Saturday , November 18 2017
Home / مذہبی خبریں / حضرت مسلمہؓبن مخلد انصاری بلند مرتبت قاری

حضرت مسلمہؓبن مخلد انصاری بلند مرتبت قاری

اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا کا تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی کے لکچرس
حیدرآباد ۔۶؍مارچ( پریس نوٹ) رسولؐ اللہ قرآن مجید کی تعلیم کے سلسلہ کو بہت ہی پسند فرماتے۔ مسجد نبویؐ کے حلقہ درس میں ایک صحابی قرآن مجید پڑھتے اور دوسرے اصحاب سنا کرتے ۔صحابہ کرام میں اگر چہ سب کے سینے علوم قرآن کے انوار سے منور تھے تاہم ان میں سے چند بزرگوں کو خصوصیت حاصل تھی انہی میں ایک حضرت مسلمہ ؓ بن مخلد تھے کہ جنھیں قراء ت کلام پاک کی خداداد نعمت ملی تھی۔ان حقائق کے اظہار کے ساتھ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح ۹ بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور دو بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا (آئی ہرک) کے زیر اہتمام منعقدہ ’۱۱۸۹‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے علی الترتیب پہلے سیشن میں احوال انبیاء علیھم السلام کے تحت حضرت یونس علیہ السلام کے مقدس حالات اوردوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے ضمن میں صحابی رسول اللہؐ حضرت مسلمہؓ بن مخلد کے احوال شریف پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے دونوں سیشنس کا آغاز ہوا۔ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوے بتایا کہ حضرت مسلمہؓ بن مخلد جید حافظ قرآن مجید اور بہت ہی عمدہ طریقہ پر کلام پاک کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ میں اپنے آپ کو قرآن مجید کا بہترین حافظ شمار کرتا تھا لیکن ایک دن میں نے جب حضرت مسلمہؓ بن مخلد کے پیچھے نماز پڑھی تو مجھے یہ اندازہ ہوا کہ وہ اس معاملہ میں کہیں زیادہ ہیں انھوں نے بہت ہی عمدہ طریقہ سے قراء ت کلام پاک کی یہ اللہ تعالیٰ کی عطاے خاص ہے۔  حضرت مسلمہؓ بن مخلد مدینہ منورہ کے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے تھے انصار مدینہ میں ان کا خاندان ممتاز تھا۔ ان کے دادا صامت بن نیار بن لوذان تھے جن کا سلسلہ نسب ساعدہ بن کعب بن خزرج سے جا ملتا ہے۔ حضرت مسلمہؓ بن مخلد ان نونہالان اسلام میں سے تھے جن کی ولادت رسول اللہؐ کی ہجرت کے زمانے میں ہوئی اس سلسلہ میں دو اقوال ہیں ایک یہ کہ بوقت ہجرت حضرت مسلمہؓ کی عمر ۴ سال تھی دوسرا قول یہ ملتا ہے کہ حضور اکرمؐ کے مدینہ منورہ رونق افروز ہونے کے بعد حضرت مسلمہؓ کی پیدائش ہوئی۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے عہد شریف میں حضرت مسلمہؓ مدینہ منورہ سے مصر منتقل ہو گئے اور وہیں مستقل سکونت پذیر ہو گئے۔ بعد ازاں انہیں مصر و مغرب دونوں صوبوں کی امارت سونپی گئی۔ ڈاکٹر حمیدالدین شرفی نے بتایا کہ حضرت مسلمہؓ بن مخلد کو رسول اللہؐ سے تقرب خاص حاصل تھا اور ارشادات مبارک کی روایت کا شرف بھی پایا کتب احادیث میں موجود یہ ارشاد نبویؐ کہ ’’ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی دنیا میں ستر پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی ستر پوشی کرے گا جو شخص کسی تکلیف سے دوسرے کو نجات دلاے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی مکروہات سے اسے نجات بخشے گا اسی طرح جو آدمی اپنے بھائی کی حاجت روائی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماے گا‘‘حضرت مسلمہؓ ہی سے مروی ہے۔حضرت مسلمہؓ  بن مخلد نے ۶۲ھ میں وفات پائی۔ مدفن کے مدینہ منورہ یا مصر میں ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔

TOPPOPULARRECENT