Friday , January 19 2018
Home / شہر کی خبریں / حضرت شیخ الاسلام انتہائی بلند فکر کی حامل شخصیت، حصول علم کا مقصد رضائے الہٰی

حضرت شیخ الاسلام انتہائی بلند فکر کی حامل شخصیت، حصول علم کا مقصد رضائے الہٰی

تبلیغ و اشاعت دین کیلئے ناقابل فراموش خدمات، مفکراسلام شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ مولانا مفتی خلیل احمد کا توسیعی خطبہ

تبلیغ و اشاعت دین کیلئے ناقابل فراموش خدمات، مفکراسلام شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ مولانا مفتی خلیل احمد کا توسیعی خطبہ

حیدرآباد۔/5اپریل، ( سیاست نیوز) شخصیت سازی میں افکار کا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے، جن کی فکریں بلند ہوتی ہیں اُن کی شخصیت بھی قدآور ہوتی ہے۔ مقصد کے حصول کیلئے منصوبہ بندی انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور منصوبہ بندی کیلئے فکر صحیح کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ مفکر اسلام مولانا مفتی خلیل احمد صاحب شیخ الجامعہ ، جامعہ نظامیہ نے آج سہ روزہ توسیعی خطبات کے پہلے دن بعنوان ’’ حضرت شیخ الاسلام : شخصیت، خدمات، افکار‘‘ سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔اردو مسکن، خلوت میں منعقدہ پہلے توسیعی خطبہ کے دوران مولانا سید علی اکبر نظام الدین حسینی صابری امیر جامعہ نظامیہ و سجادہ نشین درگاہ حضرت شاہ خاموش صاحب ؒ نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر مولانا حافظ بدیع الدین صابری، مولانا محمد نعمت اللہ قادری، مولانا فصیح الدین نظامی، مولانا محمد لطیف علی قادری، جناب عبید اللہ فہیم، جناب احمد علی کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ سائنس دنیا کی ہر تحقیق کو یقینی بناسکتی ہے لیکن فکر سائنس سے بلند تر ثابت ہوچکی ہے چونکہ انسان کو انسان بنانا سائنس کے بس کی بات نہیں، لیکن فکر اعلیٰ انسان کو درحقیقت انسان بنانے میں فکری انقلاب پیدا کرسکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ حضرت شیخ الاسلام محمد انوار اللہ فاروقی ؒ بانی جامعہ نظامیہ کی فکری بلندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپؒ نے مخالفتوں اور فتنوں کے خاتمہ کیلئے دین اسلام کی ترویج و اشاعت کا فیصلہ کیا۔ حضرت شیخ الاسلام نے حصولِ علم کا مقصد صرف رضائے الٰہی بنایا جس کے نتیجہ میں آپؒ کی شخصیت کو یہ بلندی حاصل ہوئی۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے بتایا کہ اولیاء و علماء انبیاء کے طرزِ دعوت کا طریقہ اختیار کئے ہوئے اسی فکر میں غرق خدمات انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انبیاء کسی گروہ یا جماعت کی شکل میں مبعوث نہیں ہوئے بلکہ تنہا فکرِ اعلیٰ کے ساتھ زمانے میں انقلاب پیدا کرتے رہے اور اولیاء بھی اسی طریقہ کار کو اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اولیاء کی فکر انبیاء کی فکر کے تابع ہے۔ مولانا نے بتایا کہ لوگوں کو علم سے آشنا کرنا اور اُن میں اخلاق پیدا کرتے ہوئے انسانیت کا درس دینا انبیاء کی دعوت کی بنیاد رہی ہے۔ اسی طرح اولیاء بھی دین اور علم کو پھیلاتے ہوئے لوگوں کو اللہ سے جوڑنے کے کاموں میں مصروف ہیں۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے بتایا کہ حصول علم کا مقصد دین کی خدمت و اشاعت دین ہونا چاہیئے۔ انہوں نے حضرت شیخ الاسلام مولانا انوار اللہ فاروقی ؒ کو بلند فکر، علم دین کو عام کرنے کے علاوہ انتہائی باوقار شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حضرت شیخ الاسلام نے اپنی زندگی میں تبلیغ و اشاعت کے جو کام انجام دیئے ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر دور میں علماء کی ایک جماعت اُمت کو فتنوں سے محفوظ رکھنے میں مصروف رہی۔

مولانا مفتی خلیل احمد نے کہا کہ حضرت شیخ الاسلام نے ہندوستان میں ایک ایسے وقت ملت اسلامیہ کو راہِ حق پر برقرار رکھنے کی کوشش کی جب فتنوں کا بازار گرم تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شیخ الاسلام نے منصوبہ بند انداز میں دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے سلسلہ میں خدمات انجام دی ہیں۔ حضرت مفکر اسلام نے کہا کہ بانی جامعہ نظامیہ نے ہندوستان میں انگریزوں کے تسلط اور انگریزوں کی ریشہ دوانیوں کے دوران ملت میں اتحاد کے علاوہ دین کو صحیح طور پر پیش کرنے کی جرأتمندانہ کوشش کی جبکہ انگریز مسلمانوں میں فرقہ واریت کو بڑھاوا دیتے ہوئے انہیں منقسم کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ علاوہ ازیں انگریزوں کی جانب سے شیعہ۔ سنی اختلاف کے علاوہ قادیانیت کے فروغ و غیر مقلدیت کو بڑھاوا دینے کی کوشش کی جارہی تھی۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے بتایا کہ علماء نے کبھی علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت نہیں کی بلکہ اگر فتاویٰ جامعہ نظامیہ کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں یہ فتویٰ موجود ہے کہ اس طرح کے مدارس قائم کرنا واجب ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء نے سرسید کے عقائد و نظریات کی مخالفت کی چونکہ یہ علماء کا فرضِ منصبی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شبلی جب تک ایک ادیب رہے انہیں بہت پسند کیا جاتا رہا لیکن جب شبلی نے علم عقائد پر مباحث کا آغاز کیا تو علماء نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کتابوں سے مسلمانوں کو ہونے والے نقصان سے واقف کروایا۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے بتایا کہ حضرت شیخ الاسلام نے مملکت آصفیہ کو جب انگریزوں کے گھیرے میں محسوس کیا اور اسلام کے خلاف سازشوں کو عام ہوتا دیکھا تو انہوں نے علم دین کو عام کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان حالات میں حضرت شیخ الاسلام کو نہ صرف انگریزوں کا مقابلہ رہا بلکہ مملکت آصفیہ کے حکمرانوں کے مزاج کے ساتھ بھی انہیں نمٹنا پڑا۔ حضرت شیخ الاسلام نے ان حالات میں بھی علم دین کی اشاعت و رضائے الٰہی کیلئے خدمات کا سلسلہ جاری رکھا جس کا فیضان آج بھی جاری ہے۔ابتداء میں مولانا حافظ شفیع احمد یعقوبی نے منفرد لحن میں قرأت کلام پاک پیش کی جبکہ جناب مصلح الدین انصاری نے نعت رسول مقبول پڑھی۔ مولانا محمد نعمت اللہ قادری نے افتتاحی کلمات میں کُل ہند دعوت اہل سنت و جماعت کی سرگرمیوں سے واقف کروایا۔ مولانا فصیح الدین نظامی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔

TOPPOPULARRECENT