Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / حضور اکرم ؐ سے نسبت ‘ خیر امت کہلانے کا سبب

حضور اکرم ؐ سے نسبت ‘ خیر امت کہلانے کا سبب

حیدرآباد۔/18 جنوری(سیاست نیوز) نبی آخری الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں ابدی کامل انقلاب بپا ہوا ہے اور بنی نوع انسانی کو ایک ایسادستور حیات ملا ہے جو قیامت تک کیلئے صالح معاشرہ کا ضامن ہے۔ رب کائنات اللہ عزو جل نے خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ رفعت و عظمت سے نوازا ہے جو کسی مخلوق کو حاصل نہیں ہے۔

حیدرآباد۔/18 جنوری(سیاست نیوز) نبی آخری الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں ابدی کامل انقلاب بپا ہوا ہے اور بنی نوع انسانی کو ایک ایسادستور حیات ملا ہے جو قیامت تک کیلئے صالح معاشرہ کا ضامن ہے۔ رب کائنات اللہ عزو جل نے خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ رفعت و عظمت سے نوازا ہے جو کسی مخلوق کو حاصل نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کے باعث امت مسلمہ کو خیر امت کا لقب حاصل ہوا ہے۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال لیں تو پھر ہمیں امتوں کی امامت سونپی جائیگی۔ ان خیالات کا اظہار علمائے کرام و دانشوران قوم نے مجلس بچاؤ تحریک کے 22 ویں سالانہ جلسہ رحمتہ اللعلمین صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو مغل پورہ پلے گراؤنڈ پر ڈاکٹر قائم خان صدر مجلس بچاؤ تحریک کی نگرانی میں منعقد ہوا۔ جلسہ سے خطاب کیلئے مفکر اسلام علامہ قاری سخاوت حسین برکاتی (اڈیشہ)، خطیب اسلام مولانا شاکر رضأ (مہاراشٹرا) اور مولانا قاری امان اللہ بلیاوی (مغربی بنگال) کو مدعو کیا گیا

جبکہ مقامی مقررین کی بڑی تعداد نے جلسہ سے خطاب کا شرف حاصل کیا۔ سرد موسم کے باوجود محبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کثیر تعداد شریک جلسہ تھی۔ اس موقع پر بیرونی شعرائے کرام ڈاکٹر منیرالزماں (شکاگو)، قاری تابش ریحان (اعظم گڑھ)، جمشید جوہر (جھارکھنڈ) اور وارث وارثی (میرٹھ) کے علاوہ مقامی شعرائے کرام کو مدعو کیا گیا تھا جنہوں نے مخصوص اسلوب میں نعتیہ کلام پیش کرنے کا شرف حاصل کیا۔ مولانا مفتی محمود نے کہا کہ اتحاد ملت، امت کو ناقابل تسخیر بنادے گی۔ آج امہ کے خلاف ہر طرف سازش رچی جا رہی ہے۔ دونوں جہانوں کی سرخروی کیلئے ضروری ہیکہ اپنی زندگیوں کو اسوہ حسنہ کے مطابق گذاریں۔ جناب مجید اللہ خان فرحت انجینئر ترجمان ایم بی ٹی نے کہا کہ ہم اپنی جانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت پر نچھاور کردیں گے۔ مسلمان جب تک اپنے خلاف سازشوں کو نہیں سمجھیں گے ہم اپنے وجود کا دنیا کو احساس دلانے سے قاصر رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اپنی زندگیوں کو قرآن مجید اور اسوہ حسنہ کے مطابق نہیں ڈھالیں گے ساری دنیا میں مبغوض ہوتے رہیں گے۔ اسلامی تعلیمات سے دوری اور عمل سے عاری زندگی ہی ہماری رسوائی کا موجب ہے۔ انہوں نے کہا کہ خالق کائنات کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ اپنے مقرب بندوں کو ہی زیادہ آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔ آج ہمیں نبی آخری الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ رب العزت کو سب سے زیادہ محبوب اگر کوئی ہے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ہے۔ خالق کائنات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کو بلند کیا اور تمام انبیاء سے یہ عہد لیا کہ اگر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے دور میں مبعوث کئے جائیں تو ان کی رسالت پر ایمان لے آنا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی خدا کی ذات واحدہ میں کسی کو شریک کرنا اور اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے دست سوال دراز کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امت واحدہ آج کے پرفتن دور میں خود کو کفر کے فتہ کے خلاف کمربستہ کرلے ۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں جہاد کی غلط تاویلات پیش کرتے ہوئے اسے بدنام کرنے کی مذموم کوششیں ہو رہی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ فلسفہ جہاد ہی کی وجہ سے دنیا میں انصاف اور امن کے قیام میں مدد مل سکتی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جہاد کی حقیقی توضیح و تشریح دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے اس تعلق سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ساری دنیا میں تبدیلیاں رو نما ہو رہی ہیں جس کے عوام کی زندگیوں پر اثرات مرتب ہونے لازمی ہیں۔

انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ حیدرآباد میں بھی مثبت تبدیلی رونما ہوگی جس کا عوام کی زندگی پر مثبت ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر ملت کو اتحاد کی ضرورت ہے تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ اتحاد کسی سے مرعوب ہوکر نہ کیا جائے بلکہ یہ اصولوں اور اقدار کی بنیاد پر ہو اور مسائل کی بنیاد پر ہو ۔ انہوں نے کہا کہ جب حکمران انصاف پسندی کا راستہ ترک کردیں تب مظلوم خود اپنا حق وصول کرنے انصاف کی راہ تلاش کرنے نکل پڑتا ہے ۔ بابری مسجد کا فیصلہ اس کی مثال ہے ۔ الہ آباد ہائیکورٹ میں زیر دوران مقدمہ ملکیت کا تھا حصہ داری کا نہیں تھا لیکن عدالت نے اس میں حصہ بخرے کردئے اور اس سے انصاف کا خون ہوا ہے ۔ صدر استقبالیہ حضرت مولانا الحاج سید شاہ درویش محی الدین قادری المعروف مرتضی پاشاہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ۔ معتمد استقبالیہ جناب امجد اللہ خان خالد کارپوریٹر اعظم پورہ نے مہمانوں کو متعارف کروایا ۔ جناب سکندرمرزا نے نظامت کے فرائض انجام دئے ۔

TOPPOPULARRECENT