Tuesday , June 19 2018
Home / سیاسیات / حفاظتی انتظامات کے بہانے سونیا گاندھی نے خواتین کو گمراہ کیا

حفاظتی انتظامات کے بہانے سونیا گاندھی نے خواتین کو گمراہ کیا

چندراپور 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) 16 ڈسمبر کے اجتماعی عصمت ریزی اور بدنام زمانہ تنور قتل کیس کی یاد دہانی کرتے ہوئے نریندر مودی نے آج خواتین کے تحفظ کے مسئلہ پر سونیا گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ کانگریس کے دور حکومت میں خواتین تک محفوظ نہیں ہیں۔ 10 میں سے 7 ریاستوں میں اعداد و شمار کے بموجب جو قومی جرائم ریکارڈ بیورو سے حاص

چندراپور 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) 16 ڈسمبر کے اجتماعی عصمت ریزی اور بدنام زمانہ تنور قتل کیس کی یاد دہانی کرتے ہوئے نریندر مودی نے آج خواتین کے تحفظ کے مسئلہ پر سونیا گاندھی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ کانگریس کے دور حکومت میں خواتین تک محفوظ نہیں ہیں۔ 10 میں سے 7 ریاستوں میں اعداد و شمار کے بموجب جو قومی جرائم ریکارڈ بیورو سے حاصل کئے گئے ہیں، جہاں کانگریس اتحاد برسر اقتدار ہے، خواتین سب سے زیادہ مصائب کی شکار ہیں۔ ایک ریاست بھی ایسی نہیں ہے جہاں بی جے پی یا اُس کی زیرقیادت مخلوط حکومت قائم ہو، جس کی شناخت بیورو کی جانب سے خواتین پر مظالم کے سلسلہ میں کی گئی ہو۔ نریندر مودی ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ اُنھوں نے کہا ’’میڈم سونیا جی آپ بھی خاتون ہیں لیکن آپ نے اِس ملک کی خواتین کو گمراہ کیا ہے، ملک جاننا چاہتا ہے کہ آپ کی حکومت میں خواتین پر مظالم کیوں ڈھائے گئے؟‘‘۔ ہندوستان کی خواتین کانگریس کے ہاتھوں میں محفوظ نہیں رہ سکتیں چاہے کانگریس پارٹی کی صدر خاتون ہی کیوں نہ ہو۔ نریندر مودی نے لاتور کانگریس کارکن و ایڈوکیٹ کلپنا گری کے گزشتہ ماہ قتل کا حوالہ دیا۔

اُنھوں نے کہاکہ اخبارات میں وہ پڑھ چکے ہیں کہ ایک خاتون یوتھ کانگریس قائد لاپتہ ہوگئی تھیں، اُس کے بعد اُن کی نعش دستیاب ہوئی۔ کانگریس پارٹی کے یوتھ قائدین اِس سلسلہ میں گرفتار کرلئے گئے۔ اگر خواتین کانگریس میں محفوظ نہیں ہیں تو ملک کی کوئی بھی خاتون کس طرح محفوظ رہے گی۔ مودی نے کہاکہ کانگریس حکومت نربھئے فنڈ کیلئے مختص کی ہوئی رقم استعمال کرنے سے بھی قاصر رہی۔ ایک بے قصور لڑکی کی دہلی میں اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کیا گیا۔ ہندوستان کو عالمی تحقیر کا نشانہ بننا پڑا، جس کی وجہ یہ واقعہ تھا۔ مودی نے کہاکہ مرکزی بجٹ میں نربھئے فنڈ کے لئے ایک ہزار کروڑ روپئے فراہم کئے لیکن کانگریس زیرقیادت مخلوط حکومت نے اِس فنڈ کا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا۔ نینی ساہنی تنور قتل مقدمہ کا جو 1995 ء کا واقعہ ہے، حوالہ دیتے ہوئے مودی نے کہاکہ تنور سے لاتور تک کوئی بھی خاتون محفوظ نہیں ہے۔ اُنھوں نے مبینہ این ایس یو آئی کارکن غنڈوں کا جن کا تعلق ناگپور سے ہے، حوالہ دیا، جنھوں نے 1984 ء میں قومی کنونشن کے دوران ناگپور ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر خوانچہ فروشوں کو لوٹ لیا تھا۔ کاشتکار خودکشی کررہے ہیں لیکن حکومت بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ مودی نے کہاکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اِن کی پرواہ نہیں ہے۔ کاشتکار جو کچھ اُگاتے ہیں اُس کے خریدار بھی ہونے چاہئے اور ضروری ہے کہ اچھی قیمت پر غذائی اجناس خریدی جائیں۔

مودی نے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ماؤسٹوں سے اپیل کی کہ وہ خونریزی اور بے قصور عوام کا گڑھ چرولی میں قتل عام بند کردیں۔ ضلع چندراپور کا یہ علاقہ نکسلائٹس کی سرگرمیوں کا مستحکم گڑھ ہے۔ اُنھوں نے نکسلائٹس سے اپیل کی کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور اصل دھارے میں شامل ہوجائیں۔بے قصور عوام کے خون سے زمین کو سرخ نہ کردیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم سب مل کر فصلوں سے زمین کو ہری کرسکتے ہیں۔ بی جے پی کے سینئر قائد نے کانگریس پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ گڑھ چرولی کے بے قصور عوام کی زندگیاں خطرہ میں پڑ گئی ہیں۔ صرف اِس وجہ سے کہ کانگریس ووٹ بینک سیاست کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT