حضورنظام ترقی کی علامت، ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار

حیدرآباد ۔ 25 جنوری (جنوری (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر محمد فاروق حسین نے حضور نظام ترقی کی علامت اورہندو مسلم اتحاد کے علمبردار قرار دیتے ہوئے نظام کی مخالفت کرنے والے تمام جماعتوں کے ارکان کو آر ایس ایس کی زبان میں بات کرنے کا الزام عائد کیا۔ آج کونسل میں تلنگانہ مسودہ بل کے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے فاروق حسین نے

حیدرآباد ۔ 25 جنوری (جنوری (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل مسٹر محمد فاروق حسین نے حضور نظام ترقی کی علامت اورہندو مسلم اتحاد کے علمبردار قرار دیتے ہوئے نظام کی مخالفت کرنے والے تمام جماعتوں کے ارکان کو آر ایس ایس کی زبان میں بات کرنے کا الزام عائد کیا۔ آج کونسل میں تلنگانہ مسودہ بل کے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے فاروق حسین نے کہا کہ نظام کی تاریخ سے ناواقف لوگوں کو ایوان میں ان کے خلاف بات کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ انہوں نے حضور نظام کی مخالفت کرنے والے کانگریس، تلگودیشم، سی پی ایم، سی پی آئی کے نمائندوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں ریاست کی تقسیم پر مباحث جاری ہے۔ اس سے نظام کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی حضور نظام کو تنقید کا شانہ بنانے سے ریاست کی تقسیم کی کارروائی پر کوئی اثر پڑھنے والا ہے۔ ایوان میں ایسے کئی ارکان ہیں جنہوں نے نظام کے تعلیمی اداروں میں بڑھائی حاصل کی ہے اور جس ایوان میں بیٹھ کر وہ نظام کی مخالفت کررہے ہیں وہ بھی نظام کی بنائی ہوئی ہے۔ ساتھی رکن سری واسو نائیڈو نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے نظام دورحکومت میں خواتین پر مظالم ڈھانے، قتل اور غارت گری کرنے اور لوٹ مار کرنے کے علاوہ تبدیلی مذہب کو فروغ دینے کا جو الزام عائد کیا ہے وہ بے بنیاد ہے۔ اسلام بادشاہوں کی بادشاہی یا شہنشاہوں کی شہنشاہیت سے یا پھر تلواروں کے زور سے نہیں پھیلا بلکہ حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات اور بھائی چارگی کی تبلیغ سے پھیلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے ارکان مسٹر پی وینکٹ راؤ، اپا راؤ کے علاوہ ریاستی وزیر مسٹر شیلجہ ناتھ اور چند دوسرے ارکان نے نظام کے دورحکومت کو برا بھلا کہا کہ وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ کہنا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کی پوری تاریخ میں شاید ہی ایسا دور رہا ہوگا

جو نظام اسٹیٹ میں تھا اور نظام اسٹیٹ جیسی ترقی کسی دوسری اسٹیٹ میں نہیں ہوئی۔ نظام کے خلاف کی گئی تقاریر کی وہ مذمت کرتے ہیں اوراس کو سفید جھوٹ قرار دیتے ہیں کیونکہ نظام کے دورحکومت میں کبھی کسی کسان نے خودکشی نہیں کی۔ وہ خوشحالی کا دور تھا۔ صنعتی ترقی، آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات، سڑکوں کی تعمیرات، حمل و نقل کی تمام سہولتیں میسر تھیں۔ ریاست کی تقسیم کا فیصلہ ہوچکا ہے۔

اس کو قبول کرنے میں ہی دونوں علاقوں کی ترقی ہے۔ دلوں کی تقسیم ہوچکی ہے۔ ہمارے سامنے سرحدوں کی تقسیم کے سواء کوئی متبادل نہیں ہے۔ انہوں نے سیما آندھرا کے قائدین کو ریاست کی تقسیم کو قبول کرتے ہوئے اپنے علاقوں کے مسائل کو پیش کرنے کا مشورہ دیا۔ تقسیم ریاست کے مسودہ بل پر مباحث ہوں تو نوٹس کے ذریعہ ترمیمات پیش کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے علاقہ واری انتقامی جذبات نہ بھڑکانے کا ارکان کو مشورہ دیا۔ علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے کا فیصلہ کرنے پر کانگریس کی صدر مسز سونیا گاندھی اور وزیراعظم سے اظہارتشکر کیا اور علحدہ تلنگانہ ریاست کیلئے زندگیاں قربان کرنے والوں کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ریاست کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستوں میں مسلمانوں کو 40 فیصد تحفظات فراہم کرنے اور اردو کو جائز مقام دینے مسلمانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے خصوصی رعایتیں دینے کا مطالبہ کیا۔ درگاہ حضرت بابا شرف الدین پہاڑی شریف کی ہزاروں ایکر اراضی پر ناجائز قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ وقف بورڈ کو متبادل اراضی فراہم کرنے یا معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT