Friday , November 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / حـــلال ذبیحہ

حـــلال ذبیحہ

 

ذی روح مخلوقات غذا کی محتاج ہیں،ان میں انسان اشرف المخلوقات ہیں اللہ سبحانہ نے ہر ایک کی روزی کا انتظام فرمایاہے،انسان کے علاوہ کچھ جاندار وہ ہیں جوگھاس پھوس پر گزاراکرلیتے ہیں ،پتے پودے کو غذا بنالیتے ہیں ،کیڑے مکوڑے ،دانہ دنکا کھاکر اپنی بھوک مٹاتے ہیں ۔اورکچھ جاندارصرف گوشت ہی پر انحصار کرتے ہیں اسکے لئے وہ جانوروں کا شکار کرتے ہیں ،نباتات سے ان کو کوئی رغبت نہیں۔ اللہ سبحانہ نے انسانوں کی غذامیں سبزیاں بھی رکھی ہیں ،پھل پھلاربھی،جائز وحلال پرندوں اور جانوروں کا گوشت بھی اوربعض جانوروں کا دودھ بھی ۔ساری مخلوقات انسانوں کیلئے مسخر کی گئی ہیں ان سے وہ دن رات فائد ہ اٹھاتے ہیں، اللہ سبحانہ کا بے پناہ فضل واحسان ہے کہ اس نے انسانوں کی غذائی ضرورتوں کی تکمیل کا بہتر اوراعلی نظام بنایا ہے ، یوں تو انگنت پرندے اورجانورہیں ان میں زیادہ تعداد ان کی ہے جن کا گوشت حرام اورکچھ وہ ہیں جنکا گوشت حلال ہے۔’’تمہارے لئے مویشی چوپائے حلال کئے گئے ہیں بجزانکے جن کے نام پڑھ کر سنا دیئے جائیں گے ‘‘(المائدہ:۱)اس آیت پاک میں ’’بہیمۃ الانعام‘‘جو نر اورمادہ پر مشتمل ہیں جنکی تفصیل سورۃ الانعام ۱۴۳میں دیکھی جا سکتی ہے۔انکے علاوہ کچھ جانوروہ ہیں جو وحشی کہلاتے ہیں جنکا عام طورپر شکارکیاجاتاہے جیسے ہرن ،نیل گائے وغیرہ انکا گوشت بھی حلال ہے،وہ جانورجو ذوناب ہیں یعنی جو اپنی کچلی کے دانت سے اپنا شکارپکڑتے اورچیرتے ہیں وہ حرام ہیں جیسے شیر ،چیتا ،بھیڑیا ،کتا وغیرہ۔کچھ پر ندے بھی حلال ہیں جو شکارکئے جاتے ہیں ،ان میں بہت سے پرندے بھی حرام ہیں ،حدیث پاک میں انکی حرمت کی نشانی یہ بتائی گئی ہے کہ وہ ذومخلب ہوں یعنی ایسے پرندے جو اپنے پنجے سے اپنا شکارجھپٹے ہوئے پکڑتے ہیںجیسے شکرہ،باز،شاہین،عقاب وغیرہ۔حدیث پاک کی روسے جانوروں میں ذوناب اورپرندوں میں ذو مخلب حرام ہیں ،انکے علاوہ احادیث پاک میں حرام جانورں کی مزید تفصیل بیان ہوئی ہے،قرآن پاک میں اللہ سبحانہ وتعالی نے ارشاد فرمایا’’تم پر حرام کئے گئے ہیں مردارجانور،بہتا خون ،خنزیرکا گوشت اورہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوادوسروں کا نام پکارا گیا ہو‘‘ (البقرۃ:۱۷۳) البتہ دومردارجانورمچھلی اورٹڈی’’ میتہ ‘‘کے حکم سے مستثنی ہیں یعنی ذبح شرعی کے بغیر انکا کھانا حلال ہے۔دم مسفوح حرام ہے ،البتہ حدیث پاک کی روسے کلیجی اورتلی کھانا حلال ہے، مأکول اللحم جانوروں کے سات اجزا کے استعمال سے منع کیا گیا ہے : مذکرومونث کی اگلی وپچھلی(قبل ودبر) شرمگاہیں، خصیتین،پتہّ،بہتاخون،مثانہ،غدہ(مغزحرام)فتاوی ہندیۃ ۵؍۲۸۹۔