Tuesday , June 19 2018
Home / مذہبی خبریں / حضرت عمیر ؓ بن وہب کوما بعدغزوہ بدر شرف اسلام اورسعادت ہجرت کا اعزاز

حضرت عمیر ؓ بن وہب کوما بعدغزوہ بدر شرف اسلام اورسعادت ہجرت کا اعزاز

آئی ہرک کا تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی اورپروفیسرسید محمدحسیب الدین حمیدی کے لکچرس

حیدرآباد ۔18؍فبروری( پریس نوٹ)ابو سفیان نے اپنے قافلہ کو مدینہ کے راستہ سے ہٹا کر ساحلی راستہ سے مکہ مکرمہ کی طرف موڑ لیا۔ اس تدبیر سے قریش کا تجارتی قافلہ مسلمانوں کے زد سے ہٹ گیا۔ابو سفیان نے قریش مکہ کو یہ اطلاع بھجوائی کہ اب قافلہ کی حفاظت کے لئے اقدام کی ضرورت نہیں ہے اور قافلہ اپنے آدمی اور اموال کے ساتھ مکہ پہنچے گا۔لہذا یہ اطلاع ملتے ہی واپس لوٹ جائو۔جب یہ پیغام لشکر قریش میں پہنچا تو اکثر لوگ اس کے بموجب عمل کرنے پر آمادہ ہو گئے۔بنو زہرہ کے سردار نے اپنی قوم سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’اے بنی زہرہ! تم فقط اپنے اموال کی حفاظت کے لئے نکلے تھے۔ اب تمہارے اموال بچ گئے۔ ہمیں لڑنے کی ضرورت نہیں۔ واپس چلو‘‘۔ چنانچہ بنو زہرہ اپنے سردار کے ساتھ واپس ہو گئے۔ اس کے باوجود ابو جہل اڑا رہا اور اس نے تمام لوگوں سے کہا کہ اب جب ہم نکل چکے ہیں تو یونہی واپس لوٹ نہیں سکتے بلکہ بدر تک جائیں گے۔ابوجہل کے ورغلانے پر قریش گاتے بجاتے بدمستیاں کرتے ہوئے بدر کی طرف رواں دواں ہوئے اور بدر کے قریب ایک ٹیلہ پر قیام کیا۔ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مہاجرین اور انصار سے مشاورت اور ان کی لشکر قریش سے مقابلہ کے لئے آمادگی پر اپنے مقام سے روانہ ہوے اور بدر کے قریب تشریف لا کر ٹھہر گئے۔جب دن ڈھل گیا تو حضورؐ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور دیگر دوصحابہ کرامؓ کو بدر کی طرف روانہ کیا تا کہ تازہ صورت حال سے متعلق خبرئیں لائیں۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح 9 بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور 11.30 بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ ’1290‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے پہلے سیشن میں سیرت طیبہ کے تسلسل میں واقعات غزوہ بدر اور دوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت صحابی رسول اللہؐحضرت عمیر بن وہب ؓ کے احوال شریف پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ صاحبزادہ سید محمد علی موسیٰ رضا حمیدی نے اپنے خیر مقدمی خطاب میں تاریخ اسلام کے اہم نکات و ادوار پر مختصر اور جامع تقریر کی۔مولانا مفتی سید محمد سیف الدین حاکم حمیدی کامل نظامیہ و معاون ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک آیت جلیلہ کا تفسیری مطالعاتی مواد پیش کیا۔پروفیسرسید محمد حسیب الدین حمیدی جائنٹ ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک حدیث شریف کا تشریحی اور ایک فقہی مسئلہ کا توضیحی مطالعاتی مواد پیش کیا بعدہٗ انھوں نے انگلش لکچر سیریز کے ضمن میں حیات طیبہؐ کے مقدس موضوع پراپنا’1022‘ واں سلسلہ وار لکچر دیا۔ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت بتایا کہ غزوہ بدر میں قریش کے بڑے بڑے سورما تہہ تیغ ہوے اور بہت سارے قریشی، مسلمانوں کے اسیرہوے۔ قیدیوں میں عمیر بن وہب کے جواں سال فرزند وہیب بھی شامل تھے۔اپنی قوم کی شکست اور بیٹے کی گرفتاری نے عمیر بن وہب کو بے حد ملول و مضطرب کر دیا تھا چنانچہ مکہ میں صفوان بن امیہ نے عمیر کو اکسایا کہ وہ مدینہ جاے اور انتقام لے اس کے عوض جواباً صفوان نے عمیر کے قرضوں کی ادائی اور ان کی اولاد کی کفالت کی ذمہ داری قبول کی۔ عمیر نے زہر میں بجھی ہوئی تلوار لی اور رخت سفر باندھا جب مدینہ منورہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضور انورؐ مسجد نبوی میں تشریف فرما ہیں سیدھا خدمت میں حاضر ہوے حضور علیہ السلام نے ان کے جاہلیت والے سلام کے جواب میں فرمایاہمیں اس سلام کی حاجت نہیں بلکہ’’السلام علیکم‘‘کہو یہ اہل جنت کا سلام ہے۔ پھر ارشاد فرمایا ’’کیوںآے ہو‘‘ ؟ عمیر نے کہا کہ اپنے قیدی کو رہا کرانے آیا ہوں تب حضورانورؐ نے فرمایاکہ’’ پھر یہ تلوار کیسی ہے اسے کیوں لاے ہو‘‘؟ عمیر کی حیلہ جوئی پر ارشاد فرمایاکہ’’ پھر وہ شرطیں کیا تھیں جو تم نے حطیم کے پاس بیٹھ کر صفوان بن امیہ سے طے کی تھیں؟‘‘ زبان وحی ترجمان سے یہ سن کر عمیر ڈر گئے اور انکار کیا تب رسول اللہؐ نے فرمایا ’’تم نے اس سے میرے قتل کا وعدہ کیا تھا اس شرط پر کہ وہ تمہارے با ل بچوں کی کفالت کرے گا اور تمہارا قرض ادا کر دے گا‘‘۔ عمیر نے اس اعجاز کو دیکھاتو چکراگئے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ صفوان سے معاہدہ کے وقت کوئی تیسرا موجود نہ تھا۔ ان کے دل کی دنیا یکایک روشن ہو گئی اور بلاتامل وہ مشرف بہ ایمان ہو گئے۔ رسول اللہؐ نے صحابہ سے فرمایا’’ اپنے بھائی کو قرآن سکھائو اور ان کے قیدی کو رہا کر دو‘‘۔ پھر انھیں مکہ مکرمہ جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے کہا کہ حضر ت عمیرؓ کا سلسلہ نسب حذافہ بن جمح تک جا پہنچتا ہے حضرت عمیر ؓ قریش کے معزز سرداروں میں شمار ہوتے تھے ان کی کنیت ابو امیہ تھی۔ مکہ میں ان کی واپسی سے پہلے ہی ان کے اسلام لانے کے چرچے ہو گئے جب وہ لوٹے تو ان کے اثر و دبدبہ کے باعث قریش کچھ نہ کر سکے حضرت عمیرؓ نے صفوان کی طرف پلٹ کر بھی نہ دیکھااور زور شور سے تبلیغ دین کے کام میں منہمک ہو گئے چند ماہ بعد مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی سعادت حاصل کی۔حضرت عمیرؓ ہمہ وقت دربار رسالتؐ میں حاضر رہتے وہ بڑے بہادر اور جری تھے۔ حضرت عمر فاروق ؓکے عہد خلافت میں وفات پائی۔ ان کے تین فرزند تھے۔ اجلاس کے اختتام سے قبل سلام بحضور خیر الانام ؐپیش کیا گیا۔ ذکر جہری اور دعاے سلامتی پر آئی ہرک کا’1290‘ واں تاریخ اسلام اجلاس اختتام پذیر ہوا۔الحاج محمد یوسف حمیدی نے ابتداء میں تعارفی کلمات کہے اور آخر میں محمد مظہر اکرام حمیدی نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT