Tuesday , December 11 2018

حضور اکرمﷺ کے شمائل و خصائل

قاری محمد مبشر احمد رضوی القادری

قاری محمد مبشر احمد رضوی القادری

حضور اکرم، نور مجسم، رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت نے جس طرح کمال سیرت میں تمام اولین و آخرین سے ممتاز اور افضل و اعلی اور برتر و بالا بنایا ہے، اسی طرح جمال صورت میں بھی بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بے مثالی عام آدمی کی عقل سے ماوریٰ ہے۔ چمن رسالت کے مہکتے پھول حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے جمال نبوت کا مشاہدہ دن کے اجالے، رات کی تاریکی اور سفر و حضر میں کیا ہے اور انھوں نے مصور قدرت کے انوار و تجلیات کا جو نقشہ پیش کیا ہے، وہ بھی اپنی جگہ بے مثال ہے۔

مدحت مصطفی میں گم ہوکر کسی عاشق نے خوب لکھا ہے کہ ’’اللہ تعالی نے حضور پرنور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم کا مثل پیدا فرمایا ہی نہیں اور میں یہی جانتا ہوں کہ وہ کبھی پیدا بھی نہیں فرمائے گا‘‘۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ جو مداح نبی، دربار رسالت کے شاعر اور صحابی رسول ہیں، اپنے قصیدۂ ہمزیہ میں جمال نبوت کی شان بے مثال اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ’’یارسول اللہ! آپ سے زیادہ حسن و جمال والا میری آنکھ نے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے پیدا کیا ہی نہیں۔ یارسول اللہ! آپ ہر عیب اور نقص سے پاک پیدا کئے گئے، گویا آپ ایسے پیدا کئے گئے جیسا کہ آپ کو پیدا ہونا چاہئے تھا‘‘۔
حضرت علامہ امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ قصیدۂ بردہ شریف میں فرمایا کہ ’’حضؤر سید المرسلین محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خوبیوں میں ایسے یکتا ہیں کہ اس معاملے میں ان کا کوئی شریک نہیں‘‘۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ ’’سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اقدس کا رنگ گورا سفید تھا‘‘ (شمائل ترمذی) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ’’جسم رسولﷺ نہایت نرم و نازک تھا اور آپ کے جسم سے بے مثال خوشبو آتی تھی‘‘۔ (بخاری شریف)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ’’سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جب خوشی کا اظہار فرماتے تو چہرۂ مبارک چاند کی طرح چمک اٹھتا تھا۔ آپ کے رخ انور پر پسینہ کے قطرات موتیوں کی طرح ڈھلکتے تھے اور اس پسینہ میں مشک و عنبر سے بڑھ کر خوشبو رہتی تھی۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ محترمہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا ایک چمڑے کا بستر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بچھا دیتی تھیں۔ آپﷺ اس پر دوپہر میں قیلولہ فرماتے تھے۔ جسم اطہر سے جو پسینہ نکلتا تھا، اسے آپ ایک شیشی میں جمع فرمالیتی تھیں، پھر اس کو اپنی خوشبو میں ملا لیا کرتی تھیں۔ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے وصیت کی تھی کہ میری وفات کے بعد میرے بدن اور کفن میں وہی خوشبو لگائی جائے، جس میں آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینۂ مبارک شامل ہو‘‘۔ (بخاری شریف)

آپﷺ کے خصائص میں ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا۔ ایک مرتبہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہ رب العزت میں عرض کیا: ’’اے میرے رب! تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مرتبہ خلت عطا فرمایا اور اپنا خلیل بنایا۔ حضرت موسی علیہ السلام کو شرف تکلم بخشا اور ان سے کلام فرمایا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کو روح القدس بنایا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے پہاڑ مسخر کیا اور لوہے کو نرم بنایا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو جن و انس کا بادشاہ بنایا اور ہوا کو ان کے تابع کیا۔ اے مولا! مجھے کونسی نعمت سے مخصوص کیا؟‘‘۔ ارشاد ہوا: ’’اے محبوب! میں نے تمہارے سینہ کو کشادہ کیا، تاکہ نزول وحی کی اس میں گنجائش ہو اور اسرار الہی، انوار باری، نور ایمان و عرفان، علم و حلم اور حکمت و رحمت اس میں جمع ہوسکے اور تم اس سے فائدہ و کمال حاصل کرسکو‘‘۔

اللہ تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کے بار اور بوجھ سے سبکدوش فرمایا، ہر رنج و غم کو دور کیا، ہر سختی کو رفع فرمایا، آپ کا ذکر زمینوں اور آسمانوں میں بلند کیا، اپنے محبوب کے نام کو اپنے نام کے ساتھ طاعت و عبادت، اذان و اقامت، تحیات و خطبات، کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت میں یکجا رکھا۔ روز اول تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام سے آپﷺ کے بارے میں عہد و میثاق لے کر ان پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنا اور ایمان لانا لازم کیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالی کے نزدیک اولین و آخرین میں سب سے زیادہ عزت و بزرگی والا میں ہوں‘‘۔ (ترمذی شریف)
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ’’میں نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاندنی رات میں دیکھا، کبھی میں حضورﷺ کی طرف دیکھتا اور کبھی چاند کی طرف، بالآخر میں نے فیصلہ کیا کہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم چاند سے بڑھ کر حسین ہیں‘‘۔ (دارمی و مشکوۃ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ سرکار اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دن رات پے در پے روزہ رکھنے سے منع فرمایا، تو ایک شخص نے آپﷺ سے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! آپ تو رات دن پے در پے روزہ رکھتے ہیں؟‘‘۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے مثل تم میں کون ہے؟ بے شک میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلاتا پلاتا ہے‘‘۔ (بخاری شریف)

TOPPOPULARRECENT