الغرض حلال پرندوں اورجانوروں کا گوشت استعمال کیا جاسکتاہے حرام پرندوں اورجانوروں کا نہیں، اسکی حلت کے لئے مزیدایک اورشر ط عائد کی گئی ہے وہ ہے ذکات شرعی ،ذکات شرعی سے مرادیہ ہے کہ بوقت ذبح اللہ کا نام لیا جائے اورجس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہووہ حرام ہے،اس آیت پاک میں کی گئی صراحت کے مطابق ہر وہ جانورجو حلال ہے لیکن جو ذبح شرعی کے بغیر طبعی طورپر یا کسی حادثہ سے فوت ہوگیا ہویا شریعت کی ہدایت کے خلاف ذبح کیا گیا ہو جیسے زدوکوب سے کوئی جانورہلاک ہوگیا ہویا جھٹکے سے گردن علاحدہ کردی گئی ہوایسے تمام جانوروںکا گوشت حرام ہے ۔مختصریہ کہ وہ جانورجو مأکول اللحم ہیں یعنی جنکا گوشت کھانا شریعت مطہرہ نے حلال کیا ہے اسکی حلت کیلئے بوقت ذبح اس پر اللہ کا نام لیا جانا ضروری ہے ’’ایسے جانوروں کو مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو‘‘(الانعام۱۲۱)اللہ سبحانہ نے حلال جانوروں سے استفادہ کی یہ جو صورت انسانوں کیلئے رکھی ہے اسکا شکرواحسان متقاضی ہے کہ بوقت ذبح اللہ سبحانہ وتعالی کا نام لیا جائے اوراسکی بڑائی بیان کی جائے یعنی بسم اللہ اکبر کہے ،تسیمہ یعنی ’’بسم اللہ‘‘ کا کہنا تو شرط ہے اسکے ساتھ تکبیر یعنی ’’اللہ اکبر‘‘کہہ لیا جائے تو مستحب ہے(الدرالمختار کتاب الذبائح۹؍۴۳۱)حلت ذبیحہ کیلئے بنیادی شروط میں سے ایک شرط تسمیہ ہے۔قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اسکا ذکر ملتاہے(المائدہ:۴؍الانعام:۱۱۸؍۱۱۹؍۱۲۱؍۱۳۸،الحج :۲۸؍۳۴) ’’متروک التسمیۃ نسیا نا ‘‘ یعنی بوقت ذبح مسلمان ،عاقل ممیزذابح اللہ کا نام لینا بھول جائے تو وہ ذبح حلال ہے ،عمدا اگرتسمیہ ترک کیا جائے تو وہ حرام ہے اسکا کھانا شرعا جائز نہیں’’وان ترک الذابح التسیمۃ عمدا،فالذبحیۃ میتۃ لا تو کل، وان ترکہا ناسیا اکلت‘‘ (۴۹۴ وبہا مشہ علی مختصر القدوری ’’الترجیح والتصیح علی القدوری‘‘)اگرکئی جانورکا ذبح مقصود ہو تو ہر جانورپر تسمیہ یعنی اللہ کانام لینا ضروری ہے،اگرکسی نے ایک جانورتسمیہ پڑھ کر ذبح کیا اورمعا(بفور) دوسرا جانوربغیر تسیمہ کے متصلا ذبح کرے تب بھی دوسرا جانورحرام ہوگا (البحرالرائق ۸؍۳۰۷) الغرض ذبح کا عمل متعددیعنی باربار ہو تو تسمیہ بھی متعدمرتبہ پڑھنا شرعا ضروری ہے (درالمختار۵؍۲۱۳)شرعی طورپرہرذبیحہ کاتسمیہ یعنی اللہ کا نام لیکر ذبح کیاجانا شرط ہے۔ ’’وما اکل السبع الا ما ذکیتم‘‘اس آیت پاک میں ’’ذکیتم ‘‘سے مراد ذکات شرعی ہے۔یعنی بوقت ذبح اللہ سبحانہ کا نام لیا جائے اورحسب شرائط ذبح ۔عمل ذبح اختیار کیا جائے ۔ذکات کا لفظ ذبح اورنحردونوں کو شامل ہے’’الذبح قطع الاوداج وذلک للبقروالغنم ونحوہما وعن اللیث قطع الحلقوم من باطن عند النصیل‘‘ (المغرب:۲۲۵) الذبح قطع العروق من اعلی العنق تحت اللحیین (البحرالرائق۸؍۱۷۱) نحرکے لغوی معنی اونٹ کے سینے کے بالائی حصہ میں نیزہ مارنا ہے ’’النحرالطعن فی نحرالبعیر‘‘(المغرب :۲۲۵)ذبح کے لغوی معنی گلا کاٹنے وغیرہ کے ہیں ،اس سے مراد رگوں کا کاٹنا ہے اوریہ بیل بکری وغیرہ جیسے جانوروں کے ذبح کیلئے ہے، یہ بھی ضروری ہے کہ وہ رگیں ٹھڈی کے نیچے گردن اورسرکے جو ڑکے پاس کی ہوں یعنی گردن کے اوپر والے اورجبڑوں کے نیچے والے حصے سے رگوں کا کاٹنا ذبح کہلاتا ہے۔ذبح میں چاررگوں کے کاٹنے کا اعتبارہے :’’نرخرہ‘‘ جس سے سانس کی آمدورفت جاری رہتی ہے’’مری‘‘ غذاکی نالی ہے جس سے غذا پیٹ میں پہنچتی ہے۔ ’’دونوں شہ رگیں‘‘جن میں دوران خون رہتا ہے اوریہ دونوں رگیں ’’نرخرہ اورمری‘‘کے دائیں بائیں ہوتی ہیں،کم ازکم نرخرہ ومری کے ساتھ ایک شہ رگ کا کٹ جانا بھی حلت ذبیحہ کے لئے کافی ہوسکتا ہے ’’والذبح فی الحلق واللبۃ،والعروق التی تقطع فی الذکاۃ اربعۃ:الحلقوم ،والمریء، والودجان فاذاقطعہا حل الاکل، وان قطع اکثرہا فکذلک عندابی حنیفۃ ،قال ابوسف ومحمد : لا بد من قطع الحلقوم والمری واحدالودجین ‘‘ (الترجیح والتصحیح علی القدوری:۴۹۵)شرائط ذبح کے مطابق جو جانورذبح نہ کیا گیا ہووہ مردارجانورہے’’اصل بات یہ ہے کہ دم مسفوح(بہتا خون)نجس ہونے کی وجہ حرام ہے ‘‘ اسکی حرمت پر نص وارد ہے،ذبح شرعی کے بغیر نجس خون گوشت سے الگ نہیں ہوتا اسلئے ذکات شرعی ضروری ہے تاکہ نجس خون رگوں کے ذریعہ باہر آجائے اورگوشت کی طہارت وپاکی ثابت ہوجائے (عنایہ علی ہامش فتح القدیر۸؍۴۰۶)ذکات شرعی کی صحت کیلئے یہ بھی شرط ہے کہ ذابح مسلمان ہو اورعاقل ممیز ہو(بدائع الصنائع ۵؍۴۵)یعنی شرعی طریقہ ذبح کا فہم رکھتاہو ،نابالغ ہویا خاتون ذبح کرے تب بھی کوئی حرج نہیں ،اہل کتاب کے ذبیحہ کی حلت کا ثبوت گوکہ نص قطعی سے ثابت ہے (المائدۃ:۵)تاہم محقق علماء کی تحقیق یہ ہے کہ موجودہ دورکے اکثر اہل کتاب دین بیزار،دہریت والحاد کا شکارہیں اسلئے انکے ذبیحہ کے استعمال سے احتیاط ہی بہتر مانی گئی ہے(مجمع الانہر)بوقت ذبح شریعت مطہرہ نے چند آداب کے ملحوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے ،بوقت ذبح اس بات کا خاص اہتمام کیاجائے کہ جانورکے سامنے چاقو یا چھری تیز نہ کی جائے بلکہ پہلے ہی سے تیز کرلی گئی ہو ، حلقوم کو اچھی طرح کاٹ دیا جائے جس سے خون اچھی طرح بہہ جائے، ایک جانورکے سامنے دوسرے جانورکو ذبح نہ کیاجائے،ذبح کے بعد اچھی طرح جسم کو ٹھنڈا ہونے دیا جائے فوری جسم کی چمڑی علاحدہ نہ کی جائے ، الغرض ذبح کاعمل ایسا ہوکہ جانورکو کم سے کم تکلیف ہو (کنز العمال ۶؍ ۲۶۹)درج بالا سطورمیں ذبح اختیاری کی وضاحت کی گئی ہے ،ذبح اضطراری جسکا تعلق شکارسے ہے عدم گنجائش کی وجہ اسکی صراحت نہیں کی گئی۔حیدرآباد فرخندہ بنیادجو شروع ہی سے اسلامی تہذیب کا گہوارہ رہاہے اوریہاں کے حکمران خدمت خلق کے جذبہ سے سرشاررہے ہیں خصوصا آصف سابع مرحوم کی علمی ورفاہی خدمات دکن کی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔حضرت عارف باللہ شیخ الاسلام علامہ انواراللہ فاروقی رحمہ اللہ کی سرپرستی کی وجہ بڑی اصلاحات ہوئی ہیں،شرعی احکام کی پاسداری کا ہر شعبہ میں اہتمام رہا ہے ،جن میں ایک اہم اصلاحی کام ملا ودیگر خدمات شرعیہ کے مناصب پر فائز اصحاب کی تعلیم وتربیت کا خصوصی اہتمام رہا ہے جسکی وجہ دکن کے سارے علاقوں میں حلال ذبیحہ کا یقینی نظم قائم رہا جسکا سلسلہ آج تک جاری ہے،تاہم اس وقت ذرائع ابلاغ سے ایک بہت ہی روح فرسا خبرعام ہوگئی ہے وہ یہ کہ شادی ولیمہ کی تقاریب کی کثرت کی وجہ ’’برائلر چکن‘‘کی فروخت لاکھوں ٹن میں ہورہی ہے ،تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ پولٹری کی تجارت کرنے والے طلب میں اضافہ کے وجہ بوقت ذبح شرعی ذکات کا اہتمام نہیں کر پا رہے ہیں،خاص طورپر اللہ کا نام لئے بغیر ذبح کررہے ہیں ۔ایک تاجر کا بیان ہے تھوڑے سے وقت میں کم وبیش دوہزارمرغ ذبح کرنا ہوتا ہے اسلئے صرف پہلی مرتبہ بسم اللہ کہہ کرساری مرغیوں کو یکے بعد دیگرے ذبح کیا جارہاہے ۔واٹس اپ پر ایک ایسا منظر دکھایا گیا ہے کہ جس میں ایک شخص بڑی تیزی کے ساتھ مرغیوں کی گردن پر شدید ضرب کے ساتھ کتہّ(بڑے چاقو) سے گردن علحدہ کر رہاہے ،اس تناظر میں حلال ذبیحہ سے متعلق سطوربالا میں ضروری شرعی احکام ’’حلال ذبیحہ ‘‘کے عنوان سے سپرد قلم کئے گئے ہیں،اس جانب خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔’’برائلر‘‘سے متعلق یہ خبر بھی گشت کر رہی ہے کہ پہلے ۳۵ سے ۴۵ دن تک غذا (فیڈ)دیجاکر بتدریج اسکا وزن بڑھایا جاتا تھا جس سے اسکے مضراثرات کے امکانات بہت کم تھے لیکن اب طلب ورسدکے فرق کو کم کرنے کیلئے ۲۰ تا ۲۴ دن ہی میں اسکو فروخت کے لائق بنا یا جارہاہے یہ امر بھی صحت کے مد نظر قابل اصلاح ہے۔ حرام سے اجتناب تو ہر ایک مسلمانوں کیلئے لازم ہے ،پولٹری صنعت کے اصلاح کے ساتھ شرعی ذبیحہ کو یقینی بنا نے کیلئے علماء ،مشائخ اورزعماء ملت کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT