب نے دکن جانے کا عزم ظاہر کیا تو حضرت تاج الدین نجفی ؒ بھی آپ کے ہمراہ تشریف لائے اور اس زمانہ میں کوہیر جس کا نام انکھارہ پٹنم تھا راجہ پرتاب کا راحت کدہ تھا ورنگل اس کا پایہ تخت تھا ، کوہیر سے ورنگل تک سرنگ بنی ہوئی تھی ، راجہ پرتاب سلطان حسن گنگو بہمنی حکمران بیدر کا بادشاہ تھا سلطان نے راجہ کی بغاوت کی وجہ سے فوج کشی کی لیکن وہ ناکام رہا۔ حضرت مولانا معز الدین ؒ اور حضرت اج الدین ؒ کی دعاؤں اور اعانت سے دوسری مرتبہ کامیاب ہوگیا ۔ اس لڑائی میں حضرت شیخ شہاب الدین اور حضرت الدین نجفی شہید ہوگئے۔ اس معرکہ کے بعد حضرت مولانا معز الدین نے حضرت تاج الدین نجفی ؒ کے صاحبزادے کو بلوایا ۔ ان کی آمد کے بعد سلطان نے انہیں عین الملوک کا خطاب دیا اور بحق خون بہا تین بیالیس ایکر زمین معہ سند عطا کی جبکہ حضرت مولانا معز الدین نے اس اراضی میں کچھ نہیں لیا عین الملوک کی اولاد کا سلسلہ کوہیر میں ابھی جاری ہے لیکن حضرت مولانا معز الدین رحمتہ اللہ علیہ کی کسی اولاد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ اس طرح آپ سجادہ یا پھر متولی نہیں ہیں جب مجاور خدام بہت ہیں آپ کی بزرگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ؒ خاص طور پر آپ کی زیارت کے لئے کوہیر تشریف لائے تھے اور جس باغ میں قیام فرمایا تھا آج تک اس باغ کو خواجہ باغ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت کے وصال کے بارے میں وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کیونکہ تاریخ وصال معلوم نہیں ہوسکی۔ البتہ عرس مبارک چونیکہ ہر سال 15جمادالثانی کو ہوتا ہے جس سے قیاس کیا جاتا ہے کہ شاید حضرت کا تاریخ وصال یہی ہو۔ مزار شریف آبادی سے قریب کھلے میدان میں واقع ہے۔ حضرت کے عرس کے موقع پر ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ بلالحاظ مذہب و ملت شریک ہوتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT