Friday , November 16 2018
Home / اضلاع کی خبریں / حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ میں چار رخی مقابلہ

حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ میں چار رخی مقابلہ

ہر ایک امیدار کو کامیابی کا یقین، مسلم رائے دہندوں کا اہم رول

ہر ایک امیدار کو کامیابی کا یقین، مسلم رائے دہندوں کا اہم رول
نارائن کھیڑ۔/27اپریل، ( ایم اے رشید سلفی ) نارائن کھیڑ حلقہ اسمبلی کی نشست انتہائی اہمیت کی حامل اور کانگریس کیلئے وقار کی نشست سمجھی جاتی ہے۔ جہاں پر 30اپریل کو انتخابات منعقد شدنی ہیں۔ چنانچہ حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ میں اس مرتبہ 2014 ء میں منعقدہ اسمبلی انتخابات جو ہندوستان کی آزادی کے بعد 14 ویں مرتبہ اور ریاست علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے اعلان کے بعد ریاست تلنگانہ کے پہلے اسمبلی انتخابات ثابت ہوں گے اور اس مرتبہ منعقد شدنی انتخابات حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ کی نشست کیلئے 8امیدوار انتخابی میدان میں ہیں جن میں مسٹر پی کشٹا ریڈی ( کانگریس) جن کا امتیازی نشان ’ ہاتھ ‘ ہے ۔ مسٹر ایم وجئے پال ریڈی ( تلگودیشم ) جن کا امتیازی نشان ’ سیکل ‘ ہے۔ مسٹر ایم بھوپال ریڈی ( ٹی آر ایس ) جن کا امتیازی نشان ’ کار ‘ ہے۔ مسٹر اپا راؤ شیٹکار وائی ایس آر کانگریس جن کا امتیازی نشان ’ فیان ‘ ہے۔ مسٹر وی تکا رام ( ایم سی پی آئی یو ) جن کا امتیازی نشان ’ کیارم بورڈ ‘ ہے۔ مسٹر راجیو کمار ماتھور (عام آدمی پارٹی ) جن کا امتیازی نشان ’ جھاڑو ‘ ہے۔ مسٹر ہنمنڈلو کرنجی ( اکھل بھارتیہ جن سنگھ ) جن کا امتیازی نشان ’ ناریل ‘ ہے۔ مسٹر نگیش یادو ( آزاد ) جن کا امتیازی نشان ’ آٹو رکشا‘ شامل ہیں انتخابات لڑرہے ہیں۔ حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور مذکورہ تمام امیدواروں کی جانب سے گھر گھر پہنچ کر رائے دہندوں سے ملاقات کرتے ہوئے حلقہ اسمبلی نارائن کھیڑ کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق مختلف انداز میں رائے دہندوں کو تیقنات دیتے ہوئے انہیں بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیلیں کرنے اور رائے دہندوں کو رجھانے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ اس حلقہ میں 4رخی مقابلہ کا امکان ہے اور تمام امیدوار اپنی اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے مختلف انداز میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ اصل مقابلہ چار امیدواروں جن میں کانگریس کے امیدوار مسٹر پی کشٹا ریڈی، تلگودیشم امیدوار مسٹر ایم وجئے پال ریڈی، ٹی آر ایس امیدوار مسٹر ایم بھوپال ریڈی اور وائی ایس آر کانگریس امیدوار مسٹر اپا راو شیٹکار شامل ہیں کے درمیان ہوگا، اور اس حلقہ میں مسلم رائے دہندوں کی کثیر تعداد ہے اور یہاں پر مسلم رائے دہندوں کا موقف بادشاہ گر کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلم رائے دہندوں کے فیصلہ کن ووٹ کسی بھی امیدوار کو کامیاب بنانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT