Saturday , December 16 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت سید محمد شاہ ہاشم حسینی ؒ

حضرت سید محمد شاہ ہاشم حسینی ؒ

فیض محمد اصغر

حضرت سید محمد شاہ ہاشم حسینی المعروف حضرت محمد شاہ ؒ کی ولادت ۱۲۴۵؁ ہجری بمقام بیدر ہوئی ۔ آپ قطب الاقطاب حضرت شاہ خاموش رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین و برادر زادہ ہیں۔ حضرت قبلہ کے والد بزرگوار حضرت سید پیران حسینی چشتیؒ کا تعلق خاندان مشائخ چشتیہ سے تھا ۔ آپ کا سلسلہ نسب چالیسویں پشت میں امام المشارق و المغارب حضرت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہ الکریم پر منتہیٰ ہوتا ہے ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار حضرت سید پیراں حسینی چشتی سے حاصل فرمائی بعد ازاں حضرت امیر علی شاہ صاحب جمعدار کی زیرنگرانی تعلیم حاصل کی ۔ آپ انتہائی خوبصورت تھے ۔ آپ کو حضرت جمعدار صاحب کے انتقال کے بعد سندھی فوج کا صدر جمعدار مقرر کیا گیا ۔ کوچہ فتح اﷲ بیگ کالی کمان میں واقع دیوڑھی میں آپ کا قیام تھا ۔ آپ کو تین صاحبزادے حضرت حاجی سید اکبر حسینی چشتی المعروف بہ بڑے میاں صاحبؒ ، حضرت سید محمد شاہ اصغر حسینی چشتی المعروف بہ منجھلے میاں قدس سرہ ، حضرت سید بندہ حسینی المعروف بہ فقیر صاحب میاںؒ ۔
آپ ؒ کو حضرت قطب الاقطاب سید معین الدین محمد محمدالحسینی المعروف بہ حضرت شاہ خاموش رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے وصال سے چند ہفتے قبل مکہ مسجد کے عقب میں واقع اپنی خانقاہ شریف بذریعہ بہبود علی شاہ ابوالعلائی ؒ اور حضرت ہلال شاہ ؒ طلب فرمایا۔ اس زمانے کے رواج کے مطابق جمعدار جب بھی اپنے مکان سے برآمد ہوتا تمام لاؤ لشکر اس کے ہمراہ ہوتا چنانچہ حضرت بھی اسی انداز میں خانقاہ شریف پہنچے ۔ حضرت شاہ خاموش ؒ نے لباس سپاہ گری کو جسم سے علحدہ کیا اور لباس فقیرانہ (بیعت و خلاف و جانشینی) عطا فرمایا اور اسی وقت یہ حکم بھی فرمایا کہ درگاہ حضرت یوسف شریف رحمۃ اللہ علیہما کی زیارت کریں۔ ادھر فوج دن بھر خانقاہ کے باہر کھڑی رہی اور حضرت قبلہ کا انتظار کرتی رہی لیکن اس کو بعد میں اس بات کا علم ہوا کہ حضرت قبلہ نے فوجی لباس کو خیرباد کہہ کر لباس فقیری زیب تن کرلیا ہے۔ نواب مختار الملک نے آپ سے تحریر بھیج کر دریافت فرمایا کہ جمعداری کا عہدہ کس کو منتقل کیا جائے ۔ حضرت قبلہ نے حضرت سید اکبر حسینیؓ کو جمعداری کا عہدہ عطا فرمایا اور اپنی جانشینی کیلئے حضرت سید اصغر حسینی کو منتخب کیا ۔
حضرت محمد شاہ ؒ بھی پیران طریقت بالخصوص اپنے پیر و مرشد کی اتباع میں ذکر جہری ادا کیا کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ حضرت قبلہ نے بیعت و ارشاد کا سلسلہ بھی جاری رکھا تھا ، مختلف گوشہائے حیات سے تعلق رکھنے والے اصحاب آپ سے طالب بیعت ہوتے آپ انھیں سلسلہ عالیہ چشتیہ ، صابریہ ، قادریہ میں داخل بیعت فرماتے ۔ آپؒ کی خانقاہ کے دروازے ہر ایک کیلئے کھلے تھے جہاں بلاامتیاز مذہب و ملت ، بلاتفریق رنگ و نسل ہر فرقہ کے لوگ اور مذہبی رہنما و دینی پیشوا تشریف لایا کرتے تھے ۔
