Sunday , June 24 2018
Home / مذہبی صفحہ / حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ

حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ حضرت محدث دکن رحمۃ اللہ علیہ

سیدشاہ مدثر حسینی
محدث دکن ابو الحسنات حضرت سید عبد اللہ شاہ نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ ۱۰؍ ذی الحجہ ۱۲۹۲ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے جد اعلیٰ مکہ مکرمہ سے عادل شاہی دَور حکومت میں سرزمین دکن آئے اور فرمان شاہی کے مطابق نلدرگ (مہاراشٹرا) میں فروکش ہوکر امور دینیہ اسلامیہ کی سرپرستی فرمائی۔ حضرت محدث دکن کے والد بزرگوار حضرت پیر سید مظفر حسین نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے حکومت آصفیہ کے زمانے میں حیدرآباد منتقل ہوئے اور یہیں قیام پسند کیا۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جانب سے چالیسویں پشت میں اور ۴۴ واسطوں سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے، اس طرح آپ کا شمار نجیب الطرفین سادات میں ہوتا ہے۔علوم ظاہری کی تحصیل و تکمیل کے بعد آپ نے علوم باطنی کی جانب توجہ مبذول کی اور نقشبندیہ سلسلہ کے مشہور بزرگ حضرت شاہ سعد اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرت پیر سید محمد بخاری شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے رجوع ہوکر طریقت کا فیض حاصل کیا۔قدرت نے آپ کو زبان و بیان کے ساتھ قلم کی قوت سے بھی سرفراز کیا تھا۔ آپ کی تصنیفات و تالیفات اپنے موضوعات و عنوانات کے لحاظ سے سند کا درجہ رکھتی ہیں، جو قرآن و حدیث، اقوال صحابہ، تشریحات تابعین، توضیحات تبع تابعین، اجتہادات مجتہدین، عرفانیات سالکین اور نگارشات مؤرخین سے بھری ہوئی ہیں۔ زجاجۃ المصابیح کو حضرت محدث دکن کی زندگی کا شاہکار کہا جاتا ہے۔حضرت محدث دکن کو عربی، فارسی اور اُردو زبان پر یکساں عبور حاصل تھا۔ تفسیر، حدیث، فقہ اور علم تصوف پر گہری نظر تھی۔ ایک طرف آپ کی عارفانہ زندگی ترک دنیا کا مفہوم پیش کرتی ہے اور دوسری طرف آپ راہِ طریقت اور رہبرِ علوم شرعیہ میں کسی سے کم نہیں تھے۔ مختلف موضوعات پر آپ نے چھوٹی بڑی پندرہ کتابیں لکھیں اور سبھی کو قبولیت کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت نے ۱۳۸۴ھ میں داعی اجل کو لبیک کہا۔

پیران پیرحـضرت غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی اور ان کی با عظمت شخصیت کا تذکرہ کبھی تعارف کے لئے ہوتا ہے اور کبھی حصولِ سعادت کے پیش نظر۔ ظاہر ہے کہ اس پروانۂ شمع نور نبوت کی وہ عالمگیر ضیاباریاں، جن سے عالم اسلام کی روحانی بارگاہیں آج بھی منور ہیں،کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ کی ولایت اس قدر مشہور اور مسلم الثبوت ہے کہ آپ کے ’’غوث اعظم‘‘ ہونے پر تمام امت کا اتفاق ہے، نسبی شرافت اور خاندانی وجاہت کے علاوہ علمی جلالت و عظمت،کمال ولایت،کثرت کرامت اور جامعیت آپ کی وہ خاص خصوصیات ہیں، جو بہت کم اولیاء کرام کو حاصل ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی شہرت کے آفتاب کو کبھی گہن نہیں لگا، بلکہ ہمیشہ آپ کی عظمتوں اور کرامتوں کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بجتا ہی رہا اور آج بھی آپ کی عظمتوں اور کرامتوں کا آفتاب پوری آب وتاب کے ساتھ چمک رہا ہے اور ان شاء اللہ تاقیام قیامت تک چمکتا ہی رہے گا۔
شیخ الاسلام عارف باللہ حضرت مولانا محمد انوار اللہ فاروقی بانی جامعہ نظامیہ رحمۃاللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’مقاصد الاسلام‘‘ حصہ ہشتم میں حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی کرامت اس طرح نقل فرمائی ہے۔ ایک شخص نے حضرت سیدنا عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا: میری ایک لڑکی گھر کی چھت پر چڑھی تھی اور وہاں سے وہ غائب ہوگئی۔ آپ نے فرمایا کہ آج رات محلہ کرخ کے ویرانہ میں جاؤ اور پانچویں ٹیلہ کے پاس بیٹھو اور زمین پر یہ کہتے ہوئے ایک دائرہ اپنے اطراف کھینچ لوکہ ’’بسم اللّٰہ علی نیۃ عبد القادر‘‘ جب اندھیرا ہوجائے گا تو جن کی جماعتیں مختلف صورتوں میں تم پر گزریں گی، ان کی ہیبت ناک صورتوں کو دیکھ کر ڈرنا نہیں۔ صبح کے قریب ان کا بادشاہ ایک بڑے لشکر میں آئے گا اور تم سے پو چھے گا کہ تمہاری کیا حاجت ہے؟ تو کہہ دیناکہ مجھے عبدالقادر نے بھیجا ہے اور اس وقت لڑکی کا سارا واقعہ بھی بیان کردینا۔ اس شخص نے اس مقام پر جاکر حکم کی تعمیل کی اور کل واقعات وقوع میں آئے۔ جب بادشاہ نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ ’’مجھے شیخ عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ نے بھیجا ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی وہ گھوڑے سے اُتر پڑا اور زمیں بوسی کے بعد دائرہ کے باہر بیٹھ گیا اور اس کی حاجت دریافت کی۔ جب اس شخص نے اپنی لڑکی کا واقعہ بیان کیا تو بادشاہ نے اپنے ہمراہیوں سے کہا کہ ’’جس نے یہ کام کیا ہے فوراً اُسے پکڑکر لاؤ!‘‘۔ چنانچہ ایک سرکش جن لایاگیا، جس کے ساتھ میری لڑکی بھی تھی۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس سرکش کی گردن ماردی جائے اور لڑکی کو میرے حوالہ کر کے رخصت ہوگیا۔ حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا یہ واقعہ نقل فرماکر شیخ الاسلام علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’اس سے جنوں کے علم کا حال بھی معلوم ہوتا ہے کہ دائرہ تو مقام کرخ میں کھینچا گیا اور مسافت بعیدہ پر بادشاہ کو خبر ہوگئی، کیونکہ رات بھر چل کر قریب صبح اس دائرہ کے پاس پہنچا تھا، جو صرف شیخ کی نیت سے کھینچا گیاتھا۔ علاوہ ازیں اس سے حضرت غوث الثقلین رحمۃ اللہ علیہ کے تصرف کا حال بھی معلوم ہوگیاکہ جنوں پر آپ کا کیا اثر تھا۔ جو لکیر آپ کی نیت سے کھینچی گئی تھی، وہاں جنات بادشاہ بذات خود حاضر ہوا اور زمیں بوسی کی۔ (مقاصد الاسلام حصہ ہشتم، صفحہ۱۷۰؍۱۶۹)
حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی اس کرامت سے یہ حقیقت بھی ظاہر ہورہی ہے کہ جن و انس دونوں آپ کی ذاتِ عالی سے وابستہ اور تابع ہیں۔

TOPPOPULARRECENT