Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں 18,600 بوگس رائے دہندوں کا اندراج

حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں 18,600 بوگس رائے دہندوں کا اندراج

ریٹرننگ آفیسر سے مجید اللہ خان فرحت و امجد اللہ خالد کی نمائندگی ۔ چندرائن گٹہ میں 21,200 بوگس نام ۔ سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

ریٹرننگ آفیسر سے مجید اللہ خان فرحت و امجد اللہ خالد کی نمائندگی ۔ چندرائن گٹہ میں 21,200 بوگس نام ۔ سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

حیدرآباد 3 اپریل ( سیاست نیوز ) مجلس بچاؤ تحریک نے حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں 18,600 فرضی رائے دہندگان کے ناموں کے اندراج پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ریٹرننگ آفیسر یاقوت پورہ مسٹر وندن کمار کو ایک شکایت حوالے کی اور ان فرضی رائے دہندوں کے فوری اخراج کا مطالبہ کیا ۔ مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان جناب مجید اللہ خان فرحت اور کارپوریٹر اعظم پورہ جناب امجد اللہ خاں خالد نے آج ریٹرننگ آفیسر سے ملاقات کرتے ہوئے فہرست رائے دہندگان کی نقولات پیش کیں جن میں ایک رائے دہندے کے الگ الگ پتوں پر ایک سے زائد مقامات پر اندراج کا ثبوت پیش کیا ۔ اس سے قبل مجلس بچاؤ تحریک کے صدر ڈاکٹر قائم خان نے بھی چیف الیکٹورل آفیسر آندھرا پردیش مسٹر بنور لال اور ضلع الیکشن آفیسر و کمشنر بلدیہ مسٹر سومیش کمار کو حلقہ چندرائن گٹہ میں 21,200 بوگس رائے دہندوں کے اندراج کی شکایت اور ثبوت پیش کئے تھے ۔ یہ ثبوت حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ کے ریٹرننگ آفیسر کو بھی پیش کئے گئے تھے ۔ ایم بی ٹی قائدین مجید اللہ خاں فرحت اور امجد اللہ خاں خالد نے کہا کہ حیدرآباد حلقہ لوک سبھا میں ایک لاکھ فرضی ووٹرس کا اندراج کیا گیا ہے ۔ تحقیقات پر پتہ چلا کہ مقامی جماعت نے بلدیہ کے الیکشن سے متعلق عملہ کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے جمہوریت کے نام پر دھوکہ دہی کی یہ سازش رچی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مجلس نے عوامی رائے حاصل کرنے کی بجائے بوگس رائے دہی کے ذریعہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی سازش رچی تھی تاہم مجلس بچاؤ تحریک کے ماہرین کی ایک ٹیم نے اس سازش کا بروقت پتہ چلالیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ بلدیہ کے الیکشن عملہ اور سیاسی جماعت کے کارکنوں کی ساز باز کے ذریعہ ہزاروں غیر مقامی افراد کے ناموں کا بھی فہرست رائے دہندگان میں اندراج کرواتے ہوئے انہیں شناختی کارڈز بھی جاری کروادئے گئے ہیں۔ امجد اللہ خاں خالد کارپوریٹر نے کہا کہ ایم بی ٹی کو گذشتہ انتخابات میں اسی طرح کی بوگس رائے دہی اور دھاندلیوں کے ذریعہ شکست دی گئی اور اس بار جبکہ تحریک کے امیدواروں کے حق میں ایک لہر چل رہی ہے مخالفین نے عوامی رائے کا سامنا کرنے کی بجائے بوگس رائے دہی کا سہارا لینے کی کوشش کی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ 2009 کے انتخابات کے بعد تحریک نے ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی ۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ اس سارے اسکام کی سی بی آئی کے ذریعہ تحقیقات کروائی جائیں اور سیاسی مافیا کا پردہ فاش کیا جائے ۔ اس کے علاوہ ان دھاندلیوں میں سرگرم رول ادا کرنے والے بلدیہ کے عملہ کو معطل کرکے کارروائی کی جائے ۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ ایم بی ٹی نے بوتھ لیول آفیسرس کے تقررات میں دھاندلیوں کا پردہ فاش کیا تھا اور الیکشن کمیشن نے ان بوتھ لیول آفیسرس کو برخواست کیا تھا ۔ اسی طرح اب بوگس ناموں کو بھی فہرست سے خارج کرکے سی بی آئی تحقیقات کروائی جانی چاہئیں۔

TOPPOPULARRECENT