Wednesday , June 20 2018
Home / Top Stories / حضور ﷺ کی شان میں گستاخی پر فرانسیسی اخبار کے دفترپر حملہ، 12 ہلاک

حضور ﷺ کی شان میں گستاخی پر فرانسیسی اخبار کے دفترپر حملہ، 12 ہلاک

پیرس ۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے فرانس کے ایک ہفتہ وار اخبار کے دفاتر پر راکٹ لانچرس اور کلاشنکوف AK-47 سے مسلح بندوق برداروں نے شدید حملہ کرتے ہوئے زبردست تباہی مچائی۔ اس کارروائی میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ مہلوکین میں اخبار کے چیف ایڈیٹر سمیت 4کارٹونسٹ

پیرس ۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے فرانس کے ایک ہفتہ وار اخبار کے دفاتر پر راکٹ لانچرس اور کلاشنکوف AK-47 سے مسلح بندوق برداروں نے شدید حملہ کرتے ہوئے زبردست تباہی مچائی۔ اس کارروائی میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ مہلوکین میں اخبار کے چیف ایڈیٹر سمیت 4کارٹونسٹ شامل ہیں۔ حملہ آوروں کو ’’حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کا انتقام ہے‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے سنا گیا۔ پولیس نے کہا کہ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں میں نعرہ تکبیر ’’اللہ اکبر‘‘ بھی بلند کیا۔ اس ہفتہ وار نے ڈنمارک کے اخبار کی جانب سے شائع کردہ گستاخانہ کارٹونس کی دوبارہ اشاعت عمل میں لائی تھی۔ حملہ آور اپنی کارروائی کے بعد مسروقہ کار میں فرار ہوگئے۔

پیرس میں اسلام دشمن ہفتہ وار اخبار کے دفاتر پر یہ حملے دو نقاب پوش افراد نے کئے ہیں جس میں 12 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے ہیں۔ حملہ آوروں کے ہاتھوں میں کلاشنکوف اور راکٹ لانچرس تھے۔ دفاتر پر حملے کرتے ہوئے عملہ کو نشانہ بنایا گیا اور یہاں موجود پولیس ملازمین (آفیسرس) پر فائرنگ کی گئی۔ مہلوکین میں صحافی، انتظامی عملہ اور پولیس عہدیدار شامل ہیں۔ حملہ آوروں کے ساتھ جھڑپ کرنے والے آفیسرس نے بتایا کہ حملہ آور اپنی مسروقہ کار میں تیزی سے فرار ہوگئے۔ یہ لوگ 15 ویں ارنڈاسمنٹ آفس سے مشرقی پیرس کی سمت چلے گئے۔

حملہ کرنے والوں نے AK-47 کے ساتھ ساتھ راکٹ لانچرس سے گرینائیڈ بھی داغے۔ مقام واردات پر دھماکوں کی شدید آوازیں سنی گئیں۔ صدر فرانس فرانکوئی اولاند نے فوری مقام واردات پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا اور کہا کہ ان کے ملک میں اس صدی کے حالیہ برسوں میں یہ بدترین دہشت گردانہ ظلم ہے۔ یہ آزادی صحافت پر غیرمنصفانہ حملہ ہے۔صدر فرانس اولاند نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا ہے۔اولاند نے ’’قومی اتحاد ‘‘ کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں کئی دہشت گردانہ حملے ناکام بنائے گئے تھے۔ عینی شاہدین نے کہا کہ جب پولیس یہاں پہنچی تو فائرنگ میں شدت دیکھی گئی۔

حکام نے بتایا کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مشہور مزاحیہ رسالے کے دفتر میں راکٹ لانچرس کے ساتھ اخبار کے دفتر میں گھس پڑے۔ اس اخبار نے حال ہی میں ابو بغدادی کے کارٹون بھی شائع کئے تھے جن کو اخبار کے سرکاری ٹوئیٹراکاونٹ پر پیش کیا گیا تھا۔ فائرنگ کے بعد اخبار کے ٹوئیٹر صفحہ پر کئی تبصرے آرہے ہیں۔ اس اخبار کے دفتر کو 2011ء میں پٹرول حملے کے ذریعہ آگ لگادی گئی تھی۔ اس اخبار نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کارٹون شائع کئے تھے۔ ایڈیٹر انچیف میگزین اسٹیفن کاربونیئر نے کہا کہ اسلام کو آزادی صحافت پر حملہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اس اخبار نے مسلسل کارٹون کی اشاعت عمل میں لاتے ہوئے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی۔ اس نے باقاعدہ اسلام کی توہین کرنے والے کارٹونسٹوںکی حوصلہ افزائی کی اور اپنے دفتر پر اس سوچ و فکر کے حامل کارٹونسٹ کی خدمات حاصل کی ہیں۔ ماضی میں بھی یہ اخبار نے مختلف سیاسی اور حالات حاضرہ کی خبروں پر اپنے طنزیہ تبصرے کئے ہیں، جس کی وجہ سے تنازعے پیدا ہوئے تھے۔ اس مرتبہ ہفتہ وار اخبار کی جانب سے ’’شارلی ایبڈو‘‘ کے دفتر پر کلاشنکوف کی مدد سے فائرنگ کی گئی۔ مفرور حملہ آوروں کی پولیس نے شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں تلاش کیلئے بہت بڑی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ہفتہ وار اخبار کے دفتر پر اسٹاف کی جانب سے ہفتہ واری اجلاس جاری تھا۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہیکہ اس حملہ میں 3 پولیس عہدیدار سمیت ایک صحافی زخمی ہوا ہے۔ یہ قتل عام ہوا۔ اس دفتر کے قریب واقع ایک عمارت میں رہنے والے شخص فلورنس پاول نے بتایا کہ ’’میں نے دو افراد کو بڑے ہتھیاروں کے ساتھ اندر جاتے دیکھا۔ یہ بندوقیں کلاشنکوف دکھائی دے رہی تھیں۔ ہمارے آفس کے باہر ان افراد کو جاتے ہوئے دیکھنے کے بعد فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ دو نوجوان عمارت سے باہر آتے ہوئے بھی ہر ایک سمت میں فائرنگ کررہے تھے۔ ہم زمین پرلیٹ گئے۔ ہم نہایت ہی خوفزدہ تھے۔ ہم کو اپنی زندگیوں کی فکر تھی۔ ان لوگوں نے نہ صرف شارلی ایبڈو کے دفاتر کے اندر فائرنگ کی بلکہ باہر اور سڑکوں پر بھی فائرنگ کی‘‘۔ فرانسیسی دارالحکومت میں اس حملہ کے بعد اعظم ترین چوکسی اختیار کرلی گئی ہے۔ ٹیلیویژن فوٹیج میں پولیس کی بھاری جمعیت اور زخمیوں کی منتقلی دیکھی گئی۔

پیرس میں حملہ: عالمی قائدین ،مسلم تنظیموں کا اظہارمذمت
واشنگٹن ؍ پیرس ۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر بارک اوباما نے آج عالمی قائدین کی قیادت کی جنہوں نے فرانس میں پیش آئے ہولناک دہشت گردانہ حملہ کی مذمت کی۔ امریکی صدر نے اپنے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ان دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے میں مدد کیلئے درکار کوئی بھی تعاون فراہم کریں۔ اوباما نے ایک بیان میں کہا، ’’میں پیرس میں شارلی ایبڈو میگزین کے دفاتر پر بھیانک فائرنگ کی پرزور مذمت کرتا ہوں جس میں بتایا جاتا ہیکہ 12 افراد ہلاک ہوگئے۔ ہماری ہمدردیاں اور
دعائیں اس مشکل وقت میں حملہ کے متاثرین اور فرانس کی عوام کے ساتھ ہیں‘‘۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، وزیراعظم نریندر مودی و دیگر عالمی قائدین کے ساتھ ساتھ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے بھی پیرس کے میڈیا آفس پر حملہ کی مذمت کی ہے۔ عرب لیگ اور اعلیٰ مسلم ادارہ کے ساتھ ساتھ خود فرانس کے مسلم رہنماؤں نے بھی ’’بے رحمانہ‘‘ حملے کی مذمت کی ہے۔ قاہرہ کی اطلاع کے بموجب عرب لیگ اور جامعہ ازہر دونوں نے پیرس کے اخبار کے خلاف آج کے مہلک حملہ کی مذمت کی۔ عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی نے اس حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ الازہر نے بھی مذمتی ردعمل میں کہا کہ یہ مجرمانہ حملہ ہے جبکہ اسلام کسی بھی قسم کے تشدد کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ برطانوی لیڈر کیمرون نے دارالعوام نے کہا کہ پیرس میں قاتلین ذہنی بیمار لوگ ہیں۔ ہم دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اور آزادی صحافت کے دفاع میں فرانسیسی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یوروپی یونین کے صدر ژان کلودیونکر نے کہا کہ انہیں ظالمانہ اور غیرانسانی حرکت پر صدمہ ہوا ہے۔وزیراطلاعات و نشریات ارون جیٹلی نے بھی مذمتی ردعمل میں کہا کہ یہ ساری دنیا کیلئے چوکس ہوجانے کا وقت ہیکہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہوجائیں۔ انہوں نے پیرس کے
واقعہ کو انسانیت پر بدنما حملہ قرار دیا۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ پیر س میں میڈیا پر بزدلانہ اور بھیانک حملہ کیا گیا ہے۔ فرانس کی مسلم قیادت نے دہشت گردانہ کارروائی کو جہالت اور آزادی صحافت اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔ فرنچ مسلم کونسل نے کہا کہ یہ حرکت شدید قابل مذمت ہے، جس کی سرکوبی ہونا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT