Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / حفاظتی و صیانتی انتظامات کے تحت سی سی کیمروں کی تنصیب پر عمل ندارد

حفاظتی و صیانتی انتظامات کے تحت سی سی کیمروں کی تنصیب پر عمل ندارد

پولیس اور بلدیہ کے عہدیداران جواب دینے سے قاصر ، پراجکٹ پر عمل کے لیے مختلف محکمہ جات میں اختلاف

پولیس اور بلدیہ کے عہدیداران جواب دینے سے قاصر ، پراجکٹ پر عمل کے لیے مختلف محکمہ جات میں اختلاف
حیدرآباد ۔ 2 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد میں حفاظتی و صیانتی انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ پولیس اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے دونوں شہروں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے اعلانات کئے گئے تھے لیکن ان پر عمل آوری کے متعلق تاحال کوئی جواب دونوں محکموں کے عہدیداروں کے پاس نہیں ہے بلکہ ان اعلانات پر عمل آوری کے متعلق پوچھنے پر کوئی جواب دینے بھی تیار نہیں ہے ۔ چونکہ اس پراجکٹ کے متعلق اب تک بھی کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ۔ ماہ ستمبر میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے بلدی حدود میں 50 ہزار سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا اعلان کیا گیا تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اندرون 100 یوم اس پراجکٹ کو مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ ستمبر 2014 میں کئے گئے اس اعلان پر عمل آوری کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ بلدی عہدیدار اس پراجکٹ کو فوری طور پر محکمہ پولیس کے حوالے کرنے کے حق میں ہیں جب کہ ستمبر میں جب اس پراجکٹ کا اعلان کیا گیا تھا اس وقت مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے کہا تھا کہ بلدیہ کی جانب سے کیمروں کی تنصیب عمل میں لائی جائے گی اور مختلف محکمہ جات بالخصوص پولیس ، ٹریفک پولیس ، صحت ، محکمہ مال ، ٹرانسکو ، جینکو ، اور سیول سپلائز کے علاوہ دیگر محکمہ جات جنہیں ان سی سی ٹی وی فوٹیج کی ضرورت ہوگی وہ جی ایچ ایم سی سے حاصل کریں گے ۔ بلدیہ کے منصوبہ کے مطابق ان محکمہ جات سے کرایہ کی وصولی کے ذریعہ انہیں درکار کیمروں کے فوٹیج فراہم کرنا تھا ۔ اس اعلان کے وقت بلدی دفتر میں مختلف محکمہ جات کے عہدیداران بھی موجود تھے ۔ اور اس منصوبہ کی ستائش کی تھی لیکن ماہ ستمبر سے دسمبر تک بھی اس پراجکٹ میں کسی قسم کی پیشرفت نہ ہونے پر محکمہ پولیس کی جانب سے حیدرآباد و سکندرآباد میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا اعلان کیا گیا اور سٹی پولیس نے شہریوں کے حفاظت و صیانتی امور کو بہتر بنانے کے لیے شہر میں 10 ہزار سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا اعلان کیا اور کہا گیا کہ دونوں شہروں کے 50 تا 90 فیصد علاقوں کو کیمروں سے مربوط کرتے ہوئے ایک کنٹرول روم تیار کیا جائے گا جہاں سے تمام علاقوں کی سرگرمیوں پر خصوصی نظر رکھی جاسکے ۔ ذرائع کے مطابق اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے بجٹ کی اجرائی پر بھی غور کرتے ہوئے 600 کروڑ روپئے مختص کئے جاچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں شہروں میں فی الحال حیدرآبادو سائبر آباد پولیس کمشنریٹ حدود میں تقریبا 1200 تا 1400 سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں جن کے ذریعہ پولیس سڑکوں اور مصروف مارکٹس پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ چند ماہ قبل پولیس کی جانب سے مصروف ترین مارکٹ میں موجود تجارتی اداروں کے مالکین کو سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے لیے نوٹس جاری کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں ۔ شہر حیدرآباد کے حفاظت اور صیانتی امور کو عصری ٹیکنیک سے آراستہ کرنے کے اعلانات پر موثر عمل آوری کی صورت میں شہر کی ترقی میں اہم پیشرفت ہوسکتی ہے اور ان اقدامات سے شہر میں سیاحوں کی آمد کے علاوہ شہریوں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT