Monday , December 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت شیخ الحدیث کی صحبت میں چار دن عیسائیت کی یلغار اور علمائے اسلام کی کمزور مدافعت

حضرت شیخ الحدیث کی صحبت میں چار دن عیسائیت کی یلغار اور علمائے اسلام کی کمزور مدافعت

اس سال جب میں مارچ ۔ اپریل ۲۰۱۷ء کے دوران اپنے والدین اور افراد خاندان سے ملنے اور ان کے ساتھ ایک مہینہ گزارنے کیلئے حیدرآباد پہنچا تو میری دیرینہ تمنا اور خواہش تھی کہ حیدرآباد دکن کے عظیم محدث عمدۃ الحمدثین حضرت مولانا محمد خواجہ شریف مدظلہ شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ کی صحبت بافیض میں کچھ وقت گزار کر علمی استفادہ کیا جائے تاکہ فن حدیث کا ذوق و شوق پھر تازہ ہو اور اس میدان میں عملی جدوجہد کرنے اور علمی کام کی راہ کو متعین کرنے کا حوصلہ ملے۔ چنانچہ جب میں نے اپنا معروضہ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ العالی کی خدمت میں پیش کیا تو آپ نے اس کو قبول فرما لیا اور وہ ہستی کیسے قبول نہ فرماتی جس نے ساری زندگی علمی خدمت بطور خاص خدمتِ حدیث شریف کے لئے وقف کی ہو اور بلاشبہ آپ کی ذات گرامی دکن کے مسلمانوں بالخصوص علمائے کرام و طالبان علوم شریعت کے لئے ایک عظیم نعمت ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ نے فرمایا چونکہ وقت کم ہے اس لئے اگر بخاری شریف سے آغاز وحی سے متعلق ’’کتاب بدء الوحی‘‘ پڑھ لیجائے تو بخاری شریف کا اسلوب اور اس کی فنی باریکیوں کو سمجھنے کے لئے کافی ہوگا کیونکہ امام بخاری ؒ نے چھ ابواب اور سات احادیث پر مشتمل پہلی کتاب ’’بدء الوحی‘‘ میں علم حدیث کے دقیق مباحث کو جمع کیا ہے۔ لہٰذا مسجد چمکورہ خلوت میں بعد نماز فجر پندرہ منٹ بخاری شریف پڑھنے کے لئے وقت مقرر کیا گیا۔ سمندر کو کوزے میں سمونا نیز علمی اور فنی دقیق مباحث کو بڑی آسانی کے ساتھ دو چار جملوں میں بیان کردینا حضرت شیخ الحدیث مدظلہ العالی کی تدریسی خوبیوں کا ایک اہم پہلو رہا ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ العالی نے بخاری شری کے پہلے باب ’’آغاز وحی‘‘ سے متعلق تدریس کے دوران یہ فکر دی کہ حدیث شریف کو پڑھنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کے لئے کس طریقے پر محنت کی ضرورت درکار ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مدظلہ العالی کے ساتھ جو لمحات گزرے وہ طلب علم کے سفر میں نہایت کارآمد لمحات تھے۔ اس لئے کہ جامعہ نظامیہ میں طالب علمی کے دوران صحاح ستہ کے علاوہ ہم نے جو حدیث شریف کی امھات الکتب پڑھی تھیں جس کے پیش نظر میرا شخصی نظریہ یہ تھا کہ ان تمام کتابوں میں فقہی اور فنی اعتبار سے سب سے زیادہ مفید کتاب ’’جامع ترمذی‘‘ ہے جس میں طالب علم کو بیک وقت احادیث شریفہ کی معرفت کے علاوہ فقہی مذاہب کے اختلافات اور ان کے استدلالات نیز فن حدیث کے مختلف ضمنی و دقیق مباحث کے بابت اہم معلومات دیگر کتب حدیث کے بالمقابل زیادہ حاصل ہوتے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ طالب علمی کے دور سے لیکر تاحال مجھے بخاری شریف کا مرکزی محور یعنی بنیادی نقطہ نظریہ سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ یہ کتاب کس محور پر گھومتی ہے؟

علم حدیث کا ہر طالب علم اس حقیقت سے واقف ہے کہ بخاری شریف ’’جامع صحیح‘‘ کہلاتی ہے۔ محدثین کی اصطلاح میں ’’جامع‘‘ اس کتاب حدیث کو کہتے ہیں جو دین اسلام کے بیشتر تمام ضروری ابواب کا احاطہ کرتی ہے جس کی ہر مسلمان کو ضرورت ہوتی ہے جو بنیادی طور پر آٹھ مضامین: عقائد، احکام، سیرآداب ، تفسیر، فتن، علامات قیامت اور مناقب پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس خصوصیت کے حامل تین کتابیں مشہور و معروف ہیں (۱) جامع صحیح بخاری (۲) جامع صحیح مسلم (۳) جامع ترمذی۔ ان تینوں کتابوں بلکہ تمام کتب حدیث میں بخاری شریف صحت کے سب سے عالی شروط کے علاوہ اپنی ترتیب، تبویب اور ترکیب میں امتیازی مقام رکھتی ہے۔ بخاری شریف کے باہمی ربط و اتصال کو سمجھنا نہایت مشکل ہے اس لئے امام بخاری امیرالمؤمنین فی الحدیث ہونے علاوہ فقیہانہ شان ان کے ترجمۃ الباب یعنی باب کے عنوان اور اس کے ضمن میں لائی جانے والی حدیث کے درمیان مناسبت کو جاننے میں پنھائی ہے۔ نیز باب میں ترتیب سے ذکر کی جانے والی احادیث کے درمیان باہمی ربط کو سمجھنا بھی مشکل کام ہے۔ مجھے بڑا ترس آتا ہے ان حضرات پر جو ائمہ اربعہ کی تقلید کا انکار کرتے ہیں اور عبادات کے بعض جزوی پہلوؤں پر بخاری شریف کی احادیث ذکر کرکے فقہ اسلامی بالخصوص فقہ حنفی پر تنقید کرتے ہیں ان کو چاہئے کہ بخاری شریف کو سمجھنے کے لئے پہلے ’’مقدمۃ فتح الباری‘‘ کا مطالعہ کریں تب جاکر پتہ چلے گا کہ یہ کس حد تک گہرا اور دقیق فن ہے۔ الغرض بخاری شریف ’’اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ ہے یعنی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید کے بعد صحیح ترین کتاب ہے حتیٰ کہ جب ہم دیگر مذاہب کی مذہبی اور آسمانی کتابوں کی کتابت اور تدوین کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہیکہ امام بخاری ؒ نے سند اور متن کی صحت اور صداقت کے لئے جن اصول اور شروط کو ملحوظ رکھا ہے اس پایہ کا تحقیقی معیار یہودی عیسائی دنیا بلکہ تمام مذاہب کے پیروکار پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ مثلاً بائبل جو دو حصوں پر مشتمل ہے (۱) عہدنامہ قدیم جو حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت سے قبل لکھا جاچکا تھا (۲) عہدنامہ جدید جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے بعد لکھا گیا ہے۔ عہدنامہ قدیم (۳۹) کتابوں پر مشتمل ہے اور عہدنامہ جدید چار اناجیل (متی، مرقس، لوقا، یوحنا) نیز رسولوں کے اعمال (The Rets of the Apostels)کے علاوہ Paul (پولوس) کے تیرہ خطوطہ آٹھ عمومی خطوط اور آخر میں یوحنا عارف کے مکاشفہ (The Book Of Revelation) جملہ (۲۷) کتابوں پر مشتمل ہے۔ گویا بائبل (۶۶) کتابوں کا مجموعہ ہے جو مختلف ادوار میں تحریر کئے گئے ہیں۔ اگر ہم عہدنامہ قدیم کے جملہ (۳۹) کتابوں کی صحت اور اس کی تدوین پر تحقیق کرنے کے بجائے عہدنامہ جدید کے مشہور و معروف چار اناجیل (متی، مرقس، لوقا، یوحنا) کا انتخاب کرتے ہیں

