Thursday , November 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت شیخ الاسلام کی سماجی، معاشرتی، اصلاحی خدمات

حضرت شیخ الاسلام کی سماجی، معاشرتی، اصلاحی خدمات

شیخ الاسلام حضر ت مولانا محمد انوار اللہ فاروقی نور اللہ مرقدہ کے احسانات بالعموم مسلمانان ہند اور بالخصوص مسلمانان دکن پر بہت زیادہ ہیں۔آپ نے دنیا میں ایسے وقت آنکھ کھولی جب پورا دکن لہو ولعب، کھیل تماشوں، عیش وعشرت او رجہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ قطب شاہی عادل شاہی اور برید شاہی سلطنتوں کے وراثت میں چھوڑے ہوئے تعیشات کو سلطنت آصفیہ کے جاگیر دارانہ نظام میں پروان چڑھنے کا خوب موقع ملا۔ ان تعیشات نے پورے دکن کو علمی اور اخلاقی طور پر بھسم کرکے رکھدیا تھا۔ البتہ خانقاہی نظام کے تحت صوفیہ کرام کی جلائی ہوئی شمعیں کہیں کہیں ضرور روشن تھیں لیکن بزرگوںکی ان خانقاہوں میں بھی ان کے نااہل جانشینوں کی وجہ سے بہت سی بد اعمالیاں گھس گئی تھیں۔
دکن کو جہالت کے اس غار سے نکالنے اور معاشرے کی اصلاح کرنے کا کام اللہ تعالی نے حضرت مولانا انواراللہ فاروقیؒ کے لئے مقدر کردیا تھا۔ آپ نے اپنے شاگرد بادشاہ وقت کا ذہن علم دوستی، علم پروری اور اصلاحات کی طرف موڑ کر بڑے علمی اور اصلاحی کام کیے۔ جس کی وجہ سے ریاست حیدرآباد کو پورے بر صغیر میں ایک نمایاں مقام حاصل ہو گیا۔ میر عثمان علی خاں آصف جاہ ہفتم کے عہد میں جتنے علمی، اصلاحی تعمیری کام ہوئے ان سب میں بالواسطہ حضرت شیخ الاسلام کا ہاتھ ضرور شامل رہا۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا انوار اللہ فاروقی علیہ الرحمہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، کی اولاد میں ۳۹ ویں پشت میں تھے۔ آپ کے جد اعلی شہاب الدین علی تھی جن کا لقب فرخ شاہ کابلی تھا اور کابل کے رؤساے شہر میں سے تھے۔ (حضرت خواجہ فرید الدین گنج شکرؒ اور حضرت مجدد الف ثانیؒ ان ہی کی اولاد میں ہوئے ہیں) اورنگ زیب عالمگیر نے جب دکن کو فتح کیا تو انہیں قندہار (دکن) میں قاضی یعنی ناظم عدالت کے تقرر کی ضرورت پیش آئی۔ نگاہ انتخاب علامہ قاضی تاج الدین پرجا ٹہری جو شیخ الاسلام کے چھٹی پشت میں دادا ہوتے تھے چنانچہ اس تقریب سے علامہ قاضی تاج الدین دکن میں جابسے پھر قضاء ت کا یہ منصب شیخ الاسلام کے خاندان میں گویا موروثی بن گیا۔

حضرت شیخ الاسلام ۴؍ربیع الثانی ۱۲۶۴ہجری کو ضلع ناندیڑ میں پیدا ہوئے۔ ناظرہ اور حفظ قرآن کی تکمیل کے بعد ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد مولانا قاضی شجاع الدین قندہاری سے پائی اور علوم دینیہ کی اعلی تعلیم کے لیے مولانا عبدالحلیم فرنگی محلیؒ، مولانا عبدالحی فرنگی محلیؒ اور مولانا فیاض الدین اورنگ آبادیؒ کے آگے زانوے تلمذ طے کیا۔ نیز تفسیر اور حدیث کا درس آپ نے شیخ عبداللہ یمنی ؒسے بھی لیا۔
شیخ الاسلام اپنی شادی کے تین سال بعد محکمہ مال گزاری میں سرکاری ملازم ہوگئے۔ دیڑھ سال بعد آپ کے پاس قرض کے معاملے کی ایک ایسی فائل آئی جس میں سو دبھی شامل تھا، آپ نے وہ کاغذ لکھنے کے بجائے استعفاء لکھ کر پیش کردیا۔ افسر اعلی نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ حضور ﷺ نے سودی کاغذ لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے لہذا یہ ملازمت کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ افسر نے کہا کہ آئندہ آپ کے پاس ایسی کوئی فائل نہیں بھیجی جائے گی۔ استعفاء واپس لے لیجے لیکن آپ نے بڑی دیانت کے ساتھ یہ کہتے ہوئے پیش کش مسترد فرمادی کہ ملازم کی حیثیت سے تعمیل حکم میرا فرض ہے انکار میرے لیے جائز نہیں۔ آپ کی دی ہوئی یہ رعایت عارضی ہوگی۔ ممکن ہے آپ کے بعد آنے والا افسر مجھے یہ رعایت نہ دے۔ دیانت داری اور تقویٰ کی یہ عظیم الشان مثال ہے۔ استعفاء کے بعد آپ کو معاشی تنگی کا پھر وہی سامنا کرنا پڑا جس سے آپ ملازمت سے پہلے دو چار تھے۔ اہل دنیا نے آپ کو ترک ملازمت پر ملامت کی مگر آپ کے پیش نظر اللہ تعالی کا وعدہ تھا۔ ترجمہ:اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے کشائش پیدا کردیتا ہے۔ اور ایسے ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے جہاں اسے گمان بھی نہیں ہوتا اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ اللہ اپنا کام (بہر حال) پورا کرکے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر شئے کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ (۶۵؍۲۔۳)
ترک ملازمت کے بعد آپ بڑے صبر وتحمل کے ساتھ درس وتدریس میں لگ گئے اور بہت جلد آپ کے حلقہ درس اور علمی تبحر کی شہرت عام ہوگئی۔ اسی زمانے میں مولانا مسیح الزماں (برادر حضرت زماں خاں شہیدؒ) آصف جاہ ششم نواب میر محبوب علی خاں مرحوم کی تعلیم کے لیے مقرر کئے گئے لیکن ان کے پاس دیگر امور سلطنت بھی تھے اس لیے انہوں نے بادشاہ وقت کی دینی تعلیم کے لیے اپنی جگہ حضرت شیخ الاسلام کا انتخاب کیا اور اپنے طور پر ہی ایوان بادشاہی میں شیخ الاسلام کا نام تجویز کردیا جو آصف جاہ ششم نے سالار جنگ سے مشورہ کے بعد منظور کرلیا۔ مولانا مسیح الزماں پروانہ تقرر ی لے کر جب شیخ الاسلام سے ملے تو انہوں نے یہ کہہ کر یہ پیشکش مسترد کردی کہ ملت اسلامیہ کی خدمت بادشاہوں کی خدمت سے زیادہ بہتر ہے لیکن مولانا مسیح الزماں نے بے حد اصرار کیا اور کہا کہ آپ یہ پیش کش قبول نہ کریں گے تو مجھے سبکی اٹھانی پڑے گی۔ تب شیخ الاسلام نے ان کی خاطر داری میں بادل ناخواستہ قبول کرلی۔ پھر یہ سلسلہ اس قدر طویل ہوا کہ زندگی بھر جاری رہا۔ آصف جاہ ششم کے بعد آصف جاہ ہفتم نواب میر عثمان علی خاں مرحوم پھر ان کے بعد دونوں شہزادے اعظم جاہ اور معظم جاہ نے آپ کے آگے زانوئے تلمذ طے کیا۔
اگرچہ شیخ الاسلام ۱۲۹۴ ہجری اور ۱۳۰۱ ہجری میںدو حج کرچکے تھے لیکن ۱۳۰۵ ہجری میں آپ نے ترک وطن کرکے مدینہ منورہ ہجرت کی تیسرا حج کیا اور جوار رسولﷺ میں سکونت اختیار کرلی۔ یہاں آپ نے قیام مدینہ کے دوران ایک گراں قدر کتاب ’’انوار احمدی‘‘ تصنیف کی اور وہاں کے کتب خانوے سے بھر پور استفادہ کیا اور ایک بڑی رقم خرچ کرکے بعض نادر ونایاب کتابوں کی نقلیں تیار کرائیں چنانچہ ان نوادرات میں حدیث کی چار اہم کتابیں قابل ذکر ہیں۔

(۱)کنز العمال (۸)جلدیں        (۲)  الجوہر النقی علی سنن البیہقی
(۳)الاحادیث القدسیہ           (۴)  جامع المسانید للامام الاعظم۔
مدینہ منورہ میں ابھی قیام کے تین سال ہی گذرے تھے کہ آپ کو بارگاہ رسالت سے دکن واپس جانے کا حکم صادر ہوا۔ آپ سخت پریشان ہوئے جوار رسول میں پوری زندگی بسر کرنے کا منصوبہ ختم ہوا جارہا تھا۔ آپ فورا اپنے شیخ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نور اللہ مرقدہٗ کی خدمت میں مکہ مکرمہ روانہ ہوئے اور بشارت کی تعبیر لی۔ شیخ نے فرمایا حکم کی تعمیل کرو، ہرگز تردد نہ کرنا۔ کون مسلمان اس آستانہ کو بطیب خاطر چھوڑتا ہے مگر ایمان کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ حکم رسول آگے سر تسلیم خم کردو خواہ تمہاری آرزؤں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو چنانچہ عشق رسولؐ میں ہجرت کرنے والا یہ مہاجر عشق رسول ہی میں حکم رسولؐ سے پھر واپس دکن پہنچ گیا۔
حضرت شیخ الاسلام کی ابتدائی زندگی بڑی عُسرت اور تنگدستی میں گزری مگر جب ملازمت ملی تو آپ نے دین کے لیے اس کو ٹھکرادیا شاید (بلکہ یقینا) اسی وجہ سے اللہ نے آپ کو ایسا نوازا کہ شہزادے اعظم آپ کی جوتیاں اٹھاتے تھے۔ شاہ کی طرف سے ’’نواب فضیلت جنگ‘‘ کا خطاب ملا ہوا تھا۔ آپ جس شان وشوکت سے دربار شاہی میں تشریف لے جاتے تھے اسے دیکھ کر حضرت امام ابو یوسفؒ کا ہارون رشید کے دربار میں جانا یاد آتا تھا۔ اس عظیم منصب کے علاوہ آپ کے پاس ناظم امور مذہبی اور صدر الصدور کے مناصب بھی تھے۔ایک طرف یہ کروفر اور شان وشوکت تو دوسری طرف درویش کامل، کھانے پینے میں‘ سونے جاگنے میں‘ رہنے سہنے میں‘ مکمل مجاہدہ نفس‘ شب بیدار، تہجد تک سلسلہ درس وتدریس کبھی روزہ، کبھی افطار، سخت بچھونا، سادہ غذا، عجز وانکسار، عبادات میں فرائض کے علاوہ اوابین، تہجد، اشراق، ایام بیض کے روزے، رمضان تو ایک جشن بہاراں کے طور پر گزرتا تھا۔ دو تین ماہ پہلے ہی سے اس کی تیاریاں شروع ہوتیں۔ پورا رمضان پانچ چھ سو روزہ داروں کو دو وقتہ ضیافت، مہمانوں کے لیے انواع واقسام کے کھانے دوست احباب، علماء ومشائخ، طلبہ ومریدین سب ہی دستر خوان پر ہوتے لیکن خاص طور دلجوئی ا ور پذیرائی طلبہ کی زیادہ ہوتی۔
حضرت شیخ الاسلام نے سلوک وطریقت کی تعلیم اپنے والد بزرگوار سے پائی تھی اور چاروں زبان کلمہ ہل من مزید سے ہمیشہ تر رہتی وہ جہلاء کی طرح قناعت واکتفا پر فخر نہیں کرتے چنانچہ شیخ الاسلام جب پہلی مرتبہ ۱۲۹۴ ہجری میں حرم شریف پہنچے تو آپ نے حضرت مہاجر مکیؒ کے ہاتھ پر مکرر بیعت کی۔ حضرت نے خرقہ خلافت سے سرفراز فرمایا۔ شیخ الاسلام چشتیہ سلسلہ میں بیعت ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی سماع کا بھی اہتمام فرماتے تھے لیکن مزامیر کے بغیر۔ سلف صالحین کے مقرر کردہ آداب کا پورا لحاظ رکھا جاتا۔ کسی نا اہل کو محفل میں آنے کی اجازت نہ ہوتی۔ کبھی ہم مشربو ںکے ساتھ اور کبھی تنہا سنتے اور کبھی تو آپ نے اس طرح بھی سنا ہے کہ خود حجرے میں بند ہوں اور قوال دروازے کے باہر کلام سنا رہا ہے۔
شیخ الاسلام کی شخصیت کے مختصر تعارف کے بعد اب ذرا آپ کی خدمات پر بھی ایک سرسری نظر ڈال لیجئے۔

دائرۃ المعارف العثمانیہ: مسلمانوں نے اپنی تاریخ کے چودہ سو سال میں جو علمی خدمتیں کی ہیں اور نادرۂ روزگار تصانیف اپنے پیچھے چھوڑی ہیں وہ آج بھی دنیا کے کتاب خانوں کی زینت ہیں اور ان میں ہزاروں ایسی ہیں جو کبھی طبع نہ ہوسکیں، ایسی نادرۂ روزگار کتابوں کی طباعت واشاعت کے لیے شیخ الاسلام نے ’’دائرۃ المعارف العثمانیہ‘‘ کے قیام کی تحریک کی اور اسے قائم کرایا۔ سب سے پہلے اس ادارہ سے حدیث کی نادر ۂ روزگار کتاب کنز العمال (۸جلدیں) شائع ہوئیں۔ اس کتاب کو سب سے پہلے شیخ الاسلام ہی نے روشناس کروایا۔ اس ادارے سے کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ۱۹۷۹ھ کی ایک رپورٹ کے مطابق ۲۷۰ سے زیادہ نادر قدیم عربی مخطوطات اس ادارے سے شائع ہوچکے ہیں۔

حضرت شیخ الاسلام نے ایک ایسا ادارہ بھی قائم فرمایا جو صرف اسلامی تحقیقی تصانیف شائع کرے۔ اس ادارے سے اب تک کئی تحقیقی کتابیں شائع ہوچکی ہیں اور بعض کتابیں مقبول عام ہوکر کئی کئی بار چھپ چکی ہیں۔
کتب خانہ آصفیہ: حیدرآباد دکن میں کوئی ایسا معیاری کتب خانہ نہیں تھا جس سے عوام وخواص یکساں استفادہ کرسکیں۔ حضرت شیخ الاسلام نے اس کی تحریک کی اور ۱۳۰۸ ھ میں کتب خانہ آصفیہ قائم کرایا۔ یہ ایک ایسا عظیم الشان کتب خانہ ہے جس کی مثال بر صغیر میں نہیں ملتی۔ زوال حیدرآباد کے بعد اس کا نام تبدیل کرکے اب اسٹیٹ لائبریری رکھدیا گیا ہے۔
ان عظیم اداروں کی تاسیس اور بناء کے علاوہ بھی آپ نے دکن میں متعدد دینی مدرسے قائم کرائے بر صغیر کے متعدد دینی مدارس کو گرانقدر امدادیں جاری کرائیں۔ مساجد کو امدادیں فراہم کیں۔ آسٹریلیا کی مسجد کی تعمیر کے لیے چالیس ہزار کی رقم بھجوائی۔ اسی طرح بصرہ کی مسجد کے لیے بھی ایک بھاری رقم ارسال کرائی۔ پھر ان اداروں کی فہرست خاصی طویل ہے جو شیخ الاسلام کے شاگردوں اور مریدوں نے قائم کئے ایسے ادارے بھی در حقیقت شیخ الاسلام کے فیض کے ہی مظہر ہیں۔ صفحات کی تنگ دامانی ان تفصیلات کی متحمل نہیں۔
اصلاحات کا نفاذ: حضرت شیخ الاسلام نے جو اصلاحات خود نافذ کیں یا حکومت سے کرائیں ان کا مختصر تذکرہ بھی یہاں ضروری محسوس ہوتا ہے۔ آپ نے امور مذہبی کے دفاتر منظم کئے۔ اہل خدمات شرعیہ کو تبلیغ اور دینی خدمات پر عملًا مامور فرمایا ان کی تعلیم وتربیت کا بندوبست کیا۔واعظین مقرر کئے۔ نکاح نامے مراتب کرائے جن میں ایجاب وقبول‘ شہادت‘ مقدار مہر اور تاریخ نکاح کا اندراج لازم قرار دیا ورنہ اس سے قبل یہ سارے معاملات زبانی ہوتے تھے اور نزاع یا طلاق کی صورت میں پیچیدہ ہوجاتے تھے۔
مساجد میں با جماعت ادائے نماز کے لئے ائمہ اور موذنین کا تقرر وانتظام حکومت کی جانب سے کرایا۔ منشیات کی دکانیں بیرون شہر منتقل کرائیں اور شہر میں منشیات کے کاروبار کو قانوناً ممنوع قرار دیا۔ احترام رمضان کے سلسلے میں ہوٹلوں پر پردے ڈلوائے اور علانیہ خورد ونوش کو ممنوع قرار دیا۔ بزرگان دین کے مزارات پر طوائفوں کے جانے پر پابندی عائد کی۔ عورتوں کے مرلی اور مردوں کے مخنث بنے کی رسم کو لائق تعزیر جرم قرار دے کر فحاشی کا ایک بہت بڑا دروازہ بند کیا۔ وغیرہ وغیرہ۔سرزمین دکن کا یہ مصلح اعظم‘ آفتاب علم وارشاد زندگی بھر ملت اسلامیہ اور دین اسلام کی خدمت کرکے یکم جمادی الاخری ۱۳۳۶ ہجری کو غروب ہوگیا۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ مگر وہ لوگ جن کے دلوں میں عشق (فروغ علم وحکمت اصلاح ملت اسلام کا درد، رسول کی محبت) کے چراغ جل اٹھتے ہیں وہ کہاں مرتے ہیں۔ گردش لیل ونہار کا ان کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا ان کی حیات ابدی ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT