Monday , April 23 2018
Home / Top Stories / حضرت علیؓ اور آل رسولؐ کی تعلیمات پر حکومت سے پروگراموں کی ضرورت

حضرت علیؓ اور آل رسولؐ کی تعلیمات پر حکومت سے پروگراموں کی ضرورت

کتاب عرش بلاغت کا رسم اجراء ، جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست کا خطاب
حیدرآباد ۔ 5 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کہا کہ مولائے کائنات خلیفہ چہارم حضرت سیدنا علی ؓ اور آل محمد ؐ سے عقیدت و محبت رکھنے والے دنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں ۔ لیکن حیدرآباد شہر کو اس اعتبار سے امتیازی حیثیت و مقام حاصل ہے کہ یہاں ایک بڑی تعداد حضرت سیدنا علیؓ کے ساتھ ڈوب کر آپؐ کا عقیدت و احترام اور محبت کرتی ہے ۔ یہ ایسے حسین نظارے کہیں دیکھنے کو نہیں ملتے ۔ اس لیے انہوں نے حضرت علی ؓ اور آل رسولؐ کی تعلیمات پر سمینار ، مذاکرے اور متعدد پروگرام شہر میں منعقد کرنے کے لیے حکومت تلنگانہ سے آڈیٹوریم و ہال کا مطالبہ کیا ۔ ان خیالات کا اظہار جناب زاہد علی خاں ، حضرت سیدنا علی ؓ کے منتخب ارشادات عالیہ ، حکم ، واعظ پر مبنی ’ عرش بلاغت ‘ کی رسم رونمائی انجام دینے کے بعد یہ بات کہی ۔ جو ’ عدالت کی اہمیت ، حضرت علیؓ کی تعلیمات کی روشنی ‘ کے موضوع پر یہ اجلاس سالار جنگ میوزیم ، تراب علی خاں بھون ویسٹرن بلاک میں رکھا گیا ۔ واضح رہے کہ ’ عرش بلاغت ‘ جو کہ 480 صفحات پر مشتمل ہے جس میں حضرت سیدنا علیؓ کے خطبات ، خطوط اور اقوال کے حسین مجموعہ کو مرتب کیا گیا اور یہ کتاب ہر پڑھنے والے کے دل میں تبدیلی پیدا کرے گی ۔ جناب زاہد علی خاں نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے عدالت کی اہمیت حضرت علی کی تعلیمات کی روشنی میں کہا کہ ہندوستان کی موجودہ صورتحال میں عدلیہ آزادانہ بن چکی ہے ۔ ایسے میں حضرت علی ؓ کے ارشادات کی بڑی اہمیت ہے جو کسی بھی مذاہب کے پیشواؤں کے اقوال میں پڑھنے کو نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت سیدنا علیؓ عدل و قسط کے علمبردار ہیں اور جب تک آپ ؓ کی خلافت رہی ۔اس میں ان اصولوں کو برابر قائم رکھا ۔ اگر ملک کی عدالتیں حضرت علیؓ کے فیصلوں کو مد نظر رکھ کر فیصلے صادر کریں گی تو یہ ملک ، انسانی سماج امن و انصاف کا گہوارہ بنے گا ۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ لوگ انصاف کے لیے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں لیکن عدالتیں انہیں بیس یا پچیس سالوں تک ان کے مقدمات کو زیر التواء رکھ کر چکر لگانے پر مجبور کرتی ہیں ۔ اس موقع پر جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست کی جانب سے ’عرش بلاغت ‘ کی سامعین میں مفت تقسیم عمل میں لائی گئی اور انہوں نے اس کتاب کے حصوں کو روزنامہ سیاست میں شائع کرنے کا یقین دلوایا ۔ ڈاکٹر کیپٹن ایل پانڈو رنگاریڈی نے کہا کہ اسلامی تعلیمات خصوصیت کے ساتھ حضرت علیؓ کے اقوال کو آج ملک کی عوام پڑھنے کی طرف مائل ہے ۔ اس لیے کہ آپؓ نے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہنے ، بھائی چارگی کی فضا کو پیدا کرنے کی کوشش کے ساتھ جو بھی کہا اس پر عمل بھی کیا ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اس ضخیم کتاب جو حضرت علیؓ کے اقوال اور خطوط پر مبنی ہے ۔ اسے کتابچہ کی شکل دی جائے اور اسے دیگر زبانوں میں شائع کریں تو سود مند ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علیؓ نے اس وقت کے آلودہ سماج کو پاک و صاف کرنے میں نبی کریم ؐ کی حیات طیبہ اور آپؐ کے ارشادات کو مد نظر رکھا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک انقلابی دین ہے جس میں مساوات ، اخوت ، بھائی چارگی کا درس موجود ہے اور حضرت علیؓ کے اقوال وفاداری ، والدین و رشتہ داروں کے ساتھ محبت کی طرف آمادہ کرتے ہیں ۔ مولانا آغا مجاہد حسین نے کہا کہ حضرت سیدنا علی ؓ کی تعلیمات اور زندگی کے ایک ایک پہلو میں عدل و انصاف جھلکتا ہے ۔ حضرت علی ؓ نے اپنے اور خلافت میں جو فیصلے صادر کیے انہیں سمجھنا ہو تو قرآن اور احادیث کا مطالعہ بے حد ضروری ہے ۔ اس لیے کہ قرآن نے عدالتی نظام کا ایک جامع تصور پیش کیا اور کہا کہ ’ ہم نے تمام رسولوں کو کتاب اور میزان دے کر روانہ کیا تاکہ لوگوں پر انصاف کے علمبردار بن سکے ‘ ۔ انہوں نے کہا کہ حضرت علی ؓ جو بظاہر قوی و طاقتور شخصیت کا نام ہے ۔ اس کے باوجود جب کوئی معاملہ آپ کے حضور پیش ہوتا تو بڑی باریک بینی سے جائزہ لیتے اور اس معاملہ کی یکسوئی کیا کرتے ۔ ڈاکٹر شوکت علی مرزا صدر کل ہند نہج البلاغہ نے خیر مقدم کیا ۔ شہر اور ریاستوں میں ہونے والی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کی عدالتیں جس میں 80 لاکھ سے زائد مقدمات زیر التواء ہیں اپنے معاملات کو اسلامی رو سے حل کرنے کے لیے آمادہ و تیار ہوجائے ۔ اس موقع پر شہر کے معززین ، مرد و خواتین ، طلباء و نوجوان جن میں قابل ذکر جسٹس ای اسماعیل ، سردار نانک سنگھ نشتر ، جناب افتخار حسین سکریٹری فیض عام ٹرسٹ ، مولانا اکبر حسین ، مولانا خورشید حسین ، سید علی منور جعفری ، بہار علی عسکری ، تجمل حسین رضوی ( سابق جج ) ، علی رضا ، ڈاکٹر چودھری ، محمد ہاشم ایڈوکیٹ ، نواب عباس ، نواب مصطفی علی خاں ، ایس اے قادر ، احمد صدیقی مکیش ، ہادی راحیل کے علاوہ دیگر کی کثیر تعداد موجود تھی ۔۔

TOPPOPULARRECENT