Friday , September 21 2018
Home / مذہبی صفحہ / حضرت شاہ اعظم چشتیؒ

حضرت شاہ اعظم چشتیؒ

سید اعظم الحسینی قادری

سید اعظم الحسینی قادری

حضرت شاہ اعظم چشتیؒ بارہویں صدی ہجری میں دکن کے مشاہیر عارفین و اولیاء اﷲ میں سے گذرے ہیں آپ کا اسم گرامی سید شاہ اعظم الحسینی تھا اور آپ شاہِ اعظم کے لقب سے مشہور تھے ۔ بچپن ہی سے آپ نہایت سلیم النفس و مہذب تھے ۔ نیند سے بیداری پر گریہ نہیں فرماتے اور نہ مشغول لہو و لعب ہوتے ۔ آپ کے اُستاد مرد درویش و صاحب کمال تھے ۔ آپ اُن کی خدمت میں تنہا بحضور قلب و رغبت مقالات توحید سماعت فرماتے ۔
تلاش حق : عشق الٰہی باینجا رسید کہ سب چھوڑ چھاڑ مرشدِ کامل کی تلاش میں بارادۂ بیعت سفر اختیار کیا اور آرکاٹ تشریف لے گئے جہاں مشہور بزرگ حضرت فقیر علی چشتیؒ کے دست مبارک پر بیعت فرمائی جن کا سلسلۂ طریقت حضرت امین الدین اعلیٰ بیجاپوریؒ پر ملتا ہے ۔
شمائل : آپ نہایت پابند شریعت ، عابد و زاہد ،عارف کامل ، صائم الدہر قائم اللیل ، بغایت خوش تقریر قوی الحافظہ ، فصیح الکلام ، نہایت حسین و جمیل، خوش اخلاق، بے نفس ، نرم طبعیت و ملائم سخن اور مستجاب الدعوات تھے ۔ بقول صاحب مشکوٰۃ النبوۃ آپ ’’جامع کمالات انسانی ‘‘ تھے ۔ کبھی قہقہہ نہیں فرماتے ۔
تصانیف : آپ نے علم تصوف میں نہایت عمدہ و نادر کتابیں تصنیف فرمائیں۔ چنانچہ کتب معراج السالکین ، ارشاد السالکین اور معدن الاسرار کے قلمی نسخہ جات عثمانیہ یونیورسٹی لائبریری اور سالار جنگ میوزیم لائبریری میں دستیاب ہیں ۔
وفات : یہ آفتاب معرفت اُفق جہاں سے ۷ صفر ۱۲۱۱ ھ کو رخصت ہوا ۔ صحن مسجد حضرت سیدن صاحبؒ میں چبوترہ پر آپ کا مزار ہے ۔ آپ کے فرزندان حضرت سیدن صاحبؒ اور مولانا سید عبدالولیؒ آپ کے پہلو میں مدفون ہیں۔ رحمتہ اﷲ علیہم ۔ آپ کے عرس کے لئے ماضی میں اُمرائے پائیگاہ کی جانب سے معمولات مقرر تھے۔

TOPPOPULARRECENT