آپؒ نے اپنے اسلاف کے قیمتی ورثہ کی حفاظت فرمائی اور اپنی باضابطہ تحریروں کے ذریعہ اس کے تحفظ کو یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ آپؒ کی حیات مبارکہ میں بہشتی دروازہ کے حصول سے لیکر اس کی تنصیب تک ایسا واقعہ ہے جس کو فراموش کرکے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ یہ ایسا واقعہ ہے جس سے بہشتی دروازہ کی اہمیت و فضیلت معلوم ہوتی ہے۔قطب الاقطاب حضرت شاہ خاموش رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ شریف میں موجود اس بہشتی دروازہ کی حقیقت یہ ہے کہ حضرت شیخ المشائخ فریدالدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد آپ کے مزار شریف کے حجرہ کی تعمیر اس طرح کی گئی کہ حضرت کے تمام خلفاء نے ایک ایک پتھر پر قرآن شریف تلاوت کرکے دم کیااور انھی پتھروں سے دیواریں تعمیر کی گئیں ۔ جب اس حجرہ کی تعمیر تکمیل کو پہونچی تو حضرت نظام الدین اولیاء ؒ نے بشارہ میں ملاحظہ کیا کہ حضور نبی کریم ﷺ اس حجرہ کے دروازہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمارہے ہیں کہ ’’نظام الدین اس دروازہ میں جو بھی داخل ہوگا وہ جنتی ہوگا‘‘ ۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء قدس سرہ نے حضور پاک ﷺ کی آمد اور آپ کی بشارت کا تذکرہ حضرت احمد علاء الدین صابر ؒ سے فوری فرمایا ۔ حضرت کا اس بشارت کو سننا ہی تھا کہ فوراً دروازہ میں داخل ہوگئے چنانچہ اسی وقت اور تاریخ سے اس دروازہ کو ’’بہشتی دروازہ‘‘ سے موسوم کیا گیا ۔ یہی دروازہ ایک طویل عرصہ گذرنے کے بعد بوسیدہ ہوگیا اور اسو قت کے سجادہ نشین نے اس قدیم دروازہ کو نکال کر اس کی جگہ جدید دروازہ نصیب کیا ۔ حضرت محمد شاہ ؒ کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ پاکپٹن شریف اس دروزہ کے حاصل کرنے کی غرض سے تشریف لے گئے اور سجادہ نشین صاحب سے ملاقات کے بعد اپنے دلی ارادہ کو ظاہر فرمایا لیکن دیوان صاحب نے یہ کہہ چونکہ یہ جمیع سلسلہ چشتیہ کا تبرک ہے لہذاء تمام چشتی خانقاہوں میں اس کے حصے کئے جاکر تقسیم ضروری ہے ، دروازہ دینے سے انکار کردیا لیکن حضرت محمد شاہ ؒ اسلاف کے آثار سے محبت میں استقامت کا ثبوت دیتے ہوئے مسلسل بارہ سال تک پاکپٹن شریف کا طویل سفر فرمایا اور ہمت نہیں ہاری ۔ اس سلسلہ کا آخری سفر آپ نے ۱۳۰۷؁ ھ میں فرمایا اور حسب معمول دیوان صاحب سے اپنی دیرینہ خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری آخری حاضری ہے ، دیوان صاحب نے بھی حسب معمول وہی منفی جواب عنایت فرمایا ۔ حضرت قبلہؒ دکن واپسی کے ارادہ سے ریلوے اسٹیشن تشریف لائے جب پہنچے تو معلوم ہوا کہ ریل جاچکی ہے چنانچہ آپ نے اسٹیشن پر ہی قیام فرمایا ، اُدھر دیوان صاحب نے خواب میں حضرت بابا فریدگنج شکر ؒ کو دیکھا کہ حضرت یہ ارشاد فرمارہے ہیں کہ ’’دکن سے محمد شاہ آئے ہوئے ہیں اُن کو دروازہ دیدو‘‘ ۔ چنانچہ دیوان صاحب نے اپنے مریدین کو اس حکم کے ساتھ روانہ کیا کہ اگر شاہ صاحب دہلی تک بھی تشریف لے گئے ہیں تو فوراً واپس بلالاؤ کیونکہ انھیں دروازہ دینے کاحکم ہوا ہے ۔ جب وہ مریدین دہلی روانگی کیلئے اسٹیشن پہنچے تو کیا دیکھا کہ حضرت قبلہ وہیں پر تشریف فرما ہیں جب حضرت قبلہ کو دیوان صاحب کا پیام پہنچایا گیا تو آپ بہت ہی مسرت سے پاکپٹن تشریف لے گئے اور اس بہشتی دروازہ کو حاصل فرمایا ۔ اس طرح حضرت قبلہ کی کامیاب جدوجہد سے یہ بہشتی دروازہ بجانب شمال درگاہ شریف نصب کیا گیا ۔ آپ ۵۰ سال تک مسند سجادگی پر فائز رہے اور آپ کے ہزاروں مریدین ملک کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں ۔ آپ نے (۸۴) سال کی عمر شریف میں ۲۴ محرم ۱۳۳۹ھ کو اس دارفانی سے داربقا کی طرف سفر فرمایا ۔
امسال صد سالہ تقاریب عرس سجادہ نشین حضرت مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری حسب عملدرآمد قدیم ۲۳ اور ۲۴ محرم الحرام کو بڑے پیمانہ پر منائی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT