Wednesday , January 17 2018
Home / اضلاع کی خبریں / حلقہ اسمبلی جگتیال میں سہ رخی مقابلہ

حلقہ اسمبلی جگتیال میں سہ رخی مقابلہ

جگتیال21 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) عام انتخابات میں حلقہ جگیتال سے جملہ 11 امیدواران میدان میں ہیں لیکن اصل مقابلہ تین اہم پارٹیوں کے امیدوارن کے درمیان ہے ۔ عوام کو راغب کرنے کیلئے امیدواران سرگرم انتخابی مہم چلا رہے ہیں ۔ کانگریس پارٹی امیدوار ٹی جیون ریڈی اور تلگودیشم سے سابقہ رکن اسمبلی ایل رمنا اور ٹی آر ایس پارٹی سے ڈاکٹر ایم

جگتیال21 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) عام انتخابات میں حلقہ جگیتال سے جملہ 11 امیدواران میدان میں ہیں لیکن اصل مقابلہ تین اہم پارٹیوں کے امیدوارن کے درمیان ہے ۔ عوام کو راغب کرنے کیلئے امیدواران سرگرم انتخابی مہم چلا رہے ہیں ۔ کانگریس پارٹی امیدوار ٹی جیون ریڈی اور تلگودیشم سے سابقہ رکن اسمبلی ایل رمنا اور ٹی آر ایس پارٹی سے ڈاکٹر ایم سنجئے کمار ہیں ۔ ٹی آر ایس کے امیدوار ڈاکٹر ایم سنجے کمار پہلی مرتبہ سیاسی میدان میں اترے ہیں ۔ عوام اپنی پہچان کے ذریعہ انتخابی مہم کا آغاز کئے ۔ حلقہ جگتیال میں تین منڈلس ہیں جس میں 80 مواضعات ہیں جس میں جگتیال منڈل میں بلدیہ کے 38 وارڈس ہیں ۔ ہر روز اپنی انتخابی مہم کے ذریعہ عوام سے ملاقات کرتے ہوئے اپنے کامیابی کیلئے ٹی آیر ایس پارٹی کے حق میں ووٹ کیلئے عوام کو راغب کر رہے ہیں ۔ اسی طرح کانگریسی امیدوار سابقہ ریاستی وزیر ٹی جیون ریڈی بھی سرگرم انتخابی مہم چلا رہے ہیں ۔ گذشتہ 30 سال سے اپنی سیاسی زندگی میں پانچ مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوکر دو مرتبہ وزارتی عہدے پر فائز ہوئے ہیں ۔ اپنی 30 سالہ سیاسی تجربہ رکھنے والے ٹی جیون ریڈی اس بار اپنی کامیابی کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کیونکہ گذِتہ انتخابات میں آر اینڈ بی وزیر رہنے کے باوجود انہیں رمنا کے ہاتھوں ہمدردی کی لہر میں شکست کا سامنا ہوا ۔ اس بار تلنگانہ لہر کس امیدوار کو کامیاب بنائے گی اور کس کو لے ڈوبے گی یہ وقت ہی بتائے گا ۔ کیونکہ تلنگانہ کے قیام میں روکاٹ پیدا کرنے آخری لمحات تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے والی تلگودیشم پارٹی کے امیدوار ایل رمنا فرقہ پرست جماعت بی جے پی سے مفاہمت کے بعد اقلیتوں کی تائید سے محروم ہوگئے ہیں ۔ گذشتہ انتخابات میں ایل رمنا نے کانگریسی امیدوار سابہ ریاستی وزیر ٹی جیون ریڈی کو تقریباً 30 ہزار سے زائد اکثریت سے شکست دی تھی ۔ اس بار سہ رخی مقابلہ ہے ۔ تقریباً 2 لاکھ سے زائد ووٹرس ہیں ۔ جس میں مسلم ووٹرس تقریباً 20 ہزار سے زائد ہیں جو بادشاہ گر کا موقف رکھتے ہیں ۔ مسلم ووٹرس کو راغب کرنے کیلئے اہم سیاسی پارٹیوں کے امیدوار اپنی پوری کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT