Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حلقہ اسمبلی قطب اللہ پور حدود میں آبی و فضائی آلودگی تشویشناک

حلقہ اسمبلی قطب اللہ پور حدود میں آبی و فضائی آلودگی تشویشناک

پولیوشن کنٹرول بورڈ اقدامات کرنے سے قاصر ، عنقریب تلگو دیشم کے احتجاج کا انتباہ
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز): رکن اسمبلی مسٹر کے پی ویویک گوڑ ( تلگو دیشم ) نے پولیوشن کنٹرول بورڈ پر الزام عائد کیا کہ وہ حلقہ اسمبلی قطب اللہ پور کے حدود میں واقع نظام پیٹ ، میاں پور ، باجوپلی ، جیڈی میٹلہ ، گاندھی نگر کے علاقوں میں موجود مختلف کمپنیوں بالخصوص فارما کمپنیوں سے خارج ہونے والے فاضل اور زہریلے مادوں سے پیدا ہونے والی آبی اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے احتیاطی اقدامات پر عمل آوری میں یکسر ناکام ہوچکا ہے جس کے نتیجہ میں مذکورہ علاقوں کے عوام کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔ وہ آج یہاں پریس کانفرنس کو مخاطب تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ متذکرہ علاقوں میں آلودگی کی وجہ سے عوام کی اکثریت بے شمار مہلک امراض میں مبتلا ہورہی ہے اس کے باوجود پولیوشن کنٹرول بورڈ ضروری اقدامات کرنے سے قاصر ہے ۔ انہوں نے بورڈ کے عہدیداروں کو بھی اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کمپنیوں کے مالکین سے مبینہ طور پر لاکھوں روپئے رشوت حاصل کرتے ہوئے ضروری اقدامات میں غفلت اور لاپرواہی کرتے ہوئے عوام کی زندگیوں سے کھلواڑ کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکین کو صرف کمپنیوں سے کروڑوں روپیوں کی آمدنی حاصل کرنے کی فکر ہے جب کہ عوام کی صحت سے متعلق انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ باجوپلی کی میٹاس ہیل کاونٹی اونرس اسوسی ایشن کی جانب سے بورڈ سے متعدد مرتبہ نمائندگی کی گئی لیکن کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ اسوسی ایشن کی جانب سے سنٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ کو بھی شکایت روانہ کی گئی تھی اور سنٹرل بورڈ نے ریاستی پولیوشن کنٹرول بورڈ کو یہ ہدایت دی تھی کہ وہ اس سلسلہ میں ضروری اقدامات کرے اس کے باوجود اسٹیٹ بورڈ نے تاہم کچھ نہیں کیا ۔ انہوں نے پولیوشن کنٹرول بورڈ کے رویہ کے خلاف عنقریب تلگو دیشم پارٹی کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاجی پروگرامس منعقد کرنے کے علاوہ اس مسئلہ کو ہیومن رائٹس کمیشن سے بھی رجوع کیا جائے گا ۔ اس موقع پر تلگو دیشم قائدین مسرز محمد صدیق ، رنگاراؤ ، عبدالقدیر ، محمد فیروز ، پی ستیہ نارائنا ، محمد عرفان اور شریمتی جی مارتھا کرشنا بھی موجود تھے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT