Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / حقیقی برہان وانی کون تھا؟ شیر قالین یا ہندوستانی ایجنٹ

حقیقی برہان وانی کون تھا؟ شیر قالین یا ہندوستانی ایجنٹ

موت سے قبل ہندوستانی ایجنٹ اور شیر قالین کہلانے والا وانی ہیرو بن گیا

سرینگر ۔ 12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر میں ہر ہلاکت میٹرکس کی توسیع ہے۔ یہ پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے اور خواب آور ہے لیکن بعض باتیں اپنی حقیقت بہت جلد ظاہر کردیتی۔ حزب المجاہدین کا کمانڈر برہان مظفر وانی سماجی ذرائع ابلاغ کے شہرت رکھتا ہے۔ کشمیر کے نشہ کے عادی کمسن افراد میں بھی مقبول ہے لیکن اگر آپ کسی عام راہگیر سے چند ماہ قبل ہی سوال کرتے کہ وانی کون تھا تو غالباً اس کا جواب ہوتا ’’ایک ہندوستانی ایجنٹ‘‘ اگر آپ فوج سے یہی سوال کرتے تو اس کا غالباً جواب ہوتا کہ ذرائع ابلاغ نے ایک ’’شیرقالین‘‘ تخلیق کیا ہے۔ گذشتہ ہفتہ جب وانی کی ہلاکت کی خبر پھیلی تو بیان کرنے والوں کا موقف اچانک برعکس ہوگیا۔ مملکت ہند نے اسے ایک کامیاب انسداد دہشت گردی کارروائی قرار دیا اور عام کشمیری وانی کو جے کے ایل ایف کے اشفاق مجید وانی کے مماثل ’’ایک افسانوی شہید‘‘ قرار دینے لگے جو 1990 کی کشمیر عسکریت پسندی کے دوران ہلاک ہوا تھا۔ اس طرح کا رویہ غالباً تمام خانہ جنگی کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ آزادی کی تلاش میں اندرون ملک تشدد ہوتا ہے اور عوام کے ساتھ ہندوستان اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کیلئے کھیل رچاتے ہیں۔ کشمیر میں اوہام کیلئے زرخیز زمین فراہم کرتے ہیں۔

1970 کی دہائی میں عسکریت پسند تحریک کا آغاز کرنے والا مقبول بھٹ مثال کے طور پر پاکستان کی جیل میں ہندوستانی جاسوس ہونے کے شبہ میں قید کردیا گیا۔ بعدازاں اسے ہندوستان میں موت کی سزاء دی گئی۔ 25 سیاسی سرگرمیوں کا آغاز نیشنل کانفرنس کے سربراہ شیخ عبداللہ کے احیاء کے ذریعہ ہوا تھا حالانکہ نیشنل کانفرنس ہندوستانی کی حامی تھی لیکن بٹ خط قبضہ پار کرکے 1966 میں کشمیر واپس ہوگیا۔ یہاں اسے گرفتار کرلیا گیا۔ وہ سرینگر کے قیدخانے سے فرار ہوگیا۔ دوبارہ خط قبضہ پار کیا لیکن اسے مایوسی ہوئی کیونکہ پاکستانی عہدیداروں نے اس پر ہندوستان کا ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کیا۔ بعدازاں اسے پاکستان میں رہا کردیا گیا لیکن کشمیر میں کئی افراد کو یقین تھا کہ وہ ڈبل ایجنٹ ہے۔ سرینگر میں ایک تجربہ کار سیاستداں نے کہا کہ لیکن افسانے اس کو پھانسی دینے کے بعد تخلیق کئے گئے۔ وہ جے کے ایل ایف کی عسکریت پسندی کی علامت بن گیا۔ یہ واقعہ 1980 کی دہائی میں پیش آیا اور شورش پسندی کی داستانوں میں سے ایک ہے۔ جیش محمد کا دہشت گرد افضل گرو کی زندگی بھی تنازعات سے بھرپور ہے لیکن وہ اپنی سزائے موت کے بعد کشمیر کی آزادی کی علامت بن گیا۔ برہان وانی کی کہانی بھی ان جیسی ہی ہے اس کی موت کے بعد اسے اونچا مرتبہ حاصل ہوگیا ہے۔ موت سے پہلے اسے ہندوستانی ایجنٹ سمجھا جاتا تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT