حلف برداری تک انتظار کریں:شیوسینا

ممبئی ۔ 28 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا نے آج واضح کیا کہ اس نے بی جے پی سے کسی مخصوص قلمدانوں کا مطالبہ نہیں کیا ہے اور سابق حلیف جماعت کی تائید کے بارے میں پارٹی نے کہا کہ چیف منسٹر کی حلف برداری تک انتظار کیجئے ۔ شیوسینا رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے آج صدر اودھو ٹھاکرے سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ب

ممبئی ۔ 28 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا نے آج واضح کیا کہ اس نے بی جے پی سے کسی مخصوص قلمدانوں کا مطالبہ نہیں کیا ہے اور سابق حلیف جماعت کی تائید کے بارے میں پارٹی نے کہا کہ چیف منسٹر کی حلف برداری تک انتظار کیجئے ۔ شیوسینا رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے آج صدر اودھو ٹھاکرے سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں جھوٹی اطلاعات پھیلائی جارہی ہیں کہ ہم نے بی جے پی کی تائید کے عوض ڈپٹی چیف منسٹر کا عہدہ یا بعض اہم قلمدانوں کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کو ایسی بے بنیاد افواہیں نہیں پھیلانی چاہئے۔ ہم نے اب تک ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تشکیل حکومت میں شیوسینا سابق حلیف بی جے پی کی تائید کرے گی، انہوں نے خاموشی اختیار کرلی۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ جب بھی موزوں وقت آئے گا ہم اپنی بات واضح کردیں گے ۔ فی الحال 31 اکتوبر کو چیف منسٹر کے حلف لینے تک انتظار کیجئے ۔

واضح رہے کہ شیوسینا نے کل پہلی مرتبہ اپنے ترجمان سامنا میں بی جے پی زیر قیادت مخلوط حکومت کی واضح طور پر تائید کی تھی۔ اس کے علاوہ ملک کے تہذیبی منظر کو تبدیل کرنے پر وزیراعظم نریندر مودی کی سراہنا کی تھی۔ سینئر شیوسینا لیڈر منوہر جوشی نے بھی آج ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی اور بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ عمومی نوعیت کے مسائل پر بات چیت ہوئے اور انہوں نے سیاست پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یہ مخصوص ملاقات نہیں تھی چونکہ وہ ادھو ٹھاکرے کے رکن خاندان کی طرح ہیں، اس لئے ایسی ملاقاتیں اکثر ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک تائید کا معاملہ ہے بی جے پی کو پہل کرنی ہوگی ، اس کے بعد ہم فیصلہ کریں گے ۔شیوسینا نے پہلے بھی مہاراشٹرا میں بی جے پی حکومت کی تائید کا اشارہ دیا ہے تاہم اس نے واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کیا اور کہا کہ نئے چیف منسٹر کی حلف برداری کے بعد وہ اپنا موقف واضح کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT