حضرت علی مرتضیٰ ؄ کا مقام و مرتبہ

مولانا غلام رسول سعیدی

مولانا غلام رسول سعیدی

غزوۂ بدر کے علاوہ جن غزوات میں حضرت سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ نے دادِ شجاعت دی، ان میں غزوۂ احد، غزوۂ خندق، بنو قریظہ سے جنگ، بنوسعد کی سرکوبی اور معرکۂ خیبر شامل ہیں۔ مسلمان کئی روز سے قلعۂ خیبر پر حملہ کر رہے تھے، لیکن وہ فتح نہیں ہوا۔ آخر ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کل میں جھنڈا اس کے ہاتھ میں دوں گا، جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ خیبر کو فتح کرے گا۔ وہ ایسا شخص ہوگا کہ وہ اللہ و رسول سے محبت کرتا ہوگا اور اللہ و اس کے رسول کو اس سے محبت ہوگی‘‘۔ دوسرے دن تمام صحابۂ کرام سرکارﷺ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ وہ کون خوش قسمت ہے، جس کو حضورﷺ فتح کا جھنڈا دیتے ہیں۔ سب کے دل میں آرزو تھی، سب طالب تھے اور سب کی نگاہیں سرکار کی جنبشِ لب کو ڈھونڈ رہی تھیں اور سرکارﷺ کی نگاہیں حضرت علی کو تلاش کر رہی تھیں۔ پوچھا: ’’علی کہاں ہیں؟‘‘۔ صحابہ نے عرض کیا: ’’علی بیمار ہیں‘‘۔ فرمایا: ’’بلاؤ‘‘۔ حضرت علی خدمت اقدسﷺ میں حاضر ہوئے۔ پوچھا: ’’کیا تکلیف ہے؟‘‘۔ عرض کیا: ’’آنکھیں دُکھتی ہیں‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن مبارک حضرت علی کی آنکھوں میں ڈالا۔ حضرت علی فرماتے ہیں: ’’لعابِ دہن مبارک پڑنے کی دیر تھی کہ ساری تکلیف جاتی رہی اور پھر کبھی دوبارہ آنکھوں میں تکلیف نہیں ہوئی‘‘۔ اس کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کو جھنڈا عطا کیا اور فرمایا: ’’پہلے انھیں اسلام کی دعوت دینا، اس کے بعد ان سے جنگ کرنا‘‘۔ (مشکوۃ۔۵۶۳)

اس موقع پر حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے، کیونکہ تمام صحابۂ کرام اس موقع پر حضورﷺ کے طالب تھے اور حضورﷺ حضرت علی کے طالب تھے، یعنی سرکار صحابہ کے اور حضرت علی سرکار کے مطلوب تھے۔ قلعۂ خیبر کا وہ دروازہ جس کو چالیس آدمی بھی مل کر نہیں اُٹھا سکتے تھے، حضرت سیدنا علی مرتضیٰ نے ایک ضرب سے اُسے جڑ سے اُکھاڑ پھینکا۔ امام رازی لکھتے ہیں کہ یہ حضرت علی کی قوت نہ تھی، بلکہ اس وقت حضرت علی قوت یزدانی کے مظہر تھے اور اس قوت کے سیلاب کے سامنے قلعۂ خیبر کا دروازہ تنکوں کی طرح بہتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔
یوں تو تمام صحابۂ کرام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منظور نظر تھے اور خلفائے راشدین میں سے ہر ایک کی نمایاں خصوصیات تھیں، لیکن حضرت سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی بعض عظمتیں ایسی ہیں، جن میں کوئی ان کا ہمسر نہیں تھا۔ ایک موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں‘‘ (مشکوۃ۔۵۶۴) اس ارشاد کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ’’علی میرے خاندان سے ہیں اور میرے کمالاتِ نبوت کا ظہور علی سے ہوگا‘‘ اور اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ’’علی کی ذات میری ذات میں گم ہوچکی ہے، میں علی کا آئینہ ہوں اور علی میرے جمال کا پرتو ہیں۔ جو میرا محب ہے، وہ علی کا محب ہے اور جو علی کا مخالف ہے، وہ میرا مخالف ہے‘‘۔

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ (حجۃ الوداع سے واپسی کے موقع پر) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غدیر خم پہنچے تو آپﷺ نے حضرت علی کا ہاتھ اُٹھاکر صحابۂ کرام سے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’کیا تمھیں نہیں معلوم کہ تمام مسلمان مجھے اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبوب رکھتے ہیں؟‘‘۔ صحابۂ کرام نے عرض کیا: ’’کیوں نہیں‘‘۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: ’’کیا تمھیں نہیں معلوم کہ ہر مؤمن مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب رکھتا ہے؟‘‘۔ صحابۂ کرام نے عرض کیا: ’’کیوں نہیں‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس کا میں محبوب ہوں، اس کے علی محبوب ہیں۔ اے اللہ! اس سے محبت کر جو علی سے محبت رکھے۔ اے اللہ! اس سے عداوت رکھ جو علی سے عداوت رکھے‘‘۔ بعد میں جب حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ملاقات حضرت علی سے ہوئی تو حضرت عمر نے فرمایا: ’’اے علی! تمھیں مبارک ہو، تم پر صبح و شام میں سے کوئی وقت نہیں گزرتا مگر مؤمن کے دل میں تمہاری محبت ہوتی ہے‘‘ (مشکوۃ (مسند احمد) صفحہ۵۶۵) حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے علی کو بُرا بھلا کہا، اس نے مجھ کو بُر بھلا کہا‘‘۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT