Wednesday , November 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضور ؐکی خلقت تمام کائنات میں سب سے پہلے ہوئی

حضور ؐکی خلقت تمام کائنات میں سب سے پہلے ہوئی

مرسل : ابوزہیر نظامی

آیت کریمہ ’’وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ‘‘ (میں سب سے پہلا مسلم ہوں) میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی اولیت خلقت کی طرف واضح اشارہ پایا جاتا ہے۔ صاحب عرائس البیان فرماتے ہیں: ’’اس آیت میں اشارہ ہے کہ حضور   علیہ الصلوۃ والسلام کی روح پاک اور جوہر مقدس جمیع کون یعنی تمام ماسواء اللہ پر مقدم ہے‘‘ (عرائس البیان، جلد۱، صفحہ۸۳۲) ظاہر ہے کہ اختیاری یا غیر اختیاری اسلام سے تو عالم کا کوئی ذرہ خالی نہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: ترجمہ: ’’حالانکہ اسی کے حضور سر جھکا دیا ہے ہر چیز نے، جو آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا مجبوری سے اور اسی کی طرف وہ (سب) لوٹائے جائیں گے‘‘ (آل عمران۔۳۸) پھر سب اسلام لانے والوں سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اسی وقت ہوسکتے ہیں، جب کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سب سے پہلے ہوں، لہذا اس آیت سے بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلقت تمام کائنات سے پہلے ہوئی۔ اس آیت کے بعد احادیث مبارکہ میں بھی اس مضمون کو ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت امام عبد الرزاق صاحب مصنف نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے کہ حضرت جابر فرماتے ہیں: ’’میں نے عرض کیا یارسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے خبر دیں کہ وہ پہلی چیز کونسی ہے، جسے اللہ تعالیٰ تمام اشیاء سے پہلے پیدا فرمایا؟‘‘۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ’’اے جابر! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا، پھر یہ نور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے موافق جہاں اس نے چاہا سیر کرتا رہا۔ اس وقت نہ لوح تھی نہ قلم تھا، نہ جنت تھی نہ دوزخ، نہ فرشتہ تھا، نہ آسمان، نہ زمین تھی، نہ سورج، نہ چاند، نہ جن، نہ انسان۔ جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ مخلوقات کو پیدا کرے تو اس نور کو چار حصوں میں تقسیم کردیا۔ پہلے حصہ سے قلم بنایا، دوسرے حصہ سے لوح، تیسرے حصہ سے عرش اور پھر چوتھے حصہ کو چار حصوں میں تقسیم کیا، تو پہلے حصہ سے عرش اُٹھانے والے فرشتے بنائے، دوسرے سے کرسی، تیسرے سے باقی فرشتے اور پھر چوتھے حصہ کو چار حصوں میں تقسیم کیا، تو پہلے حصہ سے آسمان بنائے، دوسرے سے زمین اور تیسرے سے جنت اور دوزخ اور پھر چوتھے حصہ کو چار حصوں میں تقسیم کیا، تو پہلے سے مؤمنین کی آنکھوں کا نور بنایا، دوسرے سے ان کی دِلوں کا نور پیدا کیا جو معرفت الہٰی ہے، تیسرے سے ان کا نور انس پیدا کیا اور وہ توحید ہے (جس کا خلاصہ لَاالہ الّااللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ہے)… الخ‘‘ ۔
(مواہب لدنیہ، جلد اول، صفحہ۹۔ سیرت حلبیہ جلد۱، صفحہ۳۰۔ زرقانی جلد اول)

TOPPOPULARRECENT