Wednesday , November 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت عمر؄ اس امت کے محدث

حضرت عمر؄ اس امت کے محدث

مولانا غلام رسول سعیدی

حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابۂ کرام رشد و ہدایت کے پیکر اور نگاہِ فراست کے مالک تھے۔ انھوں نے فیضانِ رسالت سے تربیت پائی تھی، حضورﷺ پر وحی اُترنے کی کیفیت کو دیکھا تھا، رموزِ قرآن کے محرم اور اسرارِ وحی سے واقف تھے۔ اسی وجہ سے افراد صحابہ تعداد انبیاء کے مطابق اور ان کے اوصاف کے مظہر تھے۔ اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’میرے تمام صحابہ آسمانِ ہدایت کے ستارے ہیں، تم نے ان میں سے جس کو بھی مقتداء بنا لیا ہدایت پالو گے‘‘۔ یعنی سارے صحابۂ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اور نبوت کی تعبیر تھے۔ مگر جس کو نوید فراست ملی، جس نے موافقت وحی کا مرتبہ پایا، جس کی زبان الہام و تحدیث کا مرکز بنی، وہ حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’پہلی امتوں میں محدث ہوتے تھے، اگر میری امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمر ہے‘‘۔ ایک اور مرتبہ فرمایا: ’’تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ایسے لوگ ہوتے تھے، جو نبی تو نہ تھے مگر صاحب کلام تھے۔ اس امت میں اگر کوئی ایسا ہے تو وہ عمر ہے‘‘۔ (صحیح بخاری)
مفہوم محدث کے بارے میں اہل علم کے متعدد اقوال ملتے ہیں۔ بعض نے کہا: محدث صاحب الہام کو کہتے ہیں۔ تورپشتی نے کہا: محدث وہ شخص ہے، جس کی رائے صائب اور ظن صادق ہو۔ ابواحمد عسکری نے کہا: جس کے قلب پر ملاء اعلیٰ سے فیضان ہو اسے محدث کہتے ہیں۔ بعض نے کہا: جس کی زبان ہمیشہ نطق بالصواب کرتی ہو وہ محدث ہے۔ ابن التین نے کہا: محدث صاحب فراست ہوتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا: ملہم بالصواب کو محدث کہتے ہیں۔ ابن حجر عسقلانی نے ایک مرفوع روایت سے بتایا کہ ’’محدث کی زبان سے ملائکہ کلام کرتے ہیں‘‘۔ ملا علی قاری نے کہا: محدث سے مراد وہ شخص ہے، جو کثرتِ الہام کے سبب درجۂ انبیاء سے واصل ہو۔ ان تمام اقوال کا حاصل یہ ہے کہ محدث کے قلب و نظر پر ملاء اعلیٰ کا فیضان ہوتا ہے، اس کا اجتہاد صحیح اور اس کا کلام صائب اور ربانی تائید سے مؤید ہوتا ہے۔
اس امت میں محدث ہے یا نہیں؟ جمہور کی رائے یہی ہے کہ ’’ہے اور یقیناً ہے‘‘ کیونکہ جب اممِ سابقہ میں محدث ہوتے تھے تو خیر امم میں محدث کیوں نہ ہوگا۔ نیز پچھلی امتوں میں کسی ایک رسول کی شریعت کی تفہیم کے لئے تسلسل اور تواتر کے ساتھ انبیاء کرام آتے رہتے تھے۔ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ نے نبوت ختم کردی تو اللہ تعالیٰ نے نبی کی جگہ محدث کو مقرر کردیا، پس تمام اولیاء محمدیین محدث ہیں، لیکن اس گروہ کے سرخیل حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، جنھوں نے نطق رسالت سے محدث کا لقب پایا ہے۔
حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختلف مقدمات کا فیصلہ اس بالغ نظری اور صحیح فکر کے ساتھ کیا کہ جس سے صرف ان جزوی معاملوں پر ہی اثر نہیں پڑا، بلکہ ان فیصلوں سے فکر و اجتہاد کے اصول معلوم ہوئے اور امت کے لئے استنباطِ احکام اور استخراجِ مسائل کی راہیں کھلیں۔ ان تمام واقعات کا شمار تو بہت مشکل ہے، البتہ یہاں ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔
ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں یہ معاملہ پیش کیا گیا کہ مطلقہ عورت کو رہائش اور خرچ ملے گا یا نہیں؟۔ آپ نے فیصلہ کیا کہ ملے گا۔ اس وقت فاطمہ بنت قیس نے یہ روایت کی کہ مجھے میرے خاوند نے طلاق دی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’تیرے لئے کوئی نفقہ اور سکنٰی نہیں‘‘۔ جس کے جواب میں حضرت عمر نے فرمایا: ’’ہم کتاب اور سنت کو محض ایک عورت کے قول کی بناء پر نہیں چھوڑ سکتے، خدا جانے وہ سمجھ نہ سکی یا بھول گئی‘‘ (ابوبکر جصاص) اس فیصلہ سے یہ اصول معلوم ہوا کہ خبرواحد سے کتاب اور سنت متواترہ کے حکم کو منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اکثر احکام اسی اصول سے مستنبط کئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT