Friday , November 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / حق کیلئے جدوجہد کرنا، حضرت امام حسین ؓ سے سچی محبت کی علامت

حق کیلئے جدوجہد کرنا، حضرت امام حسین ؓ سے سچی محبت کی علامت

بیدر۔7؍نومبر۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔کامل ایمان کیلئے اہلِ بیت اطہارؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت لازمی ہے ۔حدیث پاک ؐ ہے کہ جس نے حضرت حسین ؓ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ‘گویا جس نے اللہ سے محبت کی ۔حضرت سیدنا امام ِ حسینؓ اپنی اور اپنے رفقاء کی شہادتوں کے ذریعے اسلام کو بقا ء بخشی ۔یزیدی فتنہ نے عالمِ اسلام کو اپنے نرغہ میں لینا چاہااور طاقت کے زور پر بیعت لینے ناپاک کوشش کی تو اُس وقت یہی آلِ رسولؐ حضرت سیدنا امامِ حسینؓ اور ان کے پاکیزہ گھرانے والے رضوان اللہ اجمعین نے یزیدکے سامنے جبل استقامت بن کر سینہ سپر ہوگئے اور اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرکے دین ِحق کی حفاظت کی ۔ان خیالات کا اِظہار مولانا سید شاہ کلیم اُللہ حسینی بندہ نوازی المعروف کاشف بابا حیدرآباد نے سالانہ صندلِ شریف درگاہ حضرت مستان شاہ قادری چشتی اِفتخاری ؒ اور دینی درسگاہ مدرسہ گُلشنِ مستانہ کے افتتاح کے موقع پر کل شب خانقاہ حضرت ممدوحؒ ہلی کھیڑ (بزرگ) میں منعقدہ جلسہ عظمتِ اولیاء کو خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انھو ںنے دوکوڑی کے بعض نام نہاد مقررین پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ کربلا سیاسی یا تخت و تاج والا تھا تو حضرت سیدنا امام حسینؓ کربلا کے تپتے ریگزار میںاپنا گھر حتی کہ شیر خوار فرزند علی اصغر ‘بیمار فرزند اور خواتین کو اپنے ساتھ نہ لیجاتے ۔انھو ںنے فضیلت و عظمت اہلِ بیت ؓ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ بیتِ رسولؐ سے خلفائے راشدین و صحابہ کرام بے پناہ سچی محبت کرتے تھے مولانا نے واقعاتِ کربلا پر اور سیرت ِحضرت سیدنا امامِ حسین ؓ پر سیر حاصل روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر ہمیں حضرت سیدنا امامِ حُسین ؓ سے سچی محبت ہے تو ہمارے لئے لازمی ہے کہ ہم حق کیلئے جدو جہد کرناسیکھیں۔مولانانے مدرسہ گُلشنِ مستانہ کی بقا ء و ترقی کیلئے دعا کی‘اور حاضرین و مریدین حضرت ممدوحؒ سے اپنادست دراز کرنے کی تلقین کی ۔مولانا مفتی محمد فیاض الدین نظامی صدر مدرس مدرسۃ الہدیہ اور مولانا مفتی محمد عظیم احمد قادری انواری صدر مدرس مدرسہ معھد انوارالقرآن بیدر نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اولیائے اللہ کے آستانوں پر ہمیشہ فیوض و برکات کی رحمت برستی ہے ‘یہی وجہ ہے کہ آج حضرت مستانِ شاہ قادری افتخاریؒ کے آستانہ پر کثیر تعداد میں بلا لحاظ عقیدتمندان موجود ہیں ۔ہمیں چاہئے کہ اولیائے اللہ کے آستانوں پر حاضری دیں تاکہ روحانی فیوض و برکات حاصل ہوں ۔صوفیائے عظام ‘اور اولیائے اللہ کا مشن اولادِ آدم میں اقوت پیدا کرانا اور معبودِ حقیقی خالق و رب ِ کائنات اللہ عز و جل سے ان کے رشتے کو جوڑنا ہوتا ہے ۔ان کی خانقاہوں اور آستانہ ہمیشہ مرجع خلائق ہوتے ہیں ۔انھوں نے اپنی اولاد کو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔شہ نشین پر عبدالغنی شاہ قادری الچشتی افتخاری نامزد سجادہ نشین ‘شیخ معین الدین شاہ قادری الچشتی افتخاری ‘محمد متین شاہ قادری ‘ مولانا عبدالجلیل شاہ الچشتی افتخاری نظامی موجود تھے ۔مولانا سلیمان احمد رضوی امام و خطیب جامع مسجد ہلی کھیڑ(بزرگ)‘ مولانا شمیم اختر ‘محمد خلیل افتخاری ناندیڑ‘الحاج محمد عظیم الدین شاہ چندا ‘محمد جہانگیر حیدرآباد‘ڈاکٹرزبیر قمر دیگلوربحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کی ۔حمد باری تعالی و نعتِ رسول‘ اور منقبت کانذرانہ پیش کیا گیا۔قبل ِ ازین درگاہ حضرت مستان ِ شاہ قادری چشتی افتخاریؒ صندلِ مالی کی خصوصی رسومات سجادگان نے انجام دئیے ۔گلہائے عقیدت ‘سلام و نیاز فاتحہ تقسیم تبرکات عمل میں آئے رات دیر گئے ممتاز قوال ساز پر نعتیہ و منقبتی و عرفانی کلام پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔آج جلسہ جشنِ چراغاں کا اہتمام کیا گیا ۔مولانا سید سراج الدین نظامی مدرس غوثیہ عربک اسکول ہلی کھیڑ نے خطاب کیا اور نظامت کے فرائض بحسن ِ خوبی انجام دئیے ۔

TOPPOPULARRECENT