Friday , January 19 2018
Home / مذہبی صفحہ / حضرت صدیق اکبر؄ رسول کی نظر میں

حضرت صدیق اکبر؄ رسول کی نظر میں

مولانا غلام رسول سعیدی

مولانا غلام رسول سعیدی

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام علالت میں فرمایا: ’’ابوبکر سے کہہ دو کہ وہ نماز پڑھائیں‘‘۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بار بار عرض کرتیں: ’’حضور! کسی اور کو فرما دیجئے‘‘ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار یہی فرماتے کہ ’’ابوبکر نماز پڑھائیں‘‘۔ اس بحث و تکرار سے یہ امر بہرحال واضح ہو گیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یونہی سہواً یا اتفاقاً حضرت ابوبکر کا نام نہیں لیا تھا، بلکہ پورے استقلال اور اعتماد کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا انتخاب کیا تھا۔ لہذا اب کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یونہی ابوبکر کا نام زبان پر آگیا تھا۔ اگر کسی اور کی طرف توجہ دلائی جاتی تو اسے کہہ دیتے اور اس انتخاب سے یہ امر بھی ظاہر ہو گیا کہ جو شخص صحابہ کرام میں سب سے زیادہ امامت کا اہل ہے، وہ حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ بلکہ آپﷺ نے اس کی تصریح بھی کردی ہے، چنانچہ فرمایا: ’’جس جماعت میں ابوبکر ہوں، اس میں ابوبکر کے سوا اور کوئی شخص امامت کے لائق نہیں ہے‘‘ (سنن ترمذی، صفحہ۵۲۷) ایک اور مرتبہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ سے فرمایا: ’’اگر ابوبکر کے سوا کسی اور کو امام بنایا گیا تو وہ نہ الہ کو منظور ہوگا نہ مسلمانوں کو‘‘۔ (عمدۃ القاری،ج۵،ص۱۹۱)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شے کے ثبوت کے تین طریقے ہیں۔ قول سے یعنی آپ کے سامنے کوئی کام کیا جائے اور آپ اس کو مقرر رکھیں اور منع نہ فرمائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر کی امامت کا اس قدر خیال تھا کہ آپﷺ نے ان تینوں طریقوں سے حضرت صدیق اکبر کی امامت کو ثابت فرمایا ہے۔ قول کے ذریعہ اس طرح فرمایا کہ ’’ابوبکر سے کہہ دو کہ وہ جماعت کرائیں‘‘ اور فعل کے ذریعہ اس طرح کہ تین مرتبہ حضرت ابوبکر کی اقتدا میں نماز پڑھی، ایک مرتبہ عصر کی جب آپﷺ بنو عمرو بن عوف کی صلح کرانے گئے۔ ایک مرتبہ ظہر کی ایام علالت میں۔ ان دونوں مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ پاکر پیچھے آگئے اور پیر کے دن صبح کی نماز کی دوسری رکعت آپﷺ نے حضرت ابوبکر کی اقتدا میں پڑھی، پھر آپﷺ کا وصال ہو گیا۔ اور تقریر سے اس طرح کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ایام علالت میں حضرت ابوبکر نے سترہ نمازیں پڑھائیں اور آپﷺ نے ان کو مقرر رکھا۔ اس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول، فعل اور تقریر غرض ہر طریقہ سے حضرت ابوبکر صدیق کی امامت کو مؤکد اور مقرر کردیا۔

ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’میرے اور عمر کے درمیان کچھ رنجش ہو گئی ہے۔ میں نے فوراً ان سے معافی مانگی، مگر انھوں نے معاف نہیں کیا‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تین بار فرمایا: ’’اللہ تمھیں معاف کرے‘‘۔ ادھر بعد میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو ندامت ہوئی اور وہ حضرت ابوبکر صدیق کو ڈھونڈتے ہوئے ان کے گھر گئے، مگر وہاں نہ ملے تو بارگاہ نبوت میں پہنچے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عمر کو دیکھا تو غصہ سے آپﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے جب یہ رنگ دیکھا تو وہ خوف زدہ ہو گئے اور دو زانوں ہوکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرنے لگے: ’’حضور! غلطی میری تھی، زیادتی میں نے کی تھی‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کی طرف دیکھ کر فرمایا: ’’مجھے اللہ نے رسول بناکر بھیجا ہے، پھر تم لوگ وہ تھے جنھوں نے مجھے جھٹلایا اور جس نے میری تصدیق کی وہ ابوبکر تھے، جنھوں نے اپنی جان سے میری غمگساری کی اور اپنے مال سے میری مدد کی‘‘۔ پھر دوبارہ فرمایا: ’’کیا اب تم میرے صاحب کو چھوڑنے لگے ہو؟‘‘۔ (صحیح بخاری،ج۱،ص۵۱۷)
غور فرمائیے! حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے عزیز تھے کہ اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ جیسی شخصیت بھی حضرت ابوبکر سے ناراض ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ناراض ہو جاتے۔

TOPPOPULARRECENT