Friday , September 21 2018
Home / اضلاع کی خبریں / حلقہ اسمبلی ظہیر آباد میں چونکا دینے والے نتائج متوقع

حلقہ اسمبلی ظہیر آباد میں چونکا دینے والے نتائج متوقع

ظہیرآباد ۔ 17 ۔ اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) وطن عزیز کے نقشہ پر 2 جون 2014 ء سے نمودار ہونے والی 29 ویں ریاست تلنگانہ کی پہلی اسمبلی کیلئے 30 اپریل کو منعقد ہونے والے عام انتخابات ، ملک میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کے حامل ہوگئے ہیں جو یہ طے کریں گے کہ نئی ریاست تلنگانہ کا اقتدار کس پارٹی کے حوالے کیا جائے گا

ظہیرآباد ۔ 17 ۔ اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) وطن عزیز کے نقشہ پر 2 جون 2014 ء سے نمودار ہونے والی 29 ویں ریاست تلنگانہ کی پہلی اسمبلی کیلئے 30 اپریل کو منعقد ہونے والے عام انتخابات ، ملک میں تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کے حامل ہوگئے ہیں جو یہ طے کریں گے کہ نئی ریاست تلنگانہ کا اقتدار کس پارٹی کے حوالے کیا جائے گا ۔ اب جبکہ حلقہ اسمبلی ظہیرآباد کے انتخابات میں (11) امیدوار انتخابی میدان میں موجود رہنے سے انتخابی منظرنامہ بالکل واضح ہوگیا ہے ۔ انتخابات میں حصہ لینے والی تین اہم سیاسی جماعتوں ٹی آر ایس ، تلگودیشم اور کانگریس کے امیدواروں نے اپنی اپنی انتخابی مہم میں شدت پیدا کردی ہے ۔ 2009 ء میں منعقدہ انتخابات میں 60,572 ووٹ حاصل کرنے کے باوجود اپنے حریف کانگریسی امیدوار ڈاکٹر جے گیتا ریڈی کے مقابلے میں صرف 2186 ووٹوں کی معمولی اکثریت سے شکست سے دوچار ہونے والے تلگودیشم امیدوار وائی نرونم اس مرتبہ اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں جبکہ کانگریسی امیدوارہ ڈاکٹر جے گیتا ریڈی اس حلقہ سے دوبارہ منتخب ہونے کیلئے سیاسی وفاداری تبدیل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں مصروف دکھائی دے رہی ہیں ۔ ان دونوں امیدواروں کے برخلاف حلقہ اسمبلی ظہیرآباد سے پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لے رہی ٹی آر ایس کے امیدوار کے نامک راؤ ، کانگریس اور تلگودیشم کے امیدواروں کو انتخابی میدان میں پچھاڑنے کیلئے اپنی ساری توانائیاں صرف کررہے ہیں اور حیرت انگیزطور پر وہ سماج کے تمام طبقات کے رائے دہندوں کے پسندیدہ امیدوار کی حیثیت سے ابھررہے ہیں ۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ حلقہ اسمبلی ظہیرآباد کی 57 سالہ طویل انتخابی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس حلقہ کو ریاست کے دیگر حلقہ جات کے مقابلے میں صرف 6 شخصیتیں ریاستی اسمبلی میں نمائندگی کے اعزاز سے سرفراز ہوئیں ۔ جن میں آنجہانی گنڈے راؤ ، آنجہانی ایم با گاریڈی ، پی نرسمہواں ریڈی ، سی باگیا ، محمد فریدالدین اور ڈاکٹر گیتا ریڈی شامل ہیں ۔ جب کبھی اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کے حساس مسائل سے کسی جماعت نے کھلواڑ کرنے کی کوشش کی ہے تو اس جماعت کے امیدواروں کو شکست سے دوچار کرنے کا مسلم رائے دہندے ہنر بھی رکھتے ہیں ۔

بابری مسجد کی شہادت کے پش منظر میں 1994 ء میں منعقدہ انتخابات میں تلگودیشم امیدوار سی باگنا کی اپنے قریبی حریف کانگریس کے امیدوار کے مقابلے میں ( 34,970 ) ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی اس کا بین ثبوت ہے ۔ انتخابات میں حصہ لینے والی دیگر سیاسی جماعتیں بی ایس پی ، سی پی آئی ایم اور وائی ایس آر سی پی کے امیدواروں نے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں ۔ تاہم اصل مقابلہ ٹی آر ایس ، تلگودیشم اور کانگریس کے مابین ہے ۔ تینوں امیدوار اپنی کامیابی کیلئے اس حلقہ میں فیصلہ کن موقف رکھنے والے مسلم رائے دہندوں پر انحصار کئے ہوئے ہیں ۔ جہاں تک حلقہ اسمبلی ظہیرآباد کے رائے دہندوں کے انتخابی رحجان کا تعلق ہے ، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ان کی دو تہائی اکثریت اقتدار کی تبدیلی کے حق میں نظر آرہی ہے ۔ بہرحال حلقہ اسمبلی ظہیرآباد کیلئے تاحال منعقدہ (13) مرتبہ انتخابات کے موقع پر دو رخی مقابلہ کا سامنا کرنے والے رائے دہندے اس مرتبہ ٹی آر ایس کے انتخابی میدان میں اترنے سے سہ رخی مقابلہ کا مشاہدہ کریں گے جو انتہائی دلچسپ بھی ہوگا اور چونکا دینے والا بھی ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT