Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / حق رازداری ‘ زندگی کے حق کی طرح بنیادی حق ‘ سپریم کورٹ

حق رازداری ‘ زندگی کے حق کی طرح بنیادی حق ‘ سپریم کورٹ

بنیادی حق نہ ہونے مرکز کا استدلال مسترد
آدھار کو سرکاری اسکیمات سے مربوط
کرنے کا پانچ رکنی بنچ جائزہ لے گی
لباس اور غذائی آداب کا حق

نئی دہلی 24 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک سنگ میل فیصلہ میں جس سے تمام ہندوستانیوں کی زندگیوں پر اثرات ہوسکتے ہیں سپریم کورٹ نے آج اتفاق رائے سے اعلان کیا کہ رازداری کا حق دستور کے تحت بنیادی حق ہے ۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی قیادت والی ایک نو رکنی دستوری بنچ نے یہ فیصلہ سنایا کہ رازداری کا حق در اصل زندگی کے حق اور شخصی آزادی کے حق کی طرح بنیادی حق ہے جس کا دفعہ 21 میں تحفظ کیا گیا ہے اور دستور کے مکمل تیسرے حصے میں بھی اس کا تذکرہ ہے ۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ انتہائی متنازعہ مسئلہ پر تھا جو ان درخواستوں پر سنایا گیا جن میں مرکزی حکومت کی جانب سے سماجی بہبود کی مختلف اسکیمات سے استفادہ کیلئے آدھار کو لازمی کردیا گیا تھا ۔ مرکزی حکومت نے عدالت میں استدلال پیش کیا تھا کہ حق رازداری کوئی بنیادی حق نہیں ہے جبکہ درخواست گذاروں کا استدلال تھا کہ جب کوئی ہندوستانی شہری اپنے بائیو میٹرکس اور دیگر شخصی تفصیلات حکومت کو پیش کرتا ہے اور اس مواد کو تجارتی تنظیمیں استعمال کرتی ہیں تو یہ حق رازاداری کی خلاف ورزی ہے ۔ یہ فیصلہ حق رازداری سے متعلق سوال پر صرف آدھار کی فراہمی تک محدود ہے ۔ جبکہ اس سوال پر کہ آیا آدھار کے لزوم سے حق رازداری متاثر ہوتا ہے یا نہیں اس پر عدالت کی پانچ رکنی بنچ فیصلہ کریگی جو اس طرح کی درخواستوں کی 2015 سے سماعت کر رہی ہے ۔

آج کے فیصلے میں بنچ میں شامل دوسرے ججس جسٹس جے چلمیشور ‘ جسٹس ایس اے بوبڈے ‘ جسٹس آر کے اگروال ‘ جسٹس آر ایف نریمان ‘ جسٹس اے ایم ساپرے ‘ جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ ‘ جسٹس ایس کے کول اور جسٹس ایس عبدالنظیر نے بھی اسی خیال کا اظہار کیا ہے ۔ نو ججس نے اتفاق رائے سے عدالت العظمی کے دو سابقہ فیصلوں کو مسترد کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ حق رازداری کی دستور میں کوئی گنجائش فراہم نہیں کی گئی ہے ۔ بنچ نے ایم پی شرما فیصلہ 1950 اور کھرک سنگھ 1960 فیصلے کو کالعدم کردیا ہے ۔ کھرک سنگھ فیصلہ چھ ججس نے اور ایم پی شرما فیصلہ 8 ججس نے سنایا تھا ۔ جسٹس کھیہر نے آج کے فیصلے کے اہم اقتباسات پڑھ کر سنائے اور کہا کہ ایم پی شرما اور کھرک سنگھ فیصلے کے بعد جو فیصلے سنائے گئے ہیں ان میں قانون کے موقف کو بہتر انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ فیصلہ سنانے سے قبل جسٹس کھیہر نے کہا کہ نو ججس میں کچھ ججس نے مختلف فیصلہ بھی کیا ہے ۔ اس فیصلے کو تین ہفتوں کے دوران چھ دن کی سماعت کے دوران فریقین کے مسلسل مباحث کی سماعت کے بعد محفوظ کرلیا گیا تھا ۔ مباحث کے دوران فریقین نے حق رازداری کو بنیادی حق قرار دینے کی تائید میں اور مخالفت میں اپنے اپنے دلائل پیش کئے تھے ۔ مباحث کے دوران کئی سینئر وکلا بشمول اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال ‘ اڈیشنل سالیسیٹر جنرل تشار مہتا ‘ اروند داتار ‘ کپل سبل ‘ گوپال سبرامنیم ‘ شیام دیوان ‘ آنند گروور ‘ سی اے سندرم اور راکیش دویدی نے فریقین کی جانب سے پیروی کی تھی ۔ درخواست گذاروں میں کرناٹک ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس کے ایس پٹا سوامی ‘ قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال کے پہلے صدر نشین میگ سیسے ایوارڈ یافتہ شاندار سنہا اور دوسرے شامل تھے جنہوں نے آدھار اسکیم کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ حق رازداری کے مغائر ہے ۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی شخص سے یہ کہے کہ اسے کیا کھانا اور کیا پہننا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT