Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / حضرت عثمان بن عفانؓ حضور کے خلیفہ سوم ، ذوالنورین اور ملت اسلامیہ کے محسن

حضرت عثمان بن عفانؓ حضور کے خلیفہ سوم ، ذوالنورین اور ملت اسلامیہ کے محسن

آئی ہرک کا تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی اورپروفیسرسید محمدحسیب الدین حمیدی کے لکچرس

حیدرآباد ۔17؍سپٹمبر( پریس نوٹ)دوران سفر ہجرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابو معبد کے خیمہ میں مختصر قیام کیا ۔خیمہ کے قریب حضورؐ نے جہاں دست اقدس دھویا اور کلی کی وہاں ایک کانٹے دار درخت تھا۔اس پانی کا اثر یہ ہوا کہ وہ درخت اتنا پھولا پھلا کہ اس کی شاخیں بہت بڑی ہو گئیں اور وہاں اس سے بڑا کوئی دوسرا درخت نہ رہا ۔اس درخت کو ایسے عمدہ پھل لگے کہ اگر کوئی بھوکا اسے کھالیتا تو سیر ہو جاتا ، پیاسا اگر کھالیتا تو اس کی پیاس مٹ جاتی ، بیمار اسے کھالیتا تو شفا پا لیتا اور کوئی اونٹ یا بکری اسے کھا لیتی تو اس کا دودھ بڑھ جاتا۔ مدارج النبوہ میں لکھا ہے کہ ابو معبد اور ان کے اہل خانہ نے بھی ہجرت کی اور اسلام قبول کیا اور انھیں اپنے خیمہ پر حضور پاکؐ کے نزول اجلال کی تاریخ ہمیشہ یاد رہی۔ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح 9 بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور 11.30بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ ’1269‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے پہلے سیشن میں سیرت طیبہ کے تسلسل میں واقعات ہجرت مقدسہ اور دوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت صحابی رسول اللہؐ امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ کے احوال شریف پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔

قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے اجلاس کا آغاز ہوا۔اہل علم حضرات اور باذوق سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔صاحبزادہ سید محمد علی موسیٰ رضا قادری حمیدی نے خیر مقدمی خطاب کیا۔مفتی سید محمد سیف الدین حاکم حمیدی کامل نظامیہ و معاون ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک آیت جلیلہ کا تفسیری مطالعاتی مواد پیش کیا۔پروفیسرسید محمد حسیب الدین حمیدی جائنٹ ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک حدیث شریف کا تشریحی اور ایک فقہی مسئلہ کا توضیحی مطالعاتی مواد پیش کیا بعدہٗ انھوں نے انگلش لکچر سیریز کے ضمن میں حیات طیبہؐ کے مقدس موضوع پراپنا’1001‘ واں سلسلہ وار لکچر دیا۔ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوے بتایا کہ اثنائے راہ ہجرت حضورؐ سے بریدہ اسلمی ملے جو اپنی قوم کے سردار تھے۔بعض روایات کے مطابق وہ قریش کے اعلان کردہ سو اونٹ حاصل کرنے کے لئے حضورؐ کی تلاش میں نکلے تھے۔ جب وہ حضورؐ کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور کلام کا شرف پایا تو وہ بے حد متاثر ہوے اور ستّر آدمیوں سمیت اسلام قبول کیا۔ ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت بتایا کہ خلیفہ سوم امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ؓ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہیتے، عزیز ترین صحابی، داماد محترم، ذوالنورین، حبشہ اور مدینہ منورہ دو ہجرتوں کا اعزاز پانے والے، مسلمانوں کے بہی خواہ، خلیفہ راشد، صاحب حلم و حیا، علوم قرآن و حدیث کے ماہر اور بہت ساری خوبیوں کے حامل تھے۔ حضرت عثمان غنی ؓ کا سلسلہ نسب عبد مناف تک پہنچتا ہے جو رسول اللہ ؐکے جد مکرم تھے ۔ دعوت حق اور تبلیغ و اشاعت اسلام کے اولین دور میں حضرت ابو بکرؓ صدیق کی ترغیب پر شرفیاب ایمان ہوئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حضرت عثمانؓ پر عنایت خاص تھی حضور انور ؐ نے اپنی صاحبزادی شہزادی ثقلین حضرت سیدہ رقیہؓ کو آپؓ کے حبالہ نکاح میں دیا تھا جب ان کی وفات ہو گئی تو اپنی دوسری صاحبزادی شہزادی قبلتین حضرت سیدہ ام کلثومؓ کا عقد نکاح حضرت عثمان ؓ بن عفان سے کر دیا اور ان کے دستار فضیلت میں دو طرے لگا دیئے اسی باعث حضرت عثمانؓ ذو النورین سے معروف ہوئے۔ قرآن مجید کی خدمت حضرت عثمان غنی ؓ کے عظیم الشان کارناموں میں بہت نمایاں ہے۔ حضرت عثمانؓ بن عفان نے بحیثیت خلیفہ سوم امیر المومنین یکم؍محرم الحرام ۲۴ھ کو شوریٰ کے فیصلہ اور انتخاب کے مطابق خلافت کی گراں بہا ذمہ داریاں سنبھالیں اس وقت ان کی عمر شریف ستر سال تھی۔ حضرت عثمانؓ قریش کے متمول اور معتبر لوگوں میں خاص مرتبہ رکھتے تھے۔ وہ ابتداء ہی سے نیک خو، خلیق، اعلی اوصاف و خصائل کے حامل تھے۔ ہجرت کے بعد ان کی مواخاۃ حضرت اوس بن ثابتؓیا ابی عبادہ سعدؓ سے ہوئی ۔ حضرت عثمانؓ کا مال ہمیشہ مسلمانوں کی بہی خواہی میں کام آیا۔علوم اسلامیہ میں بلند رتبہ تھا۔حضرت عثمان بن عفانؓ کا دور خلافت بھی فتوحات اور نظم خلافت کے لحاظ سے بڑا یادگار رہا۔ انھوں نے کچھ دن کم 12سال مسند خلافت پر رونق افروزی کے بعد18؍ذی الحجہ 35ھ کو بہ عمر82 سال جام شہادت نوش کیا۔اجلاس کے اختتام سے قبل بارگاہ رسالت پناہیؐ میں تاج العرفاءؒ کے تحریر کردہ سلام کو پیش کیا گیا۔ ذکر جہری اور دعاے سلامتی پر آئی ہرک کا’۱۲۶۹‘ واں تاریخ اسلام اجلاس اختتام پذیر ہوا۔الحاج محمد یوسف حمیدی نے ابتداء میں تعارفی کلمات کہے اور آخر میں محمد مظہر اکرام حمیدی نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT