Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / حق تلفی کی کثرت، مسلم معاشرہ میں مسائل کی بنیاد

حق تلفی کی کثرت، مسلم معاشرہ میں مسائل کی بنیاد

جامعہ نظامیہ میں علمی مذاکرہ سے مولانا مفتی خلیل احمد اور اسکالرس کا خطاب

جامعہ نظامیہ میں علمی مذاکرہ سے مولانا مفتی خلیل احمد اور اسکالرس کا خطاب

حیدرآباد۔30مارچ (پریس نوٹ ) مفکر اسلام مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ نظامیہ نے کہا کہ آج مسلم معاشرہ میں جابجا جو مسائل نظر آرہے ہیں ‘ اس کی وجہ حق تلفی ہے ۔ میاں بیوی کے درمیان ‘ والدین اور اولاد کے درمیان اور رشتہ داروں کے درمیان حق تلفیاں عام ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے اختلافات اور نااتفاقیاں بڑھ گئی ہیں اور رشتوں کا احترام باقی نہیں رہا ۔ انہوں نے علماء سے کہا کہ علوم اسلامیہ کے حصول کا مقصد محض احکام شریعت سے واقفیت حاصل کرنا ہی نہیں بلکہ وہ ہر دور کے تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کریں ۔علوم اسلامیہ کے طالب علموں پر ضروری ہے کہ اپنی فکر کو وسیع کریں اور اپنے حالات زمانہ کے اعتبار سے اپنی علمی و عملی سرگرمیوں میں اضافہ کریں ۔ علوم اسلامیہ کے طالب علموں پر ضروری ہے کہ اپنی فکر کو وسیع کریں اور اپنے حالات زمانہ کے اعتبار سے اپنی علمی و عملی سرگرمیوں میں اضافہ کریں ۔مولانا مفتی خلیل احمد ازہد ہند جامعہ نظامیہ میں اصلاح معاشرہ کے عنوان سے منعقدہ علمی مذاکرہ سے صدارتی خطاب کررہے تھے ۔ اس مذاکرہ میں شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ مولانا محمد خواجہ شریف کے علاوہ شیوخ ‘ نائبین شیوخ ‘اساتذہ ‘ طلبہ و حفاظ ‘ طلبہ قدیم اور سامعین کی کثیر تعداد شریک تھی۔ مولانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں میڈیا کی اسلام مخالف سرگرمیوں کی وجہ سے اہل اسلام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاندین اسلام کاعلمی جواب دینے کی اہلیت حاصل کریں ۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے کہا کہ آج میاں بیوی کے درمیان اختلافات کی صورت میں ملک میں جو قانون موجود ہیں ‘ اس سے فائدہ کے بجائے نقصان ہورہا ہے جبکہ قانون اسلام میں میاں اور بیوی دونوں کے حقوق کا پورا لحاظ کیا گیا ہے ۔ خطاب کے آخر میں جامعہ نظامیہ کی مختلف علمی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی ۔ مولانا ڈاکٹر محمد سیف اللہ شیخ الادب جامعہ نظامیہ نے کثرت طلاق کے اسباب اور اس کاسدباب کے عنوان پر کہا کہ اسلام وقت ضرورت طلاق کی اجازت ضرور دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی بتادیا گیا کہ یہ کوئی قابل ستائش اور کوئی مستحسن فعل نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ایک سخت ناپسندیدہ اقدام ہے ۔ اس لئے ناگزیر ضرورت اور انتہائی مجبوری ہی میں یہ اقدام ہونا چاہیئے ۔حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز طلاق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی شریعت نے ایک طرف شوہر کے ذہن میں یہ بات بٹھائی کہ طلاق ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور دوسری طرف بیوی کو ہدایت کی کہ وہ بلاوجہ مرد سے طلاق کا مطالبہ نہ کرے ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو عورت بغیر کسی مجبوری کے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبو( بھی ) حرام ہے ۔ اس طرح اسلام میں بے انتہا ضروری صورت میں طلاق کی اجازت دی گئی ہے ۔

مولانا ڈاکٹر سید بدیع الدین صابری صدر شعبہ عربی عثمانیہ یونیورسٹی نے والدین اور اولاد کی باہمی ذمہ داری کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی اسلامی تربیت اسی وقت مکمل ہوگی جبکہ ماں باپ خود اسلامی آداب کا نمونہ بن جائیں اور بچے ان کی زندگی کے مختلف معمولات میں اسلام کا اثر ملاحظہ کریں ۔ گھر کا ماحول برائیوں سے پاک ہو‘ تاکہ بچے اپنی فطرت کے مطابق بڑوں کی تقلید کریں اور اسلام کا نقش ان کے دلوں میں قائم ہو ۔ آج ٹی وی ‘ سینما بینی کی کثرت نے مسلم نوجوانوں اور مرد وخواتین کی آنکھوں سے شرم وحیاء اور عفت کا وہ مقدس سرمایہ چھین لیا ہے جس کی حفاظت اسلام کی نگاہوں میں جان سے زیادہ اہم تھی ۔ ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ ایسے زہریلے عناصر سے اپنی نسل کی حفاظت کریں اور بچوں کے ناجائز مطالبات کو پورا کر کے خود کی آخرت کو تباہ نہ کریں ۔ مولانا ڈاکٹر محمد عبدالمعز صدر شعبہ عربی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کہاکہ ملت اسلامیہ کو صرف تقریر کرنے والے واعظین کی ہی ضرورت نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کی ضرورت ہے جو عصری اسلوب ‘ سائنٹفک انداز اور آج کی مروجہ زبانوں میں اسلام کا دفاع کرسکے ۔ آج علماء کے لئے انگریزی سے واقفیت ضروری ہے ۔ آج کے اسلوب میں نئے متکلمین پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ مدارس عربیہ کے نصاب میں بھی انگریزی دراسات مقارنتہ بین الادیان ‘ حواربین الادیان جیسے مضامین کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ مولانا سید ہاشم عارف پاشاہ قادری مولوی کامل جامعہ نظامیہ نے کہا کہ مسلم معاشرہ میں شادی بیاہ کے موقع پر بے جا رسم و رواج کی کثرت ہوگئی ہے ۔

اگر ان بے جارسوم و رواج کی وجہ سے فضول خرچی ہورہی ہو تو وہ سخت ناجائز ہے کیونکہ اسلام میں اسراف اور فضول خرچی کو شیطانی عمل اور ناشکری کا شیوہ بتایا گیا ہے ۔ شادی بیاہ کے موقع پر بیانڈ باجوں اور آتش بازی پر پانی کی طرح پیسہ بہا دیتے ہیں جو ناجائز ہے ۔ نکاح میں سادگی اختیار کرنا اسلام میں نہایت قابل تعریف بات ہے اور بے جا رسم و رواج سے بچنا نہایت ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو بے جا رسم و رواج سے بچنے اور گناہوں سے باز آنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ مولانا محمد فصیح الدین نظامی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ مولانا حافظ محمد عبید اللہ فہیم قادری ملتانی نے انتظامات کی نگرانی کی ۔

TOPPOPULARRECENT