Tuesday , November 20 2018
Home / مذہبی صفحہ / حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ

حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ

نسیمہ تراب الحسن
مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب کی حیات اسلام کا وہ شفاف آئینہ ہے جسے کفر و ضلالت کی گرد قیامت تک دھندلا نہیں کرسکتی۔ ہم جس قدر رسول اکرم ﷺ اور حضرت علیؑ کی سیرت کا مطالبہ کریں گے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ اپنی پیدائش کے ساتھ ہی حضرت علیؑ نے رسول خدا پر نظر رکھی ، جب تک محمد مصطفی ﷺ نے انھیں اپنی آغوش میں نہ لیا انھوں نے آنکھیں نہ کھولیں۔ حضور اکرم ﷺ نے نومولود کو اپنی گود میں لیا ، بچے نے آنکھیں کھولیں اور حضور اکرم کا چہرہ پُرنور دیکھا ۔ رسول مقبول ﷺ نے اپنی زبان بچے کے دہن میں رکھی تو لعاب دہن چوسا ۔ یعنی پہلا چہرہ دیکھا تو نبی کا ، دنیاوی چیزوں میں پہلا ذائقہ چکھا تو نبی کے لعاب دہن کا ۔
حضرت علیؑ نے آغوش رسالت میں پرورش و تعلیم و تربیت پائی۔ ظاہر ہے کہ اخلاق محمدی ﷺ کا اثر حضرت علیؑ کی رگ و پے میں سرایت کرگیا ۔ اس لئے حضرت علیؑ کا ہر عمل رسول پاک ﷺ کے رنگ میں رنگا ہوا تھا ۔ خود محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں‘‘ ۔ اور ایک مقام پر فرمایا ’’علی میرے علوم کا ظرف ہیں‘‘ ۔ حضرت علیؑ کی زندگی کا پورا زمانہ علم و عمل میں بسر ہوا ۔
رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص چاہتا ہے کہ آدم کو علم میں دیکھے ، نوح کو فہم میں ، یحییٰ کو زہد میں ، عیسیٰ کو عبادت میں ، موسیٰ کو غصہ میں اس کو چاہئے کہ علی ابن ابی طالب کی طرف دیکھے ۔
ہر اہل ایمان کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ہر بات اور ہرکام مرضی الٰہی کے تابع رہتا ہے چنانچہ آپؐ نے اپنی لخت جگر ، نورِ نظر بیٹی کا رفیق حیات علیؑ کو بنایا اور اُن سے ہی آپ کی نسل چلی ۔
حضور اکرم ﷺ نے آپؑ ہی کو شب ہجرت اپنے بسترپر لٹایا ، امانتیں سپرد کیں اور اللہ کی تلوار ذؤالفقار عطا کی ۔
حضرت علیؑ نے نہ صرف اپنی زندگی رسول کے مقاصد ، تعلیمات اور تحفظ کے لئے وقف کردی بلکہ آل و اولاد کو بھی دین اسلام کی بقاء کی ذمہ داری سونپ دی اور دنیا نے دیکھا لیا کہ حسین ابن علیؑ نے اپنا سر سجدہ الٰہی میں دے کر ثابت کردیا کہ رضائے معبود حاصل کرنا کس کو کہتے ہیں۔ حضرت علیؑ کی صاحبزادی حضرت زینبؑ نے دشمن اسلام کے اقتدار کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ، باوجود قیدی ہونے کے سجے ہوئے بازاروں اور بھرے ہوئے درباروں میں اپنے فصیح و بلیغ خطبوں سے حق و باطل کی وضاحت کرکے لوگوں کی آنکھوں پر پڑے غفلت کے پردے ہٹادئے اور حکومت یزید کی بنیادوں کو ہلادیا۔
حضرت علیؑ کمال تقویٰ و پرہیزگاری کے باوجود شگفتہ مزاج تھے۔ کبھی پیشانی پر بل نہیں آتا لیکن ان کے ہشاش بشاش چہرے پر جلال و تمکنت کا یہ عالم تھا کہ نگاہیں ان کے سامنے اُٹھ نہ سکتیں تھیں۔ آپؑ کے بیشمار اوصاف ہیں جنکا احاطہ کرنا ممکن نہیں ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT