Tuesday , November 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت روح الامین کی رفتار

حضرت روح الامین کی رفتار

سید شمس الدین مغربی

ایک دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا ، اے جبرائیل: کبھی تمہیں آسمان سے مشقت کے ساتھ بڑی جلدی اور فوراً بھی زمین پر اترنا پڑا؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا۔ ہاں ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، چار مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ مجھے سرعت کے ساتھ فوراً زمین پر اترنا پڑا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کس کس موقع پر؟ جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: ۱۔ ایک تو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیاتو میں اس وقت عرش الہیٰ کے نیچے مقام سدرۃالمنتہیٰ پر تھا۔ مجھے حکم ہوا جبرائیل میرے خلیل کے آگ میں پہنچنے سے پہلے فوراً میرے خلیل کے پاس پہنچو۔ چنانچہ میں بڑی سرعت کے ساتھ اس سے پہلے کہ وہ آگ میں پہنچتے ، میں اُن کے پاس پہنچ گیا۔
۲۔ دوسری بار جب حضرت اسمعیل علیہ السلام کی گردن اطہر پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں ذبح کرنے کی خاطر چھری رکھی تو مجھے حکم ہوا کہ چھری چلنے سے پہلے ہی زمین پر پہنچو اور چھری کو الٹا کر دو۔ چنانچہ میں چھری چلنے سے پہلے ہی زمین پر پہنچ گیا اور چھری کو چلنے نہ دیا۔
۳۔ تیسری مرتبہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو بھائیوں نے کنوئیں میں گرایا تو مجھے حکم ہوا کہ میں یوسف علیہ السلام کو کنوئیں کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے زمین پر پہنچوں اور کنوئیں کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے اپنے پروں پر انہیں اٹھا کر کنوئیں کے ایک پتھر پر بٹھا دوں۔
۴۔ چوتھی مرتبہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کافروں نے آپ (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے دندانِ مبارک کو شہید کیا تو مجھے حکم ہوا کہ جبرائیل فوراً زمین پر پہنچو اور میرے محبوب کے دندان مبارک کا خون زمین پر گرنے نہ دینا۔ زمین پر گرنے سے پہلے ہی وہ خون اپنے ہاتھوں پر لے لوں اور اے جبرائیل اگر میرے محبوب کا خون زمین پر گر گیا تو قیامت تک زمین سے نہ کوئی سبزی اگے گی نہ کوئی درخت۔ چنانچہ میں بڑی سرعت کے ساتھ زمین پر پہنچا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خون مبارک کو ہاتھوں پر لے کر ہوا میں اڑا دیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT