Friday , November 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا ایمان لانا

حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا ایمان لانا

اﷲ رب العزت نے غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو عظیم الشان کامیابی عطا کی ۔ کفاران مکہ کی جانب سے کچھ لوگ آئے نہیں بلکہ لائے گئے ۔ ان میں ایک نام عباس بن عبدالمطلبؓ کا بھی ہے جو بدر کے قیدیوں میں تھے ۔ جب مسلمانوں سے حضوراکرم ﷺ نے ان قیدیوں کیلئے مشورہ کیا اور طئے پایا کہ فدیہ لے کر آزاد کردیا جائے ۔
حضور اکرم ﷺ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ سے جب یہ کہا: ’’اے چچا ! آپ اپنا اور عقیل بن ابی طالب اور سفیان بن حارث بن عبدالمطلب کا بھی فدیہ دو ‘‘۔
حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ نے کہا : اے محمدؐ ! میرا دھندہ اس وقت مندا چل رہا ہے ۔
حضور اکرم ﷺ نے کہا : ’’اے چچا ! ہماری چچی اُم الفضل کے ساتھ جو روپیہ تم نے کمرے میں گاڑ رکھا ہے اور ہدایت کی ہے کہ اگر میں میدان کارزار میں ختم ہوگیا تو میرے بیٹے فضل بن عباس، قشم بن عباس کو محروم نہ رکھنا ۔ اس میں سے دیدینا ‘‘ ۔
حضرت عباس بن عبدالمطلب نے جب یہ سنا تو فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئے اور کہا: ’’تم مدینہ میں بیٹھ کر میاں بیوی کی گفتگو کو جو مکہ ہوئی ہے بتلاسکتے ہو تو یقینا آپ اﷲ کے رسول ہیں‘‘۔
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ’’اے چچا جان ! آپ کے ایمان لانے کا میں گواہ ہوں ، تم ان کفاران مکہ کے ساتھ چلے جاؤ اور ان کے حرکات سے مجھے واقف کرتے رہو ‘‘۔ چنانچہ غزوۂ احد سے پہلے تین ہزار کے لشکر کی نشان دہی حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب نے دی ۔

TOPPOPULARRECENT