Friday , August 17 2018
Home / مذہبی صفحہ / حضرت سید شاہ جمال الدین حسنی الحسینی ؒ

حضرت سید شاہ جمال الدین حسنی الحسینی ؒ

محمد مجیب احمد
حیدرآباد فرخندہ بنیاد اولیائے عظام اور صوفیائے کرام کی ضیاء پاشیوں سے منور ہے ۔ ان کے فیوض و برکات کا روحانی سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے ۔ ان نفوس قدسیہ میں حضرت سید شاہ جمال الدین حسنی الحسینی القادری قبلہ ؒ کی ذاتِ بابرکت بھی شامل ہے جنھوں نے تیرھویں صدی ہجری میں شہر گجرات کے مقام جام نگر سے تشریف لاکر دکن کو زینت بخشی اور مکہ مسجد کے عقبی حصہ میں واقع مسجد محمدیؐ بمقام جلوخانہ لاڈبازار قیام فرمایا اور کئی برسوں تک اپنے فیوض و برکاتِ روحانی سے معتقدین و مریدین کو فیض یاب کرتے رہے۔ جب رُشد و ہدایت کاسلسلہ دراز ہوتا گیا تو آپؒ نے عنبرپیٹ میں خانقاہ کی بنیاد رکھی اور اس احاطہ کو ’’قادری باغ‘‘ سے موسوم کیا۔ آپؒ کی ولادت باسعادت ملکِ شام میں ہوئی ، آپؒ وہیں سنِ شعور کو پہنچے ۔ اپنے عہد طفلی اور شباب کازمانہ علمی ، دینی اور روحانی ماحول میں گزارا ۔ آپؒ کے اہل خانہ میں اہلیہ محترمہ اور ایک صاحبزادی تھیں جو آپؒ کی حیات مبارکہ میں رحلت فرماگئیں۔ نظامِ ششم نواب میر محبوب علی خاں آپؒ سے انتہائی عقیدت رکھتے تھے ۔ حضرت سید شاہ جمال الدین قادری کی بلند و بالا مرتبت شخصیت استاذالعُلماء کادرجہ رکھتی تھی ۔ آپؒ کے درسِ معرفت میں قرآن ، حدیث ، فقہ ، تصوف اور ذکر و سلوک کے جلوے ملتے ہیں۔ آپؒ ایک صوفی باکمال ، ولی کامل ، جید بزرگ اور صاحب قلب و نظر ہونے کے علاوہ علوم باطنی و ظاہری میں یدطولیٰ رکھتے تھے ۔ آپؒ سے کئی کرامات منسوب ہیں۔ آپؒ کے دستِ حق پر ہزاروں لوگوں نے شرف بیعت حاصل کی۔ آپؒ کے چار مشہور خلفائے خاص میں حضرت شاہ عبدالرحیم قادریؒ ، حضرت شاہ سلیمان قادریؒ ، حضرت ولی محمد شاہ قادریؒ اور حضرت سید ابراہیم شاہ قادری ادیبؒ شامل ہیں۔ جن سے رشد و ہدایت کا فیض جاری رہا ۔ آپؒ سب خلفاء کے مزارات بھی اپنے پیر و مرشد کے آستانے کے حدود میں ہی واقع ہیںجومرجع خلائق ہیں۔ رُشد و ہدایت کی یہ عظیم روحانی شخصیت احکاماتِ ربّانی ، تعلیماتِ محمدیؐ اور ارشاداتِ جیلانیؒ سے اس عالم کو روشن فرمانے کے بعد بالآخر ۹؍ جمادی الثانی ۱۳۲۷؁ھ کو اپنے مالک حقیقی سے جاملی ۔ آپ کا عرس شریف (اس سال آپ کا ۱۱۲واں عرس شریف ہے ) ہر سال ۸ تا ۱۱ جمادی الثانی بڑے ہی تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT