Wednesday , December 12 2018

حضرت سید شاہ عطا ء اللہ الحسینی قادری ملتانی پاکستان کی حیدرآباد آمد

جامعہ نظامیہ کی دعوت پر علمی مذاکرہ کے مہمانِ خصوصی

جامعہ نظامیہ کی دعوت پر علمی مذاکرہ کے مہمانِ خصوصی
حیدرآباد ۔ 7 ۔ فروری : ( پریس نوٹ ) : ممتاز عالم دین ‘ شیخ طریقت حضرت پروفیسر ڈاکٹر سید شاہ عطاء اللہ حسینی قدسیؔ (کراچی) پاکستان‘ جامعہ نظامیہ کی دعوت پر ‘علمی مذاکرہ‘بزبان اردو منعقد شدنی 15؍فبروری میں مقالہ پیش کریں گے۔مولانا 9؍فبروری 11بجے شب حیدرآباد تشریف لائیں گے۔ مولانا سید شاہ عطاء اللہ الحسینی کی ولادت 1938 میں گہوارہ تہذیب و ثقافت خطہ مردم خیز حیدرآباد دکن میں ہوئی ۔ مولانا کے والد ماجد حضرت سید شاہ پیر حسینیؒ سلسلہ قادریہ ملتانیہ حیدرآبادکے اسلاف کبار میں سے ہیں ‘ ازہر ہندجامعہ نظامیہ سے فضیلت کی تکمیل فرمائی اور وقت کے مشاہیر و نادر روزگار علماء و اساتذہ سے شرف تلمذ حاصل کیا۔درس و تدریس علوم اسلامیہ کے علاوہ وعظ و خطابت میں آپ کو خدا داد ملکہ اور قوت بیان حاصل ہے۔ صحافت کے میدان میں بھی مولانا حسینی نے اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ فکر وفن کی روشنی پھیلانے کا ایک ذریعہ آپ نے خطابت کو بھی بنایا‘ محراب و منبر کے تقدس و توازن ‘ وحدت اسلامی‘ تصلب افکار‘ تعمیر انسانیت‘ تشکیل معاشرہ انسانی‘ حب الہی و حب رسالت پناہی عشق اسد اللہی آپ کی حیات و عمل کا جوہرہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ آپ کے علمی اور حکیمانہ اسلوب بیان سے خاص طور پر محظوظ ہوتاہے۔ جامعہ ملیہ کراچی کے شعبہ معارف اسلامیہ کے صدر کی حیثیت سے آپ نے عمدہ خدمات انجام دیں۔ مولانا حسینی کے دست ہنر‘ قلم رواں‘ سلیس و متوازن تحریر کے جوہر آبدار سے ایک عالم نے استفادہ کیا ہے ۔آپ کے انگنت وابستگان مریدین معتقدین اور خلفاء ہیں جو اپنی اور معاشرہ کی اصلاح میں شب روز مصروف ہیں۔مولانا جامعہ نظامیہ کی دعوت پر بضمن صدسالہ عرس شریف بانی جامعہ علمی مذاکرہ بزبان اردو بمقام اندرا پریا درشنی ہال‘ باغ عامہ‘ نامپلی‘ حیدرآباد‘ بعنوان ’’حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ بحیثیتِ مجدد و مصلح‘‘ مقالہ پیش کریں گے۔ مولانا کا قیام 4؍مارچ تک رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT