Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حضورؐ کی مخلصانہ اتباع کرنے والے اہل ایمان انعامات الٰہی کے ہر حال میں مستحق

حضورؐ کی مخلصانہ اتباع کرنے والے اہل ایمان انعامات الٰہی کے ہر حال میں مستحق

اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا کا تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی کا خطاب

حیدرآباد ۔4؍ڈسمبر( پریس نوٹ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سچی محبت پر ہی ایمان کا انحصار ہے، محبت بھی ایسی ہو جو اختیاری اور شعوری ہو ۔ اس کے کئی پہلو ہیں جن میں یقین عظمت و بزرگی، جذبہ ادب و احترام، اتباع کاملہ، فرمانبرداری،خودسپردگی، آثار و منسوبات سے تعلق خاطر، اقوال و افعال کو حرز جان بنا لینا ، اپنی پسند، خواہش اور چاہت و مفادات سے دستبردار ہو کر پوری طرح تابع فرمان ہو جانا اور اپنا سب کچھ نچھاور کر دینا۔ یہ حقیقت حدیث شریف سے بھی ثابت ہے۔ آقاے دو جہاںؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اس ذات پاک کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اس کی اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہو جائوں‘‘۔ یہاں مومن کی ان فطری محبتوں کا انکار نہیں بلکہ ماں باپ، اولاد اور ہم مذاق لوگوں کی چاہتوں کے باوجود رسول اللہؐ سے ایسی محبت ہو جو ان سب پر فائق اور ان سب محبتوں سے کہیں زیادہ ہو کہ اگر ضرورت ہو تو حضورؐ پر ہر چیز قربان کر دیں۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح ۹ بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن، سبزی منڈی اور 11.30بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ 1228ویں تاریخ اسلام اجلاس کے دونوں سیشنوں میںمحبت حبیب کبریاؐ کے مقدس موضوع پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے دونوں سیشنس کا آغاز ہوا۔اہل علم حضرات اور باذوق سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوے بتایا کہ رسول اللہؐ کے احسانات اہل ایمان پر بے حد و حساب ہیں ۔ مومن امتی کا جو واسطہ حضورؐ کی ذات اطہرکے ساتھ ہے کسی اور کے ساتھ نہیں۔ مومن پر واضح ہے کہ توحید کی دولت، رسالت کی گواہی، کلام الٰہی، صراط مستقیم، ضابطہ حیات، ہدایت کامل، اخلاق و آداب، انفاق و اخوت، اخروی بھلائی، جہنم سے نجات، نوید شفاعت و مغفرت ہر نعمت کا وسیلہ و ذریعہ حضورپاکؐ ہی ہیں۔حضوراقدسؐ سے محبت، شکر و احسان مندی کا تقاضہ ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت اور آپ کے ارشاد کی تعمیل کو سب چیزوں پر مقدم رکھنا، ماں باپ، اہل و عیال اور دوست و احباب اگر اس ضمن میں ناراض ہو جائیں تب بھی کسی کی پرواہ نہ کرنا لیکن حضورؐ کی نافرمانی ہر گز اختیار نہ کرنا ، یہی تو حقیقت میں رسول اللہؐ سے محبت کی علامت ہے۔ یہ بات بھی ہے کہ حضورؐ کی سنت کو اختیار کرنا، حضورؐ کی شریعت پر جو اعتراض کرے اس کا جواب دینا، حضورؐ سے ملنے کی آرزو کرنا اگر چہ کہ جان و مال تصدق ہو جائے یہی حقیقت ایمان و اتباع ہے اور جو خوش نصیب محبوب کبریاؐ کی محبت کے ان تمام پہلوئوں کو پورا کرنے کی صدق دل کے ساتھ کوشش کرتے ہیں بلاشبہ وہ رحمت پروردگار کے ہر دو جہاں میں مستحق بن جاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT