حضرت شیخ الاسلام ؒکے کانارمے عالم اسلام کیلئے مثالی

حیدرآباد ۔ 4 ۔ فروری : ( پریس نوٹ ) : صدی تقاریب عرس شریف حضرت بانی جامعہ نظامیہ کی مجلس استقبالیہ کا اجلاس آج احاطہ جامعہ نظامیہ میں بصدارت مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین حسینی صابری امیر جامعہ نظامیہ منعقد ہوا۔ مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے خیرمقدم کیا ۔ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ ‘ مولانا س

حیدرآباد ۔ 4 ۔ فروری : ( پریس نوٹ ) : صدی تقاریب عرس شریف حضرت بانی جامعہ نظامیہ کی مجلس استقبالیہ کا اجلاس آج احاطہ جامعہ نظامیہ میں بصدارت مولانا سید شاہ اکبر نظام الدین حسینی صابری امیر جامعہ نظامیہ منعقد ہوا۔ مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے خیرمقدم کیا ۔ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ ‘ مولانا سید صدیق حسینی عارف رکن معزز جامعہ نظامیہ ‘ مولانا سید قبول پاشاہ قادری شطاری رکن معزز جامعہ کے علاوہ شیوخ جامعہ ‘ نائبین شیوخ ‘ اساتذہ جامعہ اور اراکین مجلس استقبالیہ و مجلس انتظامی جامعہ نظامیہ نے شرکت کی ۔اس موقع پر علماء و مشائخ کے ہاتھوں شیخ الاسلام ہال (آڈیٹوریم) کی سنگ بنیاد رکھی گئی ۔ جس کی تعمیر پر 8 کروڑ روپئے کے صرفہ کا اندازہ ہے اس سلسلہ میں جناب محمد سلیم ایم ایل سی (ٹی آر ایس ) اور جناب صوفی محمد نعیم (سکندرآباد ) نے پانچ ‘ پانچ لاکھ روپئے کے گرانقدر عطیہ کا اعلان کیا ۔اس سلسلہ میں یہ تجویز پیش ہوئی کہ ملت کے مخیر 800 حضرات اگر ایک ایک لاکھ روپئے کا عطیہ عنایت کردیں تو یہ پراجکٹ جو اسلامی فن تعمیر کا ایک بہترین نمونہ ہوگی پایہ تکمیل کو پہونچ جائے گی ۔

امیر جامعہ مولانا سید اکبر نظام الدین حسینی صابری نے کہاکہ صدی تقاریب کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ جامعہ کی علمی سرگرمیوں کو وسعت دی جائے اور حضرت شیخ الاسلام بانی جامعہ کے فیضان کو عام کیا جائے ۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے اپنے تعارفی خطاب میں جامعہ نظامیہ اور حضرت بانی جامعہ کی خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت شیخ الاسلام نے 1292 ھ میں بہ اشارہ منامی جامعہ نظامیہ کو تقوی اور توکل کی اساس پر قائم فرمایا ۔ حضرت شیخ الاسلام اپنے وقت کی عظیم شخصیت تھے ۔ آپ آصفجاہ سادس نواب میر محبوب علی خان اور آصفجاہ سابع نواب میر عثمان علی خان کے استاد رہے ۔ آپ کو آصفجاہ سابع نے وزیر امور مذہبی و اوقاف مقرر کیا تھا ۔ جس کی وجہ سے آپ نے ملک و ملت میں بے شمار اصلاحات لائیں ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ الاسلام نے 29 ؍ جمادی الاولیٰ 1336 ھ کو اس دار فانی سے کوچ فرمایا۔ اس طرح آپ کے وصال کو سال حال 100 سال مکمل ہو رہے ہیں ۔ اسی مناسبت سے ارباب جامعہ نظامیہ نے ’’صدی تقاریب عرس شریف حضرت بانی جامعہ نظامیہ ‘‘ کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے ۔

اس سلسلہ میں تعلیمی بیداری مہم کے نام سے مختلف علمی ادبی اصلاحی اور دینی پروگرامس بڑے پیمانے پر ہندوستان بھر میں منعقد کئے جا رہے ہیں۔ حضرت شیخ الاسلام علیہ الرحمہ کے وطن عزیز قندھار شریف مہاراشٹرا سے ان پروگراموں کا آغاز کیا گیا۔ ارباب جامعہ نے اس موقع پر ’’دس نکاتی پروگرام ‘‘ کے عنوان سے دس اہم امور کی طرف اصحاب خیر کو توجہ مبذول کروائی تھی ۔ الحمد للہ ان میں سے بیشتر امور تکمیل پا چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دس نکاتی پروگرام کے تحت جامعہ کے زیر اہتمام دینی مدارس کے قیام کو اولین درجہ پر رکھا گیا تھا ۔ الحمد للہ ملک بھر میں کئی دینی مدارس قائم کئے گئے اور بتدریج یہ کام آگے ہی بڑھتا جا رہا ہے ۔ ہر سال جامعہ کے سالانہ امتحان میں زائد از پانچ ہزار طلبا و طالبات شرکت کر رہے ہیں ۔ شیخ الجامعہ نے کہا کہ 1997 میں کلیۃ البنات کو قائم کیا گیا ۔ اجلاس میں حسب ذیل اصحاب ڈاکٹر محمد عبدالمجید ‘ ڈاکٹر سید بدیع الدین صابری ‘ بہاؤ الدین فاروق ‘ یوسف محی الدین ‘ سید احمد ‘ ڈاکٹر سمیع اللہ خان ‘ ناصر الدین جیلانی ‘ مولانا ڈاکٹر محمد سیف اللہ ‘ میر کمال الدین علی خان ‘ مولانا حافظ محمد عبدالقدیر ‘ محمد محی الدین قادری محمودی ‘ مولانا حافظ محمد عبیداللہ فہیم قادری ملتانی ‘ مولانا محمد فصیح الدین نظامی ‘ مولانا قاضی سید لطیف علی قادری ‘ مولانا سید نعمت اللہ قادری ‘ مفتی محمد حافظ صادق محی الدین فہیم ‘ جناب خواجہ سید ابو تراب قادری قدیری‘ محمد سلیم ایم ایل سی ‘ صوفی محمد نعیم اور دیگر اراکین استقبالیہ نے شرکت کی ۔

TOPPOPULARRECENT