Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / حضرت مصعبؓ بن عمیر کو ہجرت نبویؐ سے قبل مدینہ میں اشاعت دین کا منفرد اعزاز

حضرت مصعبؓ بن عمیر کو ہجرت نبویؐ سے قبل مدینہ میں اشاعت دین کا منفرد اعزاز

آئی ہرک کا تاریخ اسلام اجلاس، ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی اورپروفیسرسید محمدحسیب الدین حمیدی کے لکچرس
حیدرآباد ۔22؍اکٹوبر( پریس نوٹ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری مبارک مدینہ منورہ کی آبادی کے اندر بڑھنے لگی تو ہر کوئی اس بات کا شدید آرزومند تھا کہ اس کو حبیب کبریاؐ کی میزبانی کا شرف و افتخار حاصل ہو۔ چنانچہ بنی سالم بن عوف، بنی ساعدہ ، بنی عدی اور دیگر قبائل کے سربرآوردہ لوگ اور روساء یکے بعد دیگرے جہاں جہاں سے سواری اقدس گزر رہی تھی حضورؐ کے سامنے آآکر معروضہ کرتے جا رہے تھے کہ ’’یا رسول اللہ! ہمارے پاس تشریف رکھیں ، ہمیں خدمت کی عزت بخشیں ، ہمارے ہاں قیام فرما کر نوازیں ’’۔ لیکن رسول اللہؐ ہر ایک کو دعائے برکت سے نوازتے ہوئے ارشاد فرماتے کہ ’’میری یہ اونٹنی مامور ہے جہاں یہ بیٹھ جائے گی وہی میری قرارگاہ ہوگی‘‘۔حضورؐ کی سواری مبارکہ مختلف محلوں اور قبائل کے علاقوں سے گزرتی ہوئی بنی مالک بن النجار کے احاطہ میں اس جگہ آکر رک گئی جہاں آج مسجد نبوی شریف ہے۔حضورؐ کچھ دیر بعد سواری سے اترے۔ وہاں قریب تر مکان حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا تھا گویا ان کے مقدرجاگ اٹھے وہ فوراً آگے بڑھے اور حضورؐ کا ساز و سامان اونٹنی سے اتار کر اپنے گھر میں رکھ آئے۔رسول اللہؐ نے اس ارشاد مبارک سے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو مسرت و خوشی اور عزت سے سرفراز کیا کہ ’آدمی کی وہیں اقامت ہے جہاں اس کا سامان سفر ہے‘‘۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح9 بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور 11.30بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ ’1274‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے پہلے سیشن میں سیرت طیبہ کے تسلسل میں واقعات ہجرت مقدسہ اور دوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت صحابی رسول اللہؐ حضرت مصعب بن عمیرؓ کے احوال شریف پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے اجلاس کا آغاز ہوا۔اہل علم حضرات اور باذوق سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔صاحبزادہ سید محمد علی موسیٰ رضا قادری حمیدی نے خیر مقدمی خطاب کیا۔مولانا مفتی سید محمد سیف الدین حاکم حمیدی کامل نظامیہ و معاون ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک آیت جلیلہ کا تفسیری مطالعاتی مواد پیش کیا۔پروفیسرسید محمد حسیب الدین حمیدی جائنٹ ڈائریکٹر آئی ہرک نے ایک حدیث شریف کا تشریحی اور ایک فقہی مسئلہ کا توضیحی مطالعاتی مواد پیش کیا بعدہٗ انھوں نے انگلش لکچر سیریز کے ضمن میں حیات طیبہؐ کے مقدس موضوع پراپنا’۱۰۰۶‘ واں سلسلہ وار لکچر دیا۔ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے سلسلہ بیان جاری رکھتے ہوئے ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت بتایا کہ صحابی رسول اللہؐ حضرت مصعب ؓ بن عمیر نے اصحاب رسول ؐ میں سب سے پہلے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا اعزاز پایا۔ رسول ؐاللہ نے انھیں انصار کی دینی تعلیم و تربیت پر مامور کیا تھا۔مدینہ میں حضرت مصعبؓ حضرت اسعد بن زرارہؓ کے ہاں قیام پذیر ہوئے اور حضرت اسعدؓ کا مکان ہی دعوت و ارشاد کا مرکز قرار پایا۔ ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے کہا کہ حضرت مصعب ؓ نے دار ارقم کے زمانے میں اسلام لایا جس کے سبب ان کے خاندان والوں نے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے انھیں قید و بند جھیلنا پڑا۔حضرت مصعبؓ بن عمیر حبشہ کی ہجرت میں بھی شامل رہے۔ وہ بڑے شکیل و جمیل اور وجیہہ و جاذب نظر تھے والدین کے چہیتے اور خوش لباس تھے عمدہ عطر استعمال کیا کرتے تھے بڑی آرام دہ زندگی کے عادی تھے مگر اسلام لانے کے بعد جب یہ ساری آسائشیں باقی نہ رہی تو انھوں نے صبر کیا۔ رسولؐ اللہ کا یہ ارشاد کہ میں نے مصعب بن عمیر سے زیادہ خوبصورت بالوں والا، نفیس کپڑے پہننے والا اور نازو نعم والا کسی کو نہیں دیکھا یہ ارشاد ان کے لئے سند افتخار تھا۔ رسول ؐ اللہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص کے ساتھ ان کی مواخاۃ کروائی تھی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو ایوبؓ ان کے بھائی بنے۔ ڈاکٹرحمید الدین شرفی نے کہا کہ بدر کے دن حضرت مصعب رسولؐ اللہ کے علمبردار تھے۔ اسی طرح احد کے دن بھی انھیں پرچم اسلام اٹھانے کا اعزاز ملا۔ حضرت مصعبؓ ثابت قدم مجاہدین میں نمایاں تھے۔ دشمنوں نے آپ پر اتنا زور دار حملہ کیا کہ آپ کے دونوں بازو کٹ گئے اور جب اعداء نے نیزہ ان کے بدن کے آر پار کر دیا تو یہ شہادت عظیم سے معزز ہوے۔ احد کے دن پرچم اسلام کی بلندی قائم رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی صورت میں ایک فرشتہ کو بھیجا شہادت کے وقت مصعب ؓبن عمیر چالیس سال کے تھے۔ انھوں نے بڑی قناعت، صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزاری۔ اجلاس کے اختتام سے قبل بارگاہ رسالت پناہیؐ میں تاج العرفاءؒ کے تحریر کردہ سلام کو پیش کیا گیا۔ ذکر جہری اور دعاے سلامتی پر آئی ہرک کا’1274‘ واں تاریخ اسلام اجلاس اختتام پذیر ہوا۔الحاج محمد یوسف حمیدی نے ابتداء میں تعارفی کلمات کہے اور آخر میں محمد مظہر اکرام حمیدی نے شکریہ ادا کیا۔

 

TOPPOPULARRECENT