Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / حق تلفی کی صورت میںسپریم کورٹ جاؤں گا : چندرا بابو نائیڈو

حق تلفی کی صورت میںسپریم کورٹ جاؤں گا : چندرا بابو نائیڈو

تلگو ریاستیں مودی پر بھاری ؟… مرکز سے جنگ کی تیاری
کے سی آر بھی تحفظات کے مسئلہ پر سپریم کورٹ سے رجوع ہونے تیار
حیدرآباد۔/20جنوری، ( سیاست نیوز) کیا ملک کی دونوں تلگو ریاستیں نریندر مودی حکومت کیلئے بھاری پڑیں گی ؟۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کی تائید کرنے والی بی جے پی کو یقین تھا کہ دونوں ریاستوں میں برسر اقتدار حکومتیں اس کے ساتھ رہیں گی۔ آندھرا پردیش میں تلگو دیشم پارٹی نے خود کو بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کے حلیف کی حیثیت سے شامل کرلیا جبکہ تلنگانہ میں چندر شیکھر راؤ نے این ڈی اے میں شمولیت کے بغیر ہی مرکز سے بہتر تعلقات کے ذریعہ مسائل کی یکسوئی کی حکمت عملی تیار کی۔ دونوں ریاستوں کو مرکز سے کافی اُمیدیں تھیں لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ دونوں حکومتوں کی اُمیدوں پر پانی پھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب جبکہ عام انتخابات کو دیڑھ سال باقی ہے دونوں ریاستوں کی حکومتوں نے مسائل کی یکسوئی کے سلسلہ میں مرکز سے ٹکراؤ کا رویہ اختیار کرنے کی ٹھان لی ہے۔ اپنے اپنے مسائل پر چندرا بابو نائیڈو اورکے سی آر نریندر مودی حکومت سے آر پار کی جنگ کی تیاری میں دکھائی دے رہے ہیں۔ دونوں ریاستوں کو شکایت ہے کہ مرکز کا رویہ ناانصافی اور حق تلفی پر مبنی ہے۔ آندھرا پردیش کی تقسیم کے وقت تنظیم جدید قانون میں دونوں ریاستوں کے ساتھ جو وعدے کئے گئے تھے ان پر عمل آوری میں مرکز ناکام ہوچکا ہے۔ تقسیم کے وقت دونوں ریاستوں کو ترقی کیلئے مختلف شعبوں میں مرکز سے رعایت اور امداد کا پیشکش کیا گیا تھا۔ اسے محض اتفاق ہی کہا جائیگا کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش دونوں کے چیف منسٹرس نے مرکز کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی دھمکی دی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دونوں کے مسائل مختلف ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ اگر مرکز آندھرا پردیش کو ضروری امداد کی فراہمی میں ناکام رہتا ہے تو وہ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے سے گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے نیتی آیوگ کے نائب صدرنشین راجیو کمار کے اس بیان پر ناراضگی کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ریاست کو مرکز کی جانب سے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے اور ریاست کو پراجکٹس کی تکمیل اپنے خرچ پر کرنی چاہیئے۔ اس متنازعہ ریمارک پر تلنگانہ کے چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں کوئی تقابل نہیں ہے۔ چندرابابو نائیڈو نے کہا کہ انہیں کے سی آر کے ریمارک سے تکلیف پہنچی ہے۔ انہوں نے کے سی آر کے اس دعویٰ کو غلط بتایا کہ آندھرا کے حکمرانوں نے تلنگانہ کو تباہ و تاراج کردیا۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ آندھرا پردیش کو مرکز سے معاشی امداد کی ضرورت ہے۔ حالیہ عرصہ میں چندرا بابو نائیڈو نے مرکزی حکومت کے رویہ پر کئی مرتبہ اعتراض جتایا۔ حکومت میں شامل تلگودیشم کے وزراء بھی خود کو بے بس محسوس کررہے ہیں۔ ایسے میں آندھرا پردیش کے مفادات کی تکمیل کیلئے نائیڈو کے پاس ٹکراؤ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں رہ جاتا۔ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ نائیڈو آئندہ انتخابات میں بی جے پی کے ساتھ اپنی دوستی ختم کرسکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مرکز سے مطالبات کی تکمیل کیلئے نائیڈو کیا موقف اختیار کریں گے اور لڑائی کا اُن کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ دوسری طرف چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر سپریم کورٹ سے رجوع ہونے اور نئی دہلی میں دھرنا منظم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وہ ایک سے زائد مرتبہ تحفظات کے حق میں سپریم کورٹ سے منظوری حاصل کرنے کا دعویٰ کرچکے ہیں۔ تلنگانہ حکومت چاہتی ہے کہ مرکز سے خوشگوار تعلقات کے ذریعہ مسائل حل کرانا چاہتی ہے۔ مسلم تحفظات کا مسئلہ ایسا ہے کہ کے سی آر کو مرکز سے ٹکراؤ کی پالیسی اختیار کرنا ضروری ہوجائیگا۔ بی جے پی نے بھی تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کے خلاف اپنا مورچہ کھول دیا ہے۔ ان حالات میں دیکھنا یہ ہے کہ کیا کے سی آر واقعی مرکز سے لڑائی کریں گے اور پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں مسلم تحفظات کو لیکر ٹی آر ایس ارکان کا کیا موقف رہے گا۔ گزشتہ دنوں انڈیا ٹو ڈے کانکلیو میں کے سی آر نے کہا تھا کہ وہ تحفظات کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بڑی لڑائی لڑیں گے۔

TOPPOPULARRECENT