جن پر ساری عیسائیت کا دارومدار ہے اور ان کی صحت و صداقت کے معیار کو ان اصول اور شروط پر موازنہ کرتے ہیں جن کو ائمہ حدیث بطور خاص امام بخاری ؒ نے احادیث شریفہ کو جمع کرنے کے لئے قبولیت کا معیار مقرر کیا تھا تو بلامبالغہ تحقیق کی دنیا میں ان چار اناجیل صحتِ نقل کا کوئی معتبر معیار سمجھا نہیں جائے گا۔ نیز محدثین نے حدیث شریف کی حفاظت اور اس کو جمع کرنے کیلئے صحت و نقد کے جو بلند پایہ اصول و شروط کو وضع کیا ہے ان کا اہتمام اور احترام ہی اسلام کی حقانیت اور صداقت کے لئے کافی ہوگا۔ افسوس اس بات پر ہے کہ ہم اس حقیقت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے سے رہ گئے اور کئی معصوم نوجوان عیسائیت کے باطل نظریات کے شکار ہوگئے ان میں سے ایک پاکستانی نژاد امریکی نوجوان نبیل قریشی بھی رہا جو اس ہفتہ ۱۷ ستمبر ۲۰۱۷ء کو ۳۴سال کی عمر میں کینسر کے تکلیف دہ مرض میں مبتلاء ہوکر فوت ہوگیا۔ وہ ۱۳ اپریل ۱۹۸۳ء کو کیلیفورنیا میں پاکستان کے احمدی گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کے ماں باپ نے اپنے نظریہ کے مطابق نماز، روزہ، قرآن کی تلاوت اور اسلامی آداب پر اس کی تربیت کی۔ وہ ایک پرجوش نوجوان تھا جو عیسائیت کے خلاف اسلام کے حق میں مناظرہ اور مباحثہ کرتا اس کی ملاقات David Wood سے ہوئی، دونوں کے درمیان مختلف موضوعات پر مباحث ہوئے بالآخر وہ اچھے دوست بن گئے چونکہ نبیل قریشی اسلام کے اصول اور اس کی گہرائی سے واقف نہ تھا اور عیسائیت پر شکوک و شبہات قائم کرتا تھا جب David Wood عیسائی نقطہ نظر سے اس کو دھیرے دھیرے مطمئن کرنے لگا تو نبیل کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ شوئے قسمت اس نے عیسائیت کو اختیار کرلیا باوجود یہ کہ وہ پیشہ سے ڈاکٹری کی فیلڈ میں تھا۔ اس نے Duke University سے عیسائی مذہب میں ماسٹرکیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے ایم فل کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ میں عیسائیوں کا ایک نمائندہ مناظر کی حیثیت سے شہرت اختیار کر گیا۔ Seeking Allah, Finding Jesus No God but One Allah or Jesus Answering Jihad ; A Better Way Farward جیسی کتابیں لکھیں جن کی خوب پذیرائی کی گئی۔ Ravi Zacharias International Ministries سے وابستہ ہوا۔ دنیا کی سو سے زائد یونیورسٹیز میں لکچر دیا یہ تاثر دیتے ہوئے کہ میں پہلے مسلمان تھا اور اب عیسائی ہوں اس طرح لاکھوں عیسائیوں کو متاثر کیا اور کئی مسلمان کے عقیدہ و ایمان کو بدل ڈالا۔ نہ جانے وہ وقت کب آئے گا کہ علمائے اسلام اکیسویں صدی میں اسلام کی نمائندگی کرنے کے لئے نئی نسل کو تیار کرنے کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT