Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / حلب میں بسیں پہونچنے کے باوجود تخلیہ کے عمل میں تعطل

حلب میں بسیں پہونچنے کے باوجود تخلیہ کے عمل میں تعطل

مبصرین روانہ کرنے فرانس کی قرارداد پر اقوام متحدہ میں رائے دہی متوقع ، بشارالاسد کے حلیف روس نے ویٹو کا اعلان کردیا

حلب / اقوام متحدہ ۔ 18ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) حلب کے باغیوں کے زیرکنٹرول آخری حصے میں کئی درجن بسیں داخل ہوگیئں ہیں تاکہ پھنسے ہوئے ہزاروں افراد کا تخلیہ یقینی بنایا جاسکے ۔ یہ کارروائی جمعہ کو معطل کردی گئی تھی ۔ اس کے دوسرے دن بسوں کا قافلہ حلب میں داخل ہوگیا لیکن تخلیہ کا عمل اب تک بھی تعطل کا شکار ہے ۔ یہ علاقہ اب سرکاری فوج کے زیرکنٹرول ہے ۔ ریڈ کریسنٹ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کی نگرانی میں کئی بسیں پڑوسی علاقوں میں داخل ہوئی تاکہ مابقی جنگجوؤں اور ان کے ارکان خاندان کے علاوہ متاثرہ عوام کو منتقل کیا جاسکے ۔ فوجی ذرائع نے توثیق کی ہے کہ تخلیہ کی نئی معاملت طئے پائی ہے اور سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق 100 بسوں کے ذریعہ عوام کو حلب سے باہر لے جایا جائے گا ۔ تخلیہ بحال ہونے میں سب سے اہم رکاوٹ دو شیعہ دیہاتوں فوح اور کفرایہ سے عوام کے متوازی تخلیہ اور ان کی تعداد کے  بارے میں اتفاق رائے نہیں ہوسکا ۔

یہ دو اضلاع اور دیگر دو باغیوں کے ٹاؤنس زبدانی اور مدایہ اس وقت سرکاری کنٹرول میں آچکے ہیں ۔ اس دوران نیویارک میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا آج اجلاس منعقد ہونے والا ہے جس میں جنگ زدہ شہر حلب کے لیے اپنے مصبرین روانہ کرے یا نہ کرے، اس معاملے پر رائے دہی متوقع ہے۔روس حلب کیلئے محفوظ راستے دینے کو تیار ہے ۔فرانس نے تجویز پیش کی ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے شہر سے تخلیہ کے مرحلہ کی نگرانی کی جانی چاہیے۔ روس نے فرانس کے اس مسودہ قرارداد کو ویٹو کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ اقوام متحدہ میں روس کے سفیر ویٹالی چرکن نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ ہم اس قرارداد کو منظور ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ یہ تباہ کن ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ نگرانکاری کیلئے ہم خود اپنی تجاویز پیش کریں گے ۔ تاہم انہوں نے تفصیل نہیں بتائی ۔ ماسکو سنہ 2011 میں جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک شام کے متعلق چھ قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے۔فرانس نے ایک مسودہ جاری کیا تھا جس میں یہ کہا گیا ہے کہ کونسل حلب میں ابتر ہوتے ہوئے انسانی حالات کے متعلق تشویش رکھتا ہے جہاں لاکھوں افراد خطرے میں ہیں۔ٹھنڈ میں کپکپاتے اور بھوکے شہری باغیوں کے قبضے والے مشرقی علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ حفاظت کے ساتھ وہاں سے تخلیہ کے منتظر ہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران محصور شہر میں سرکاری افواج نے تیزی کے ساتھ پیش قدمی کی ہے اور کامیابیاں حاصل کی ہیں۔مختلف سرکاری اور باغیوں کے ذرائع سے یہ تصدیق ہوئی ہے کہ ان کے درمیان تخلیہ کا نیا معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت باغیوں کے زیرِ اثر اور حکومت کے کنٹرول میں دو دو قصبوں سے لوگوں کو نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔گذشتہ چند روز میں حلب سے تقریباً 6000 افراد نکل چکے ہیں تاہم  شہریوں کے تخلیہ کے دوران فائرنگ کے سبب تخلیہ روک دیا گیا تھا۔ متعدد حکومتی اور باغی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تخلیہ کا نیا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بموجب مشرقی حلب سے باغیوں اور عام شہریوں کے تخلیہ کو دوبارہ شروع کرنا۔  ادلیب صوبے میں باغیوں کے محاصرے میں شیعہ اکثریتی قصبوں فوح اور کفرایہ سے انسانی ہمدردی کی بنیادیوں پر لوگوں کو نکلنے دینا   لبنانی سرحد کے قریب حکومت کے محاصرہ میں دو قصبوں مدایہ اور زبدانی سے زخمیوں کے تخلیہ کی اجازت دینااس توقع پر 50 بسیں روانہ کی گئی ہیں جبکہ مزید گاڑیاں حلب کی راموسہ کراسنگ پر یکجا ہیں۔اقوام متحدہ کے مسودہ قرارداد میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ شام میں انسانی بنیادوں پر موجود اپنے کارکنوں کو وہاں پھر سے تعینات کرے تاکہ مناسب اور غیرجانبدارنہ طور پر حلب میں محصور شہریوں کو بحفاظت باہر نکالنے کے مرحلے کی نگرانی کرے۔

TOPPOPULARRECENT