Monday , June 18 2018
Home / مذہبی صفحہ / حضور ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنا تقاضۂ ایمان ہے

حضور ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنا تقاضۂ ایمان ہے

سید زبیر ہاشمی ، معلّم جامعہ نظامیہ

سید زبیر ہاشمی ، معلّم جامعہ نظامیہ

انبیاء عظام علیہم الصلوۃ والسلام اخلاق حسنہ کی تعلیم و تلقین کے لئے آئے ہیں، دل و دماغ اور فکر و نظر تبدیل کرنے کے لئے آئے ہیں، اور یہ ممکن بھی نہیں کہ دنیا کے تمام انسانوں کے لئے ایک لباس اور ایک ہی حلیہ قیامت تک کے لئے متعین کردیا جائے۔ انسان کا فطری تقاضا ہے کہ ان امور میں شخصی مزاج، قومی یا علاقائی معاشرت اور تمدن کی رعایت رکھی جائے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام سنتیں ایک ہی درجے کی نہیں ہیں، بعض سنتیں ایسی ہیں، جنکو تشریعی سنت کہا جاتا ہے۔مثال کے طور پر نماز کا طریقہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ قرآن مجید میں نماز کے متعلق صرف اتنا حکم ہے ’’نماز قائم کرو‘‘۔ یہ کہیں نہیں بتایا گیا کہ نماز کس طرح پڑھی جائے، لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ نماز کس طرح پڑھی جائے۔ اس بارے میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے واضح طورپر ارشاد فرمایا کہ ’’نماز اس طرح پڑھو، جس طرح تم مجھے پڑھتا ہوا دیکھتے ہو‘‘۔ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی سنت ہے، اس کی حیثیت قرآن کے ایک مجمل حکم کی تفصیل ہے۔ حکم خداوندی کی تشریح ہے، جس کا تعلق منصب رسالت کے فرائض سے ہے۔ اب اگر کوئی شخص چاہے کہ میں سجدے پہلے کرلوں اور رکوع بعد میں کروں، یا قرآن کے کسی حصے کی تلاوت پہلے کرلوں اور سورۂ فاتحہ بعد میں پڑھ لوں تو یہ بات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی سنت کے خلاف ہونے کی وجہ سے اس کی نماز نہ ہوگی۔

دعاؤں کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے جن الفاظ یا جس زبان میں چاہیں دعائیں کرلیں۔ شارع کا منشاء پورا ہو جائے گا۔ اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ہی الفاظ کے ساتھ دعائیں کریں جو ذکر کی گئی تو یہ مستحب اور مستحسن تو سمجھا جائے گا۔
اب ہم غور و فکر کریں کہ ہمارے ہاں ظاہری اور آسان سنتوں پر اس طرح زور دیا جاتا ہے، جیسے یہی مقصود بعثت ہے۔ اس بارے میں ہماری روش یہ ہو گئی ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی سنتوں کو تو ضرور اہمیت دیتے ہیں، لیکن جو اہم سنتیں ہیں، جن کا تعلق مقاصد بعثت سے ہے، ان کو ہم نظرانداز کردیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک مشہور واقعہ آپ نے بھی سنا ہوگا۔ بعثت سے پہلے کسی خرید و فروخت کے معاملہ میں عبد اللہ بن ابی الحمساء نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ’’آپ ٹھہریں میں ابھی آتا ہوں‘‘ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھہرنے کا وعدہ فرما لیا، مگر وہ شخص بھول گیا۔ اتفاقاً تیسرے روز عبد اللہ بن ابی الحمساء کا گزر اسی مقام سے ہوا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُسی مقام پر تین دن سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی الحمساء سے صرف اتنا ہی کہا ’’تم نے مجھے زحمت دی، میں تین دن سے یہیں ٹھہرا ہوا ہوں‘‘۔ اس واقعہ میں ہمارے سامنے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تین سنتیں آتی ہیں، ایک صبر و تحمل، دوسری ایفائے عہد اور تیسری عفو و درگزر۔ ٹھنڈے دل سے سوچئے! اگر کوئی شخص آپ کو کہیں کھڑا کرکے چلا جائے تو کیا آپ وہیں ٹھہرکر تین دن تک اس کا انتظار کرسکتے ہیں۔ آج ہم ایسے واقعات سیرت کی کتابوں میں پڑھ کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات کے طورپر بیان کرتے ہیں، لیکن اس کو ہم سنت نہیں سمجھتے۔

مذکورہ تحریر آپ کے علم میں اضافہ کیخاطر بطور نمونہ پیش کی گئی ہے، ورنہ پوری سیرت طیبہ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ ایک ایک واقعہ سے کئی کئی سنتیں معلوم ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی حیات طیبہ اور سیرت طیبہ کے لئے ’’سنت‘‘ کا لفظ ہی استعمال فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں، ایک کتاب اللہ دوسری میری سنت‘‘۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق عالیہ کے بارے میں قرآن مجید نے شہادت دی ہے ’’وانک لعلٰی خلق عظیم‘‘۔ محاسن اخلاق میں مداومت عمل، حسن معاملہ، عدل و انصاف، جود و سخا، ایثار، مہمان نوازی، مساوات، تواضع و انکسار، شرم و حیا، عزم و استقلال، رقیق القلب، عیادت و تعزیت، ہمدردی، غم خواری، صبر و شکر، توکل، نظافت پسندی، رفتار و گفتار، صداقت، دیانت، شرافت، شگفتہ مزاجی وغیرہ یہ اور اسی طرح کے بیسیوں عنوانات ہیں، جن کو سیرت نگار ’’اخلاق نبوی‘‘ کے تحت بیان کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں ہیں، جن کی طرف لوگوں کی توجہ ہی مبذول نہیں ہوتی۔ جیسے لباس اور عبادات کی چند سنتوں کو لے کر ہم سمجھ بیٹھے ہیں کہ بس یہ سنتیں ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں سے سیرت کی ساری کتابیں بھری ہوئی ہیں، ان کو ہم عنوان دے کر سیرت النبی اور میلاد النبی کے جلسوں کی رونقیں بڑھا لیتے ہیں۔ حالانکہ بنیادی طورپر یہ سب سنتیں ہی ہیں، اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنا تقاضۂ ایمان ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایسی بھی سنت ہے کہ اگر اس پر عمل کرلیا جائے تو ہماری ساری خرابیوں کی جڑ کٹ جائے گی اور ہم کندن بن کر چمک اٹھیں گے، اور وہ سنت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نجی زندگی کو عوامی زندگی بنا دیا تھا، جس سے آپ کی حیات طیبہ کھلی کتاب بن گئی۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہر تھا، وہی باطن تھا اور جو باطن تھا، وہی ظاہر تھا۔ اگر آج ہم اس سنت پر عمل کرلیں تو ظاہر و باطن کی یکسانیت سے ہماری زندگیاں کتنی پاکیزہ، کتنی روشن اور کتنی مثالی بن جائیں گی۔ مگر ہمارے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ یہ بھی کوئی سنت ہے، جس پر عمل کرنا چاہئے۔
اب جو بات آپ کو بتانا ہے، وہ یہی ہے کہ صرف چند سنتوں پر اکتفاء نہ کریں، بلکہ تمام سنتوں کو اپنائیں اور خاص طورپر ان سنتوں کی روح کو اپنالیں۔ غیر ضروری طورپر صورت اور قالب کے پیچھے نہ لگ جائیں۔
محبت اور اتباع کا آپس میں بڑا عجیب و غریب تعلق ہے۔ اتباع سے محبت بڑھتی ہے اور محبت سے اتباع میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ دونوں ایک دوسرے کی دلیل اور ثبوت ہوتے ہیں۔
دعاء ہے کہ اللہ سبحانہ ٗ وتعالیٰ ہم سب کو اتباع اور محبت مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
[email protected]

TOPPOPULARRECENT