Sunday , September 23 2018
Home / مذہبی صفحہ / حضرت صدیق اکبر، آئینۂ جمال مصطفیﷺ

حضرت صدیق اکبر، آئینۂ جمال مصطفیﷺ

مولانا غلام رسول سعیدی

مولانا غلام رسول سعیدی

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس شخص نے سب سے زیادہ اپنی رفاقت اور مال سے مجھ پر احسان کیا، وہ ابوبکر ہیں‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اگر میں دنیا میں کسی کو خدا کے سوا اپنا خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا‘‘ (انسان العیون، ج۲،ص۲۰۳۔ مدارج النبوۃ، ج۲، ص۵۸) ایک مرتبہ حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آگے چل رہے تھے، آپﷺ نے فرمایا: ’’اے ابودرداء! تم اس شخص سے آگے چل رہے ہو، جو دنیا اور عقبیٰ میں تم سے افضل ہے۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، انبیاء و رسل کے بعد ابوبکر سے بڑھ کر کسی شخص پر سورج نہ طلوع ہوتا ہے نہ غروب ہوتا ہے‘‘۔ (انسان العیون، ج۲،ص۲۱۴)

سفر معراج میں جب سدرہ پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑدیا تو آگے جاکر تنہائی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دل گھبرانے لگا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ابوبکر کی آواز میں ایک کلام پیدا کیا: ’’قف یامحمد فان ربک یصلی‘‘ (الیواقیت والجواہر، ج۲،ص۳۶۷۔ دار احیاء التراث العربی، ۱۴۲۸ھ) یہ آواز سنتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مضطرب دل تسکین پاگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تنہائی میں اگر کسی سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دل بہلتا ہے تو ابوبکر صدیق سے بہلتا ہے، اسی لئے غار ثور کی تنہائی میں حضرت ابوبکر کو ساتھ لیا تھا اور جب حضرت ابوبکر کے جنازہ کو روضۂ رسولﷺ پر پیش کیا گیا، تو اسی لئے آواز آئی تھی: ’’ادخلوا الحبیب الی الحبیب‘‘ حبیب کو حرم حبیب میں داخل کردو۔ (تفسیر کبیر، ج۵، ص۴۶۵)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک موقع پر کہا: ’’کاش کہ میں حضور کا سہو ہی ہو جاتا‘‘ (مکتوبات امام ربانی، دفتر اول، حصہ پنجم، صفحہ ۱۶۱) یعنی حضرت ابوبکر کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی محبت تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ دنیا میں مقبول سے مقبول شخص کا بڑے سے بڑا عمل بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سہو کے برابر نہیں ہوسکتا۔

حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت ’’اور اگر ہم ان پر فرض کردیتے کہ وہ اپنے آپ کو قتل کردیں‘‘ (النساء۔۶۶) نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر کہنے لگے: ’’یارسول اللہ! اگر آپ مجھے حکم دیتے کہ میں اپنے آپ کو قتل کردوں تو میں خود کو قتل کردیتا‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صدقت‘‘ تم نے سچ کہا۔ (الصواعق المحرقہ۔۷۳)
حضرت جبرئیل علیہ السلام رسولِ ملائکہ ہیں، انبیاء کے بعد سب سے افضل ہیں، فرشتوں میں سب سے اونچا مقام رکھتے ہیں، مگر فرشتوں میں محبت کہاں، محبوب کے اشارے پر جان دینے کا جذبہ کب۔ تب ہی تو حضرت جبرئیل علیہ السلام سدرہ سے آگے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر نہ آئے اور کہہ دیا: ’’اگر میں ایک پور بھی آگے گیا تو جل جاؤں گا‘‘۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام میں تقدس تھا، ملکوتیت تھی، رسالت کی عظمت تھی، سب کچھ تھا، مگر جذب صدیقی نہ تھا۔ اگر وہاں ان کی جگہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوتے تو ہزار بار جل جاتے، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ ٹالتے۔
اہل حق کہتے ہیں کہ جس جگہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، وہ جگہ عرش سے بھی افضل ہے، کیونکہ افضلیت کا مدار حضورﷺ ہیں۔ آپ عرش پر چلے جائیں تو عرش افضل اور فرش پر ہوں تو فرش افضل ہے اور جب یہ حق ہے تو کہنا پڑے گا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام عرش سے بھی اونچا ہے، کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق اس جگہ فروکش ہیں، جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما ہیں۔
الحاصل، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا ہیں؟ آئینۂ جمالِ مصطفٰی، سیرتِ رسول کا سراپا، اللہ کے محبوب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطلوب۔ جو اُن سے بگڑے، اُس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بگڑ جائیں، جن پر نکتہ چینی اللہ تعالیٰ کو گوارا نہیں، اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں جبرئیل علیہ السلام جن کے ہمسر نہیں اور عرش الہٰی کو جن سے مساوات کا یارا نہیں۔

TOPPOPULARRECENT