Wednesday , January 17 2018
Home / اضلاع کی خبریں / حضور نگر میں کانگریس کو سخت مقابلہ درپیش

حضور نگر میں کانگریس کو سخت مقابلہ درپیش

مریال گوڑہ 21 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) حلقہ اسمبلی حضور نگر میں کانگریس پارٹی کے امیدوار سابق وزیر این اتم کمار ریڈی کو ٹی آر ایس کی امیدوار شنکراماں سے سخت مقابلہ درپیش ہے ۔ جس کی وجہ حصول تلنگانہ کی خاطر اپنی جان کی قربانی دینے والے سری کانت چاری کی والدہ شنکراماں کو ٹی آر ایس نے حلقہ اسمبلی حضور نگر سے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے ۔

مریال گوڑہ 21 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) حلقہ اسمبلی حضور نگر میں کانگریس پارٹی کے امیدوار سابق وزیر این اتم کمار ریڈی کو ٹی آر ایس کی امیدوار شنکراماں سے سخت مقابلہ درپیش ہے ۔ جس کی وجہ حصول تلنگانہ کی خاطر اپنی جان کی قربانی دینے والے سری کانت چاری کی والدہ شنکراماں کو ٹی آر ایس نے حلقہ اسمبلی حضور نگر سے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے ۔ جس سے حلقہ کے عوام کی ساری ہمدردیاں شنکراماں کے ساتھ ہوگئی ہیں اور شنکراماں کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے جس سے اتم کمار ریڈی اور ان کے حامی سخت پریشان ہیں ۔ اسی طرح اس حلقہ سے YSRCP کے امیدوار سری کانت ریڈی کی جانب سے بھی اتم کمار ریڈی کو سخت مقابلہ درپیش ہے ۔ کانگریس جو تشکیل تلنگانہ کانام ووٹ مانگ رہی ہے ۔ وہیں عوام کی یہ رائے ہے کہ تشکیل تلنگانہ کا سہرا ان سینکڑوں نوجوانوں کو جاتا ہے جنہوں نے ریاست کیلئے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے ۔ اس طرح عوام کا جھکاؤ شنکر اماں کی جانب دکھائی دے رہا ہے ۔ شنکراماں نے اپنے خطابات میں جگہ جگہ اس بات کا تذکرہ کر رہی ہیں کہ ماضی میں اتم کمار ریڈی نے حضور نگر اور کوداڑ میں کئی جلسوں کو مخاطب کیا ۔ لیکن کبھی بھی انہوں نے یہاں موجود شہیدوں کے ارکان خاندان سے ملاقات کی اور نہ ہی کبھی ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ۔ اس کے علاوہ ٹی آر ایس کی مقبولیت میں اس وقت اضافہ ہوا ۔ جب کانگریس کے ایک سینئیر قائد شیوا ریڈی نے کانگریس کو خیرآباد کہتے ہوئے ٹی آر ایس میں شامل ہوگئے جو اتم کمار ریڈی کے حلقہ میں سینئیر جانے جاتے ہیں ۔ اس طرح اتم کمار ریڈی کو ان کے پارٹی چھوڑنے سے سخت نقصان پہونچا ہے ۔ اس طرح اس حلقہ میں اتم کمار ریڈی نے ماضی میں کامیابی کیلئے جو ووٹ حاصل کئے تھے آج وہ ووٹ شنکراماں کے کھاتے میں جمع ہونے کی قیاس آرایاں کی جارہی ہے ۔ اس طرح اس حلقہ میں سہ رخی مقابلہ دیکھنے کو ملے گا ۔ جو بھی کامیاب ہوگا وہ معمولی اکثریت سے کامیاب ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT