حضرت صدیق اکبر؄ کی قدر و منزلت

مولانا غلام رسول سعیدی

مولانا غلام رسول سعیدی
عمل کی قدر و قیمت میں تعداد اور مقدار کا نہیں، نسبت اور کیفیت کا لحاظ ہوتا ہے۔ جس طرح تمام انبیاء کرام کی عبادتیں، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کو نہیں پاسکتیں، اسی طرح تمام امت کی نیکیاں ابوبکر کی کسی ایک نیکی کو نہیں پہنچ سکتیں۔ جب حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے آسمان کے ستاروں کو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ’’کسی کی اس قدر بھی نیکیاں ہیں؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’عمر کی‘‘۔ حضرت سیدہ عائشہ نے پوچھا: ’’اور (میرے والد) ابوبکر کی نیکیاں؟‘‘۔ فرمایا: ’’ابوبکر کی ایک نیکی عمر کی ان ساری نیکیوں سے بڑھ کر ہے‘‘ (مشکوۃ۔ص۵۶۰) ایک موقع پر آپﷺ نے فرمایا: ’’اگر میری امت کے ایمان کو ابوبکر کے ایمان کے ساتھ تولا جائے تو ابوبکر صدیق کا ایمان بھاری ہوگا‘‘ (بیہقی و کامل بن عدی و مکتوبات امام ربانی دفتر اول، حصہ چہارم، ص۷۸) غرضیکہ ایمان کا باب ہو یا اعمال کا، خیرات و حسنات کا مقابلہ ہو یا تصدیق و تسلیم کا، جو شخص ہر میدان میں امت میں سے سے آگے ہے، وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔

ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محضر صحابہ میں فرمایا: ’’اللہ تعالی نے اپنے بندے کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا تو اس کے بندے نے آخرت کو اختیار کرلیا‘‘۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ یہ سنتے ہی بے اختیار رونے لگے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں: ’’میں نے سوچا، آخر انھیں (حضرت ابوبکر کو) اس بات میں رونے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس بندے سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خود اپنی ذات تھی اور درحقیقت ابوبکر ہی ہم میں سب سے زیادہ عالم تھے‘‘۔ (بخاری، ج۱،ص۶۷)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنوعمرو بن عوف میں صلح کرانے چلے گئے۔ عصر کی نماز کا وقت آگیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لائے تو حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے اور آپ سے درخواست کی کہ حضور تشریف نہیں لائے، لہذا آپ نماز پڑھا دیجئے (بخاری،ج۱،ص۱۶) حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی اس درخواست سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام میں تو ایک سے بڑھ کر ایک موجود تھے، لیکن ان کی نظریں جب قیادت اور امامت کے لئے کسی کی طرف اٹھتی تھیں تو صرف حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف اٹھتی تھیں۔
جب سقیفہ بنو ساعدہ میں لوگ جمع ہوئے اور بیعت کا سوال اٹھا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے کہنے لگے: ’’آپ سے زیادہ بیعت کا اہل کون ہوسکتا ہے۔ اپنا ہاتھ آگے لائیے، تاکہ میں بیعت کروں‘‘۔ حضرت علی کرم اللہ تعالی وجہہ کو خبر ہوئی تو فرمانے لگے: ’’ہم اپنے دنیاوی امور میں اس شخص کی امامت پر کیوں نہ راضی ہوں، جس کی ہمارے دینی امور میں امامت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی تھے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ’’ہم ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے‘‘۔ نیز کہتے ہیں کہ ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کہا کرتے تھے: اس امت میں سب سے افضل ابوبکر ہیں‘‘۔ حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے اپنے والد یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت میں سب سے افضل کون ہے؟‘‘۔ آپ نے فرمایا: ’’ابوبکر‘‘۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اس قدر عزیز تھے کہ اگر کسی موقع پر حضرت ابوبکر نماز پڑھا رہے ہوتے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بعد میں آکر نماز میں شامل ہوتے تو آپﷺ کی یہ خواہش ہوتی کہ آپ ابوبکر کی اقتدا میں نماز ادا کریں۔ حضرت ابوبکر اگر پیچھے ہٹتے بھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم منع فرماتے، یہ اور بات ہے کہ حضرت ابوبکر کی خادمانہ فطرت کو یہ گوارا نہ ہوتا کہ آقا کے ہوتے ہوئے غلام امامت کرے۔

TOPPOPULARRECENT