Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / حضرت صردؓ کی کاوشوں سے اہل جرش نے اسلام قبول کیا

حضرت صردؓ کی کاوشوں سے اہل جرش نے اسلام قبول کیا

آئی ہرک کا تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی کا خطاب

آئی ہرک کا تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی کا خطاب
حیدرآباد ۔11؍جنوری( پریس نوٹ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت قرب الٰہی کا باعث، ایمان کی علامت اور دینداری کا تقاضہ ہے امت میں یہ اعزاز حضرات صحابہ کو سب سے پہلے حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی مکمل اطاعت اور رسول اللہؐ کی سچی اور کامل اتباع نے انہیں علو منزلت اور رفیع الشان مقام و مرتبہ کا حامل بنا دیا تھا اور ان مبارک ہستیوں کا ایک ایک عمل اور ہر ہر ادا مقبول بارگاہ الٰہی ہوئی اور بعد میں آنے والوں کے لئے موثر نمونہ بن گئی۔ ان عظیم المرتبت ہستیوں میں حضرت صرد بن عبد اللہؓ کا اسم مبارک بھی نمایاں طور پر ملتا ہے۔ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح 9 بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور دو بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا (آئی ہرک) کے زیر اہتمام منعقدہ 1129ویں تاریخ اسلام اجلاس کے علی الترتیب پہلے سیشن میں احوال انبیاء علیھم السلام کے تحت حضرت سلیمان علیہ السلام کے مقدس حالات اوردوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے ضمن میں حضرت صرد بن عبد اللہؓ کے احوال شریف پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے دونوں سیشنس کا آغاز ہوا۔اہل علم حضرات اور باذوق سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔جناب سید محمد علی موسیٰ رضا قادری نے خیر مقدمی خطاب کیا۔ ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوے کہا کہ جب دعوت حق کے چرچے عام ہوے اور توحید و رسالت کے اجالے دور دور تک پھیلنے لگے تو سلیم الطبع لوگ جوق درجوق سعادت ایمان سے مالا مال ہونے کے لئے بارگاہ رسالت پناہیؐ میں حاضر ہونے لگے انہی میں قبیلہ ازد کا و فد بھی تھا جس کے ہمراہ صرد بن عبداللہ ازدی بھی آے اس وفد میں انیس افراد حاضر ہوے تھے اور یہ سب کے سب مشرف بہ ایمان ہوے۔ حضرت صردؓ بن عبد اللہ جو نہ صرف اس وفد میں بلکہ اپنے قبیلہ میں بڑی عزت اور مرتبت رکھتے تھے، رسول اللہؐ نے انھیں انکی قوم کے مسلمانوں کا سردار مقرر فرمایا اور انھیں قبائل یمن کی طرف روانہ فرمایا۔ حضرت صرد ؓ بن عبد اللہ تعمیل ارشاد میں نکلے اور جرش کے نزدیک خیمہ زن ہوے جرش ایک محفوظ شہر تھا جس میں قبائل یمن بود و باش رکھتے تھے جب حضرت صرد ازدیؓ کے بہ ارادہ جہاد آمد کی خبر پائی تو اہل جرش قلعہ بند ہو گئے۔ حضرت صردؓ نے ان کا محاصرہ کیا اور ان کے مویشیوں پر تصرف کیا۔ قبیلہ خشعم بھی قلعہ میں محصور تھا۔ یہ محاصرہ ایک مہینے تک جاری رہا آخر کار حضرت صردؓ بن عبد اللہ نے محاصرہ اٹھالیا اور قلعہ جرش سے دور چلے گئے اور ایک قریبی جگہ لوگوں کو منظم کیا۔ وہ جگہ کشر تھی جرش والوں کو اندازہ نہ تھا کہ صردؓ وہاں موجود ہوں گے وہ بڑے طمطراق سے تعاقب کے لئے نکلے اچانک حضرت صردؓ اور ان کے ساتھی سامنے آگئے اور صبح سے دو پہر تک شدید معرکہ آرائی ہوتی رہی۔ حضرت صردؓ نے ان پر غلبہ پا لیا۔ اہل جرش نے دو آدمیوں کو حضور انورؐ کے پاس بھیجا تا کہ حالات کا اندازہ لگائیں۔سرکار دو عالمؐ نے انھیں حضرت صردؓ کی کامیابی اور اہل جرش کی ہزیمت کی خبر دی۔ حضور اکرمؐ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ ’’صرد کے فتح کی جگہ کشر نہیں بلکہ شکر ہے اور وہاں اس وقت اللہ کی بھیڑیاں قربان کی جارہی ہیں‘‘۔ یہ سن کر قاصدین جرش واپس لوٹے اور اہل جرش سے سارا حال کہہ سنایا جس سے وہ قبائل بے حد متاثر ہوے۔ ایک قول کے مطابق ان قاصدین نے اپنے لوٹنے سے قبل حضور اقدسؐ سے مصیبت ٹلنے کے لئے دعا کا معروضہ بھی کیا تھا۔ اس کے بعد اہل جرش کا ایک وفد رسول اللہؐ کے پاس حاضر ہوا اور ارکان وفد نے اسلام قبول کیا۔ حضور اکرمؐ نے ان کے متعلق فرمایا کہ ’’تم لوگ صورت کے اچھے، ملاقات میں سچے، کلام میں صاف ستھرے اور امانت میں بہت (خوب) ہو‘‘۔ حضرت صردؓ کی عملی کاوشوں سے اہل جرش سعادت مندوں میں شامل ہوے۔حضرت صردؓ حضور انورؐ کے پاس 10ھ میں آئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT